چلاس میں چوروں کا راج اور پولیس کی معنی خیز خاموشی؟ | عمرفاروق فاروقی|PASSUTIMESاُردُو

فاروقی2چلاس میں چوروں کا راج اور پولیس کی معنی خیز خاموشی؟
عمرفاروق فاروقی|PASSUTIMESاُردُو

معاشرے کے تمام طبقات کو سستے اور فوری انصاف کی ضرورت ہوتی ہے اس انصاف کی فراہمی اور قانون کی عملداری میں ریاست کا جو ادارہ پہلی صف میں کھڑا نظر آتا ہے وہ پولیس کا ادارہ ہے ۔اس مقدس ادارے کے بانی تو حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ ہیں مگر پاک و ہند میں اس کا باقاعدہ آغازانگریزوں نے 1861میں کیا ۔اور وہی نظام اب اپنی بدترین شکل میں ہمیں ہر روز دیکھنے کوملتا ہے۔آج پولیس آئے روز اپنی وقار کھوتی جارہی ہے اور اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر غافل ہے ۔ضلع دیامر کے اندر پولیس کا کردار گزشتہ کئی دہائیوں سے سوالیہ نشان ہے؟دیامر کے تینوں تحصلیں چوریوں کی زد میں ہیں او ر ہر دوسرے دن چوری کی ایک واردات پیش آتی ہے ۔قارئین کرام چوریاں ہر دور میں ہوتی ہیں اور پوری دنیا میں ہوتی ہیں ،لیکن پولیس کے ہوتے ہی چوریاں کیوں ہوتی ہیں ؟اور وہ چور کیوں نہیں پکڑے جاتے ہیں ؟ہمارے معاشرے میں چوریاں نہ رکنا پولیس کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔دیامر میں خصوصا شاہراہ قراقرم، شاہراہ کاغان اور چلاس شہر میں گزشتہ ایک ماہ سے چوری کی واردات پیش آتی رہی ہیں ،لیکن دیامر پولیس نے ابھی تک ایک بھی چور نہیں پکڑ سکی ہے ،جو کہ باعث تشویش ہے ۔دیامر میں چوروں اور ڈاکوں نے مختلف وارداتوں میں عوام کو لاکھوں مالیت کے قمیتی سامان جن میں درجنوں موٹرسائیکلیں ،قمیتی سامان،زیورات، ٹرنسفارمر،گھروں کی تعمیرات کیلئے لائی گئی ثریا،گھروں سے لوگوں کے بھیڑ بکریاں اور نقدی شامل ہیں سے محروم کر دیا ہے ۔گزشتہ اگست کے مہینے میں بابوسر کے مقام پر ایک غم زدہ خاندان کے گھر میں چوروں نے 15سے 20 لاکھ مالیت کے قمیتی زیورات گھریلو سامان اور نقدی لے کر رفو چکر ہوگئے ،متاثرہ افراد نے مقامی تھانہ میں رپوٹ تو درج کرائی لیکن پولیس نے ۲ ماہ گزرنے کے باوجود چوروں کو گرفتار نہ کرسکی ۔اس سے قبل تھک اور چلاس شہرمیں چوروں نے کئی گھر وں سے درجنوں بکریاں رات کی تاریکی سے فائدہ اُٹھا کر لے کر گئے ،متاثرہ افراد کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ تو درج کر لیا لیکن چوروں کا کھوج لگانے کی زحمت تک نہیں کی اور یہ کہ کر معاملے کو ٹال دیا کہ چوروں کو بد دعائیں دی جائے ،اور قیامت کے دن چوروں کے ساتھ حساب ہوگا ۔گزشتہ دو ہفتے پہلے چلاس شہر میں فاروق آباد محلہ میں نامعلوم چوروں نے بجلی کی سروس لائنیں کاٹ کر لے جانے میں کامیاب ہوگئے ،اور اس کے چند دن بعد گزشتہ روز چلاس ڈی سی چوک کے قریب چوری کی سب سے بڑی واردات پیش آیا، اسلحہ سے لیس چوروں کے ایک بڑے گروہ نے نصف درجن سے زائد دکانوں میں گھس کر جھاڑو پھیر دیا۔ چوروں کو دکانیں توڑتے دیکھ کر نجی بنک کے سیکورٹی گارڈ نے فائر کھول دی جس کی وجہ سے چور مزید دکانیں توڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ شہر میں ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکارگھروں میں خواب خرگوش کے نیند سوئے بیٹھے رہے۔ چوروں نے رات کی تاریکی اور پولیس کی غفلت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ڈی سی چوک کے قریب واقع موبائل شاپس،گارمنٹس شاپس،بوٹ شاپس اور جزل سٹورزکے دروازوں اور تالوں کو توڑ کر لاکھوں مالیت کے قمیتی سامان اور نقدی کو لیکر رفو چکر ہوگئے ۔متاثرہ افراد نے سٹی تھانہ چلاس میں نامعلوم چوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرادیاہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ پولیس چوروں کے اصل گروہ تک پہنچ پائی گی یا صرف روایتی انداز اختیار کرتے ہوئے غریبوں کوتنگ کرتی رہے گی چلاس شہر میں پولیس کی مایوس کن کارکردگی اور بڑھتی ہوئی چوری کی واردات پر ڈی آئی جی دیامر رینج عنایت اللہ فاروقی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نوٹس لے لیا ہے اور ایس ایس پی دیامرکو حکم دیا کہ وہ غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو معطل کریں ،جس پر ایس ایس پی دیامر دانشور نے ڈپٹی پولیس آفسر سمت ۳ اہلکاروں کو معطل بھی کر دیا ہے ۔دیامر میں شرپسندی اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی میں ڈی آئی جی دیامر کا کردار قابل تحسین ضرور ہے ،اس لیئے ڈی آئی جی کو چاہئے کہ وہ دیامر پولیس میں اصلاحات لانے کیلئے بھی کردار ادا کریں ۔ماضی میں دیامر کے اندر چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے سدباب کے لئے یہاں کی پولیس نے کوئی حکمت عملی نہیں اپنائی ،جس کی وجہ سے دن بدن وارداتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔دیامر میں بڑھتی ہوئی چوریوں اور ڈیکتیوں کو اگر نہ روکا گیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں ،اس لئے پولیس بغیر کسی سیاسی دباومیں آئے چوروں کو منطقی انجام تک پہنچائیں ،اور چوروں سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے۔یہاں مجھے افسوس سے کہنہ پڑتا ہے کہ گزشتہ روز پولیس کے ایک آفسر نے بڑی تیش میں آکرکہا کہ تاجر اپنی املاک اور اپنے کاروبار کی حفاظت خود کریں ،پولیس تاجروں کے دکانوں کا چوکیداری نہیں کرسکتی ہے،قارئین کرام مجھے اُس پولیس آفسر کی باتیں سن کر بہت افسوس اور دکھ ہوا ،لیکن کیا کیا جائے ،یہ دیامر پولیس ہے ؟اُس پولیس آفیسر کو شاید اپنی ذمہ داریوں کا علم نہیں تھا کہ تاجروں کو تحفظ فراہم کرنا پولیس کی پہلی اور اولین ذمہ داری میں شامل ہے ۔ دیامر پولیس کے اندر اخلاقیات کا بڑ ا فقدان ہے گزشتہ ہفتوں گونرفارم تھانہ کو سپیشل بجلی نہ دینے پرمحکمہ برقیات کے ۳ ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنا یا گیا ،اس سے قبل بابوسر کے مقام پر کئی بار سیاحوں اور مسافروں کے ساتھ بھی دیامر پولیس کا رویہ افسوس ناک اور شرمناک نظر آیا ،پولیس نے مسافروں کو چوکی کے قریب ہارن بجانے کا بہانہ بناکر بلا وجہ گاڑیوں سے نیچے اُتار کر خوب مارا پیٹا ۔ پولیس کے اعلی حکام دیامر پولیس کی اخلاقی تربیت کیلئے خصوصی ورکشاپس کا انعقادکریں اور ان کی اخلاقی تربیت کی جائے۔چلاس شہر میں چوری کی واردات پر قابو پانے کیلئے گشت کے نظام کو بہتر بنا کر شہر میں پولیس کی نفری کو بڑھا یا جائے،اور ضلعی انتظامیہ چلاس شہر میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرے،خاص کر ان جگہوں پر جہاں چوری کی واردات تواتر سے پیش آتے ہیں ،مشکوک جگہوں پر بھی کیمرے نصب کرنے کی ضرورت ہے ،تاکہ چوروں اور ڈاکوں کو پکڑنے میں آسانی ہوسکے ۔اس کے علاوہ پولیس والوں کے پاس معاشرے کی جارائم پیشہ افراد کی ایک لمبی فہرست موجود ہوتی ہے ،اور متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو کسی حد تک چوروں کا علم بھی ہوتا ہے ،جو باآسانی گرفت میں لا سکتے ہیں ،مگر دیامر پولیس ایسا نہیں کرتی آخر اس کی کیا وجہ ہے ،سمجھ میں نہیں آتا ۔قارئین کرام میرے اس ارٹیکل کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ دیامر پولیس کو برا بھلا کہا جائے بات صرف اتنی ہے کہ ہر شعبے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں ،میں یہ نہیں کہتا کہ دیامر میں سب پولیس والے برے ہیں ،دیامر میں کچھ پولیس ایسے بھی ہیں جو ایمانداری سے اپنا فرض نبھاتے ہیں اور اپنے بال بچوں کو حلال رزق کھلاتے ہیں ،ایسے بہت سے میں نے دیکھئے ہیں ۔لیکن بعض پولیس کے حوالے سے شکایات زبان زد عام ہیں ،پولیس کی ذمہ داری کسی بھی معاشرے میں امن و امان قائم رکھنا ہے ۔معاشرے کے مجبور اور غریب طبقات کی مد د کرنا ،بااثر افراد کی چیرادستیوں سے مظلوم اور بے کس افراد کو بچانا ۔لیکن بدقسمتی سے پولیس کا کردار یہ ہے کہ ایک شخص نے زیادہ مال دے دیا پولیس اسکا ساتھ دینا اپنا فرض منصبی سمجھتی ہے،گویا قدر انسانیت کی نہیں دولت کی ہے۔


Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s