قومی بے حسی | تحریر۔ ثاقب عمر گلگتی |PASSUTIMESاُردُو

00001قومی بے حسی | تحریر۔ ثاقب عمر گلگتی

 |PASSUTIMESاُردُو

کچھ دنوں سے سو شل میڈیا میں یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے ایک بہادر سپوت نے وی۔آئی۔پی کلچر کو نظر انداز کر کے ائیر پورٹ پر کسی باپ کے لاڈلے کی پٹا ئی کر دی۔ ا س کے بعد گلگت بلتستان کے عوام باالخصوص سٹو ڈنٹس اور نوجوانوں نے اس کو ہیرو کی طر ح پیش کر نا شروع کر دیا لیکن حقیقت میں ایسا باالکل نہیں ہے وہ تو اپنی ڈیو ٹی انجام دے رہا تھا اور اس نے اپنی ڈیوٹی بخوبی انجا م دے دی جس کی شا با شی ملنے کے بجائے اس کو کورٹ مارشل کر دیا یہ انصاف کا تقاضہ ہے اس کو ہیرو کی طر ح پیش کر نا انتہائی غلط ہو گا۔

اس وقت گلگت بلتستان کے جیلوں میں قوم کے حقوق کی بات کر نے والے پانچ مہینوں سے پابند سلاسل ہیں۔ گلگت بلتستان کے جنگ آزادی کے ہیرو کے بیٹے کر نل (ر) نادر حسن خان،صفدر علی سمیت ان کے سا تھیوں کی تذلیل کر کے تا حال سلا خوں کے پیچھے ڈالا گیا ہے ان کے ساتھ متعدد قوم پرستوں اور ترقی پسندوں کو بھی جیل کے سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا ہے اب تک ان قوم پرستوں اور ترقی پسندوں نے گلگت بلتستان کے عوامی،سیا سی اور بنیا دی حقوق کی بات کی اور جب ان کو اس حق سے محروم رکھا گیا تو اپر امن احتجاج کر نے پر ان پر انسداد دہشتگر دی کے مقدمات لگا کر جیل کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا کچھ کو ان کی اپنی دھر تی سے ہی بدر کر دیا گیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ قوم کی تر قی اور قوم کی حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ تب سے لیکر اب تک گلگت بلتستان کے زیادہ تر سٹو ڈنٹس اوریو تھ اس بات سے غا فل ہیں کہ ان کے حقیقی ہیروز کے ساتھ اتنی زیادتی کی گئی ہے لیکن ان کو معلوم ہی نہیں ہے ما سوا چند ہم خیال دوستوں کے علاوہ کسی نے بھی نہ ہی عملی سطح پر کام کیا اور نہ ہی میڈیا سمیت سو شل میڈیا میں یہ کام نہیں کیا جو کہ ایک گلگت بلتستان کے سپوت کو کر نا چا ہیئے ان قوم پرستوں کے پیغام کو دبانے کی کوشش کیا گیابلکہ اب تک ان قوم پرست اسیر رہنما وں کو غدار قرار دینے کی کو شش کی جارہی ہے اور کچھ وفاق پر ست تو ان کو غدار کہ کر ٹال دیتے ہیں اگر اپنے حق اور عوامی بنیا دی حقوق کی بات کر نا غداری اور جر م ہے تو گلگت بلتستان کا ہرسیاسی فرد غدار ہے جو اپنے ذاتی مفادات کے لیئے عوام کے جذبات اور حقوق کے ساتھ سودا کر دیتا ہے۔ آج تک کسی بھی تنظیم یا سول سو سائیٹی کے فر د میں یہ اخلاقی جزبہ پیدا نہیں ہوا ہے کہ وہ یہ کہے کہ ان کے ساتھ زیا دتی ہو ئی ہے اور یہ حقیقی قوم کے ہیروز ہیں جو گلگت بلتستان کی قوم کے بنیا دی حقوق کے لیئے ہر قسم کے صعو بتیں برداشت کر رہے ہیں۔ آج ایک جوان نے اپنے ڈیوٹی نبھا تے ہو ئے جیل کا یاترا کیا تو ایک دم پورے گلگت بلتستان کے عوام نے اسے ہیرو بنا دیا آیا کہ اس نے کو ئی محاز سر کیا ہو اس کے ساتھ ہماری ہمدر دیاں ہیں پر یہاں تقاضہ انصاف کا ہے اور انصاف گلگت بلتستان کے عوام کو تب مل سکتا ہے جب وہ اپنی حیثیت کو جان کر کام کر یں او ر حد سے زیادہ وفاداری بھی گلگت بلتستان کے عوام کو راس نہیں آتی ہے جس کی نشاندہی کرنے پر گلگت بلتستان کے یوتھ اور سٹوڈنٹس کو یہ کہا گیا کہ جو لوگ گلگت بلتستان اور آپ کے بنیا دی حقوق کی بات کر رہے ہیں یہ بیرو نی ایجنڈے پر کام کر تے ہیں جن کا کسی کے پاس کو ئی ثبوت نہیں ہے اور اپنے پیٹ اور خوف کی وجہ سے یہ کہا جا تا ہے۔ بات اب یوتھ اور سٹو ڈنٹس کو سمجھنا چا ہیئے کہ ان کے ساتھ کس قسم کی زیا دتیاں ہو رہی ہیں اور کون کر رہا ہے اب تو گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہو چکے ہیں اب ان کو اپنے اچھے برے کی تمیز لازم ہے تا کہ ان کا شمار زندہ قوموں میں شمار ہو۔

جو قوم اپنے اسلاف کو بھلا دیتی ہے اس کا پھر تا ریخ کے اوراق میں بھی کوئی جگہ نہیں ہوتا ہے۔ میں اس نو جوان کی توہین کر نے کے لیئے یہ رقم نہیں کر رہا ہوں بلکہ قوم کو اپنی وہ جگہ مل سکے جو ایک قوم کو ملنا لا زمی ہو تا ہے تب گلگت بلتستان کے کسی بھی سپوت کے ساتھ کو ئی زیا دتی نہیں ہو گی کوئی جیل ہیں جا ئے گا اور کو ئی ملک بدر نہیں ہو گا۔


Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s