اے رہنمائے جادۂ ایماں خوش آمدید | الواعظ نزار فرمان علی |PASSUTIMESاُردُو

تراے رہنمائے جادۂ ایماں خوش آمدید | الواعظ نزار

فرمان علی |PASSUTIMESاُردُو

  ۔”پس تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کرونگا،اور تم میرا شکر کرو اور ناشکری نہ کرو‘‘(القرآن)۔

سرکارنور مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امام کے پہلے شاندار تاریخی دورۂ شمالی علاقہ جات اور دیدارمبارک کی فیوض و برکات کے یوم سعید پر آپ سب کو دلی مبارکباد۔خدائے مہربان کی بے پناہ عنایتوں کے طفیل آج سے تقریباً 55 سال قبل ہمارے درمیان ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت تشریف لائی جو علم وعمل،صدق وصفا ،جودوسخا کا مثالی نمونہ ہے،جس کا چہرہ پُر نور،دست مبارک بلا امتیاز عنایتوں سے بھرپور ،جس کے قدم مائل بہ خدمت ،ان کا دل ملت کے لئے دھڑکتا ہو،جن کا موضوع سخن اسلام و انسانیت،جس کا تبسم ہر سو مسرتیں بکھیرتا ہو،ایسی شخصیت جس کے افکار عالیہ علم و حکمت کوسمت دے،جس کی دانش وبینش چیلنجز کے طوفانوں کو مواقعوں میں بدل دے،آپ کے فلاح امت و بقائے انسانیت کے ایجنڈے سے اپنے تو اپنے غیر مسلم بھی مستفیض ہو،جو مشرق و مغرب میں انفرادیت رکھتا ہو،یقیناًہمہ جہت اسم بامسما شخصیت،ذریت اہل بیت ؑ کے انچاسویں مورثی امام حضرت نور مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امام ہز ہائنس آغاخان چہارم کی تقریباً 5 عشرے قبل یعنی20 تا 26 اکتوبر1960 ء کے دوران سرزمین شمال پر قدم مبارک رکھا۔ان 6 روزہ روح پرور،ایمان افروز و ثمر آور تفصیلی دورے کی لازوال خوشی اور بے مثال یاد میں گلگت بلتستان کی شیعہ امامی اسماعیلی برادری انتہائی عقیدت و احترام اور محبت و خلوص دل سے مناتی ہے۔اس عظیم تاریخی دورے کی بدولت مریدوں کی مادی و روحانی معیار زندگی میں جو انقلابی تبدیلیاں آنا شروع ہوئی اس کی شکر گزاری و احسان شناسی ،قلبی و عملی طور پربحضور قاضی الحاجات و رافع الدرجات رب کریم پیش کرنے کیلئے جماعت خانوں میں فرائض و عبادات کے ساتھ ساتھ خصوصی مجالس و محافل کا اہتمام کیا جاتاہے۔جس میں جماعت بڑھ چڑھ کر شرکت کرتی ہے ،جہاں پر منتخب آیات و سورتوں،دعا و خصوصی تسبیحات حمد ، نعت و منقبت شریف خشوع خضوع کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں تاکہ خدائے بزرگ و برتر کی عطا کردہ بے پناہ جسمانی و روحانی عنایات و مہربانیوں کا لاکھ لاکھ شکرانہ ادا کرتے ہیں۔ پہاڑ چراغاں سے جگمگا اٹھتے ہیں،فضائیں ذکر خدا و حبیب خدا سے معطر ہوجاتی ہیں،گھر ،محلے اور گلیاں سلامتی و خیر اندیشی کی صدائیں دیتی ہے جبکہ علماء و اعظین کرام قرآن و حدیث اور آئمہ اطہارؑ کی تعلیمات کی روشنی میں مقصد حیات پر غور کرنے ،حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بطریق احسن ادائیگی کے ذریعے دنیا و عاقبت سنوارنے اور دوسروں کے حقوق اور اپنے فرائض کے حوالے سے آگاہی دی جاتی ہے اور اپنے بے مثال و یگانہ روحانی پیشوا کے زیر سایہ ان کے تقرب سے منور چھ دنوں کو آیام نور قرار دیتے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ آپ کی متحرک و دانشورانہ ومشفقانہ روحانی قیادت نے مریدوں کو غربت کی یاس سے خوشحالی کے اوج کی طرف،جہالت کے نار سے علم کے نور کی طرف، نقاحت کے عفریت سے تندرستی و توانا زندگی تک،عداوت و دشمنی کے خزاں سے الفت و دوستی کے بہار تک،جمود و سکوت کے دلدل سے نکال کرحرکت و ترقی کی کھلی شاہراہ پر گامزن کردیا۔گویا کایا ہی پلٹ ڈالی۔جیسا کہ حکیم پیر ناصر خسرو فرماتے ہیں’’اے میرے مرشد کامل آپ کی دو چیزوں کے طفیل دنیا کی دو چیزیں معزول وچکی ہیں یعنی آپ کے علم سے جہالت ،آپ کی سخاوت سے غربت معزول ہوچکی ہے‘‘،سبحان اللہ
1960ء کی دہائی میں جبکہ علاقائی و بین الاقوامی سطح پر کئی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھی ۔آپ نے یہاں آنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا جب آپ تخت امامت کی ذمہ داریاں سنبھالے چند سال گزرے تھے ۔ایک طرف آپ عالمی سطح پر پھیلے خدمت خلق کے ادارہ جاتی و انتظامی معاملات میں مصروف تو دوسری طرف کئی ایشائی ، افریقی و یورپی ممالک میں کی جماعتوں کی طرف سے دورے کی دعوت دی جاچکی تھی ۔آپ نے عادل و شفیق باپ کی طرح اپنے لاکھوں مریدوں کے مقابلے میں شمالی علاقہ جات کے چند ہزار مریدوں سے ملاقات کو ترجیح دی چنانچہ آپ نے اپنے روحانی بچوں اور اہل شمال کے مسائل اور ان کی ضروریات کا بذات خود مشاہدہ کرنے اور ان کا فوری مداوا کا بیڑا اٹھا لیا اس دورے کی خاص بات یہ تھی کہ اُس وقت تک اس خطے میں کوئی ملکی و عالمی اہم شخصیت تشریف نہیں لا سکی تھی۔ایسی کیفیت میں آپ کی آمد بابرکت ثابت ہوئی آپ کے کامیاب دورے کے بعد یہاں کے سماجی و معاشرتی ،معاشی و تعلیمی حالات میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہونے لگی۔صدر ،وزیراعظم اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کی آمد بڑے پیمانے پر انفراسٹکچر ،تعمیر جس کے نتیجے میں پڑوسی ممالک سے بہتر اور مضبوط تعلقات استوار ہونے سے صنعتی،تجارتی و کارباری سرگرمیاں پروان چڑھنے لگی۔ آپ نے یہاں کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنی پدرانہ مادرانہ شفقت سے یہاں پر پھیلے غربت ،جہالت ،بیماری ، پسماندگی اور بے روزگاری کے خاتمے کیلئے گلگت بلتستان کے طول وعرض میں مفاد عامہ پر مبنی فلاح وبہود اور سماجی ترقی کے ٹھوس،مختصر و طویل مدت منصوبوں کا آغاز فرمایا۔ جس کے دوررس نتائج شاندار ترقی و خوشحالی کی صورت میں روز روشن کی طرح عیاں ہے۔اس حوالے سے آپ کے امامتی و جماعتی اداروں بلخصوص آغاخان ہیلتھ سروس،آغاخان ایجوکیشن سروس،اے کے آر ایس پی،اے کے پی بی ایس ڈی اور دوسرے اہم فلاح بہبود اداروں کا کردار نمایاں ہے۔
جب حاضر امام اپنے روحانی بچوں سے ملنے ان کی پیاسی روحوں کو دُعا وبرکات سے سیراب کرنے کے لئے جی بی کے دورافتادہ علاقوں کے 27 سے زیادہ مقامات تک رسائی کیلئے سینکڑوں میل کاصبر آزما سفر نہایت اطمینان و خوشی سے طے کیا۔ ظاہر ہے پکی سڑک تو نہ تھی پکڈنڈی، جیسی گزرگاہوں کوکشادہ راہوں میں تبدیل کردیا گیا۔جو علاقے باہم منسلک نہ تھے وہاں عارضی پل بنائے گئے،کہیں امام کو پیدل چلنا پڑا تو کسی مقام پر جیپ میں سوار کرکے گراری کی مدد سے دوسری جانب پہنچایا گیا۔یہ کریڈیٹ جاتاہے اُن پُر جوش اسماعیلی رضاکاروں کو جو پورے مہینے راستوں کی تعمیر و مرمت میں لگے ہوئے تھے۔یہ جوان بھوک،پیاس نیند و آرام سے بے نیاز دل میں نور ایمان اور اور سر پر کفن باندھے رات دن ایک کردیئے۔اسی دوران ایک رضا کار نے جام شہادت نوش کیا۔
حاضر امام جن علاقوں سے گزرتے وہاں پر پروانوں کی مانند مرید کئی علی الصبح ہی سے سٹرک کے اطراف استادہ کھڑے ہوتے تھے۔ان کی آنکھوں سے عقیدت و محبت کے موتی چھلک رہے تھے۔جگہ جگہ انواع واقسام کے پھلوں سے آرائشی محرابیں بنائی گئی تھیں یوں محسوس ہوتا تھا جیسے گرد وپیش کی اشیاء زباں حال سے خوش آمدید کہہ رہی ہیں۔دوران سفر دوسرے مسالک سے تعلق رکھنے والے بھائی کسی طور پر پیچھے نہ رہے۔اسلامی روایات کے مطابق آپ کا والہانہ و پرتپاک استقبال کیا،علاقائی دستور کے مطابق تقافتی پروگرام جس میں استقبالیہ دھنیں اور روایتی رقص پیش کیا گیا۔اس دوران کئی شاہی خاندانوں نے آپ کی مہمان نوازی کا شرف حاصل کیا�آآپ نے اپنے اس تاریخی دورے کے موقع پر اسلامیان گلگت بلتستان کے لئے سالانہ( تین) میرٹ سکالر شپس کا اعلان فرمایا ، گلگت میں ثقافت و کھیل کے فروغ کے لئے آغاخان شاہی پولو گراؤنڈ کو اسٹیڈیم بنانے کے لئے خطیرگرانٹ کا اعلان کیا ، حسن آباد ہنزہ میں بجلی گھر کے لئے بھی اچھی خاصی رقم کا اعلان فرمایا جسے اس وقت کی حکومت نے شکریے کے ساتھ بعد میں بوقت ضرورت وصول کرنے کا فیصلہ کر کے لوٹادیا۔
تاریخ کے روشن ابواب میں جیسا کہ آپ جانتے ہیں پرانے ہوائی اڈے کی جگہ بنجر اور غیر آباد تھی ، دنیور سلطان آباد کی جماعت نے دیدار کی نیت سے اس مقام پر پنڈال تیار کیا تھا کیا یہ غیر معمولی معجزہ نہیں کہ جس جگہ کئی عشرے پہلے دیندار جماعت نے اپنے پیارے امام کے ساتھ چند ساعتیں گزارنے کے لئے جس گوشے کا انتخاب کیا تھا امام کے رنجہ افروز ہونے کی برکت سے اسی جگہ پر گلگت بلتستان کی پہلی مشہور مادر علمی KIUی صورت میں جلوہ گر ہو گیا۔ سبحان اللہ
آپ کی مریدوں سے ملاقات کے دوران دی گئی ہدایات و تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے ،
۱۔ آپ اپنے ایمان و عقیدے کو سمجھیں اور اس پر مستحکم و مضبوط رہیں۔
۲۔ اپنے دینی فرائض و عبادات میں باقاعدگی رکھیں۔
۳۔ بچوں کو بہترین دنیاوی تعلیم کے ساتھ عمدہ دینی تعلیم بھی باقاعدگی سے دیں ۔
۴۔ بری عادتوں ، نشہ آور اشیا اور شراب وغیرہ سے دور رہیں۔
۵۔ آپس میں متحد رہیں اور ہر ایک کے ساتھ محبت و ہمدردی سے پیش آئیں۔
۶۔ اپنے امام کے فرمانبردار بنیں
۷۔ حکومت کے وفاداراور ہر دم خیرخواہ اورمعاشرے کی ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔ 
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مولانا حاضر امام کی مد برانہ بصیرت،آپ کا گہر ا اور متوازن ورلڈ ویو،آپ کی روحانی قیادت نے اس دنیا کے سلگتے عالمی پیچیدہ مسائل میں جماعت اور امت کو رہنمائی فرمائی جس میں دنیاکے مختلف ملکوں میں خانہ جنگیاں اور پُر تشدد سیاسی فسادات،بڑے پیمانے پر جماعت کی نقل مکانی اور رہائشی انتظامات،سرد جنگ اور عالمی بحران کے حوالے سے تشخیص اور ٹھوس حل دینا، پوری انسانیت کیلئے آپ کے ہمدردانہ احساسات، مریدوں ،مسلم برادریوں اور دنیا کے پسماندہ علاقوں کے ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور دنیا کے کسی بھی معاشرے میں سماجی ،معاشی اور معاشرتی تبدیلیوں میں آپ کا کلیدی کردارانسانیت کیلئے منفرد مثال ہے۔
آپ نے رخصت ہوتے ہوئے فرمایا میں باربار آتا رہوں گا،آپ کی، علاقے اور ملک کی ترقی میں اپنا مثالی کردار ادا کرتا رہوں گا اور دُعا فرمائی، عرض پاک اوراہل وطن کی مشکل آسان ،اخوت بھائی چارے کے فروغ اوردین و دنیا کی ہر نعمت ، خوشی اور کامرانی کیلئے خصوصی دُعا وبرکات سے نوازا آمین یارب العالمین


Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s