گلگت: تحصیل پھنڈر کے زلزلہ متاثرین کا گلگت پریس کلب کے سامنے امدادی کاموں میں حکومتی عدم دلچسپی کے باعث احتجاجی مظاہرہ|PASSUTIMESاُردُو

12208206_962240570521161_45915093_n

گلگت: متاثرین زلزلہ گلگت پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔

گلگت: اتوار، 08 نومبر، 2015ء – پھسو ٹائمز اُردُو (پ۔ر) تحصیل پھنڈر میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں حکومت کی جانب سے امدادی کاموں میں مکمل عدم دلچسپی اور متاثرہ علاقوں میں تا حال بحالی کیلئے اقدامات نہ کرنے پر پھنڈر کے نوجوانوں اور طلبا کی جانب سے گللگت پریس کلب کے سامنے مطاہرہ کیں جس میں تحصیل پھنڈر کے مختلف علاقوں کے طلبا اوع نوجوانوں نے شرکت کیں۔مظاہریں سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل اسٹوڈنئس کے ائی یو یونٹ کے صدر احسان کریم نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک امدادی کاموں میں عدم دلچسپی سے متاثرین سخت سردی میں بے سروسامانی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔چار سو سے زیادہ گھر مکمل جبکہ اس سے بھی زیادہ گھر جزوی طور پر تباہ ہعگئے ہیں مگر ابھی تک حکومت ٹس سے مس نہیں اور صرف میڈیا میں زندہ رہنے کیلئے بیانات دے رہے ہیں جو کہ قابل مزمت ہے۔شندور اسٹوڈنٹس کے مرکزی صدر سید رحمان نے کہا کہ زلزلے خدا کی جانب سے ایک امتحان ہے مگر ہمارے حکمران فرعوں بنے ہوئے ہیں جو کہ ان کو بہت مہنگی پڑسکتا ہے انہوں نے کہا کہ این جی اور کے علاوہ حکومت اب تک کیوں خاموش ہے اور پھر کسی عذاب کے انتطار میں ہے۔ماہرین سے خثاب کرتے ہوئے دولت کریم ایڈووکیٹ نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کیا گیا رقم فوری طور پر متاثرین میں تقسیم کیا جائے ورنہ احتجاجی سلسلہ شروع کاینگے جس کے تمام پر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔مظاہرین سے خطاب میں شیدور اسٹوڈنٹس کے نائب صدر شہزادہ نگین نے کہا کہ حکومت اور ضلعی انتطامیہ متاثرین کے مسلہ کو سنجیدہ لئے اور فوری طور پر بحالی کے لئے اقدامات کئے جائے۔چارٹر اف دیمانڈ پیش پرتے ہوئے نیشنل اسٹوڈنٹس کے رہنما عنایت ابدالی نے کہا کہ تحصیل پھنڈر کو افت زدہ قرار دیکر تمام یوٹلیٹی بل معاف کیا جائے۔مکمل تباہ گھروں کیلئے بیس،بیس اور جزوی گھروں کیلئے کم از کم پندرہ،پندرہ لاکھ روپے ادا کیاجائے۔تحصیل پھنڈر کے نامکمل انتظامی ڈھانچے کو فوری طور پر مکمل کیا جائیں۔قرضوں میں تحصیل پھنڈر کو خصوصی پیکیچ دیا جائے بجلی کے ناقص اور گندم کے عدم دستیابی کا نوٹس لیکر بجلی بحال اور گندم پہنچایا جائے اور فوری طور پر سرکاری اداروں اور عبادت گاہوں کے مرمت کیلئے فنڈز فراہم کیا جائے۔گوپس سے اگے روڈ کیلئے خصوصی پیکیچ منظور کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حلقہ کے ممبر نے ابھی تک کہتا ہے کہ سب کچھ اچھا ہے جو کہ قابل مزمت ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے نااہلی تسلیم کرتے فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔حکومت اور انتطامیہ کیلئے ایک ہفتہ کے ڈیڈ لائن دیکر اجتجاج ختم کیں اور کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہیں ہوئے تو اگلے بار پرامن احتجاج کا کوئی ضمانت نہیں دے سکتا اور اس وقت حالات کے ذمہ دار حکومت اور غذر کے ضلعی انتظامیہ ہوگی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s