اسلام آباد:اقتصادی راہداری کی صورت میں گلگت بلتستان کی سست ڈرائی پورٹ ہزارہ ڈویژن( کے پی ) منتقل ہو جانے سے 10 ہزار افراد براہ راست متاثر ہوگا |PASSUTIMESاُردُو

1اسلام آباد: بدھ، 18 نومبر، 2015ء پھسو ٹائمز اُردُو (آن لائن) پاک چائنا اکنامک کوریڈور سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے تاہم گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ہنر مند نوجوان اور افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں کیونکہ اقتصادی راہداری کی صورت میں گلگت بلتستان کی سست ڈرائی پورٹ ہزارہ ڈویژن( کے پی ) منتقل ہو جائے گی ۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں کوئی انڈسٹری نہیں ہے اور لگ بھگ 10 ہزار لوگ سست ڈرائی پورٹ کے ساتھ منسلک ہے اور ان کا روزگار اور روزی روٹی لگی ہوئی ہے جس میں ہوٹل ، ٹرانسپورٹ اور تاجروں کا بزنس شامل ہے ۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو اپنے مستقبل کی فکر لاحق ہو گئی ہے کیونکہ حکومت نے ان لوگوں کی تلافی کے لئے کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کروائی ہے ۔ فی الحال چین کے سامان کے بھرے ٹرک کسٹم کلیئرنس کے لئے سست ڈرائی پورٹ میں آف لوڈ ہوتے ہیں ۔جس سے مقامی افراد اور تاجروں کے لئے معاشی سرگرمیاں جنم لیتی ہیں ۔ دریں اثناء میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حویلیاں میں جو ڈرائی پورٹ خریدی گئی ہے وہ ایک بااثر شخصیت کی ہے اور وہ حکومت پر ڈرائی پورٹ کو منتقل کرنے پر زور ڈال رہے ہیں ۔


اصل اشاعت جاوید چوہدری ڈاٹ کام سے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s