گلگت: آئینی صو بہ اور (ن) لیگ کی آل پا رٹیز کا نفرنس متعدد جما عتوں نے اعتماد میں نہیں لینے پر شدید تحفظا ت کا اظہارکیا ہےؔ|PASSUTIMESاُردُو

12227742_987584031298048_1895519647567851574_n

تصویر نعیم انور سے

گلگت: ہفتہ، 21 نومبر، 2015ء پھسو ٹائمز اُردُو ( ایس یو ثاقب) آئینی صو بہ اور (ن) لیگ کی آل پا رٹیز کا نفرنس متعدد جما عتوں نے اعتماد میں نہیں لینے پر شدید تحفظا ت کا اظہارکیا ہے اور اس اے پی سی کو حکومت پر ی پلا ن قرار دیا ہے کیونکہ اس اے پی سی میں میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کو دور رکھ کر سرکاری پریس نوٹ جاری کیا گیا جس میں صرف حکومتی الفاظ کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا ۔ صحا فیوں کو اپنی مر ضی سے کو ریج کر نے سے قبل ہی سرکاری پر یس نو ٹ میل کر دیا گیا جس پہ صحا فیوں نے اس اقدادم کی مزمت کی ہے اور کہا کہ اس دوران میڈیا کو کو ریج سے روکا گیا اور اپنی مر ضی کا پریس نوٹ جا ری کیا گیا بالاورستان نیشنل فر نٹ نے اس اے پی سی کا مکمل با ئیکا ٹ کیا اور ایم کیو ایم ،امامیہ کونسل سمیت گلگت بلتستان یو نا ئیٹڈ مو منٹ کو مکمل نظر انداز کر نے پر انہوں نے اس اے پی سی کو حکومت کا تیار کردہ پلان کو مسلط کر نے کا کہا اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اے ی سی بلانے سے اچھا تھا کہ وہ ایک پر یس ریلیز کے زریعے ہی کام چلاتے اس طرح قومی زجذبات مجروح کرانے سے (ن)لیگ کا ڈکٹیٹر شپ کا اصل چہر ہ سا منے آیا ہے ۔کاروباری حضرات نے بھی اس اے پی سی کو حکومت کا پلان قرار دیا ہے جو کہ پہلے سے تیار تھا اس کو مسلط اوردکھا وے کے لیئے اے پی سی بلائی گئی ہے اس طر ح آئینی صو بے کے حوالے سے تحفظا ت سا منے آئے ہیں کیو نکہ مسئلہ کشمیر کو متاثر کیئے بغیر مکمل آئینی صو بی بنا نا انتہا ئی مشکل کام ہے اور جماعت اسلامی ، جمعت علماء اسلام کا کشمیر کازکو نقصان پہنچا نے یا کو ئی معاملہ سامنے آنے پر (ن) لیگ کو ذمہ دار ٹھرایاہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s