مضمون: کوہ پیماء انجینئر اشرف امان| ایس یو ثاقب |PASSUTIMESاُردُو

Untitledمضمون: کوہ پیما انجینئر اشرف امان| ایس یو ثاقب |PASSUTIMESاُردُو

گلگت بلتستان کی تا ریخ اٹھا کر دیکھا جا ئے تو اس میں ایسے انقلا بی سپوت ہیں جنہوں نے اس قسم کے کارنا منے سر انجا م دیئے ہیں جو نا قابل فرا موش ہیں ۔ زندگی کے ہر میدان میں گلگت بلتستان کے سپوتوں نے ایسے کا رنا مے سر انجا م دیئے ہیں جس کو دنیا نے تسلیم کر لیا ہے ۔ اسی طر ح کی ایک کہا نی انجینئر اشرف امان کی ہے جس نے اپنی سو شل زندگی سے یہ بتا یا کہ ہم کسی سے بھی کم نہیں ہیں اور زند گی کے ہر شعبے میں سب سے آگے ہیں ۔انجینئر اشرف امان کی جب شا دی ہو ئی تو اس نے صر ف ایک جو ڑے کپڑے میں شادی کی اور اس شا دی پہ آنے والے اخراجات کی رقم اپنی بیگم کو دیا اور کہا کہ اس رقم کو میں شا دی میں بھی خرچ کر سکتا تھا لیکن اس رقم سے آپ نادار اور بے سہارا لڑ کیوں کے فلا ح و بہبود کے لیئے استعمال میں لا ئیں جس پر انکی بیگم صا حبہ نے اس رقم سے لڑ کیوں کے لیئے ہا سٹل کھو لا اور فری میں تعلیم دیا ۔تا ریخ میں ایسے افراد کے نام سنہرے حروف سے لکھا جا ئے گا ۔انجینئر اشرف امان کی کہا نی اس کے زبا نی رقم کر تے ہو ئے ایک بات یاد آرہی تھی کہ ہم کو گلگت بلتستان کے ان سپو توں پہ تب تبصرہ کر نے کا مو قع ملتا ہے جب وہ ہمارے در میان نہیں ہو تے ہیں لیکن عملی زند گی میں ہم ان کے لیئے کچھ نہیں کر پا تے ہیں ۔ یہ ایک ایسی کہا نی ہے جس کو پڑ ھنے کے بعد تمام کو اس بات کا احساس ہو گا کہ ہم اپنے محسنوں کے ساتھ کس قسم کا سلوک کر تے ہیں ۔جس شخص نے اپنی تمام ذاتی خواہشوں کو گلگت بلتستان کے عوام اور گلگت بلتستان کے مستقبل کے لیئے لگا یا اور آج وہ ایک کرا یے کے کمر ے میں رہ رہا ہے اپنا سب کچھ ہو تے ہو ئے بھی اس کا کچھ نہیں ہے ۔یہ وہ گلگت بلتستان کا اول سپوت کوہ پیما ء صدارتی ایوارڈ یافتہ اور بین الاقوامی تمغات اور شہرت پا نے والے اشرف امان کی ملکیتی زمین اور مکان پہ ان کے اپنوں نے ہی قبضہ کر لیا اس وقت اشرف امان جو کہ ہنزہ سے تعلق رکھتے ہیں کر ائے کے مکان میں رہنے پہ مجبور ہیں ۔ ان کو یہ اراضی گلگت میں جنرل ضیا ء الحق نے بہترین کار کر دگی پر مو صوف کو صدارتی ایوارڈ کے ساتھ جو ٹیال میں دو کنال ارا ضی بھی دی تھی جہاں مو صوف نے مکان بنا یا اور اس مکان پہ اس کے اپنے ہی بھا ئی نے قبضہ کر لیا ۔ یا د رہے اشرف امان کو 18سال کی عمر میں جر من ایکسپیڈیشننے ہمالین ٹا ئیگر کا خطاب دیا تھا 22سال کی عمر میں قراقرم کلب آف پاکستان کی جانب سے سلیکٹ ہو ئے ترجمیرکے لیئے پا کستان ،چیکو سلواکیا کا نما ئند گی کی اس کلب کی جانب سے مو صو ف کو گو لڈ میڈل بھی دیا گیا ۔34سال کی عمر میں حکومت پاکستان کی جانب سے پرا ئیڈ آف پر فا منس اور صدار تی ایوارڈ سے نوازالند ن میں رائل فیلو شپ ممبر بھی بنے 1997میں اٹلی سرکار نے گولڈ میڈل سے نوازا۔یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے گلگت بلتستا ن ہے پہلے نمبر پہ نیشنل اورانٹر نیشنل سطح پہ K2کی چو ٹی پہ پاکستا نی پر چم لہرانے کا اعزاز بھی حا صل ہے سا تھ ہی دنیاکہ ٹاپ ٹین کی لسٹ میں چھٹے نمبر کے کوہ پیما ہیں جنہوں نے K2کی چو ٹی کو سر کر لیا تھا 1977میں پاکستان جا پان جو ائینٹ ایکسپیڈیشن اس میں پا کستان کی نما ئند گی اشرف امان نے کی اور k2کی چو ٹی کو سر کر لیا ۔ قراقرم انٹر نیشنل پر جیکٹ پہ 1980میں کام کیا اور کوہ قراقرم کا سروے کر نے کا بھی اعزاز حا صل ہے ۔ گلگت بلتستان میں ٹوریزم کو متعارف کر ایا اور ٹوریزم کا وجود ہی موصوف کی وجہ سے برقرارہے اور گلگت بلتستان کے ہزاروں لو گوں کو روزگار دیا ۔سکالر شپ بھی متعارف کرایا گلگت بلتستان سے پہلے سکالر شپ پا نے والے ہیں جنہوں نے سکالر شپ بھی پا یا اور ساتھ ہی دیگر افراد کے لیئے بھی را ستہ ہموار کیا تا کہ وہ بھی سکالر شپ حا صل کر سکیں۔K2کی پیما ئش چا ئنا سے جو کیا اور جو سا ئینٹس تھے ان کے آپ ٹیکنکل گا ئیڈ رہے ساتھ ہی دوران انٹر نیشنل قراقرم پرا جیکٹ پہ کام کر نیوالے بر طا نیہ کے چیف سروئیر جو کہ حا دثہ ہو نے سے مر گئے اس دوران اس کی جگہ پر آپ نے کام کیا جس پر برٹش سر کار نے حکومت پاکستان کا شکر یہ بھی ادا کیاہمیں ایک قابل شخص دیا جس کی وجہ سے یہ پرا جیکٹ مکمل ہوادیگر صورت اس پرا جیکٹ کی تکمیل ناممکن تھی ساتھ ہی قراقرم انٹ نیشنل یو نیورسٹی کے قیا م کے لیئے بھی اہم کام کیا جبکہ اپنے گا ؤں میں تعلیم کے لیئے سکول کھولا اور مفت تعلیم دی اور دنیا کو بتا یا کہ ہم میں وہ صلا حیت ہے جو ایک زندہ قوم کے اندر ہو تی ہے اب ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اپنے اسلاف کو نہیں بلا ئیں ان کی عزت آبرو کا خیال رکھیں ان کے نقش قدم پہ چلیں۔ لیکن گلگت بلتستان کا یہ سر مایہ آج کرا ئے کے مکان میں رہ رہا ہے اور یہ گلگت بلتستان کا ہیرو بھی ہے جس نے بین الا قوا می سطح پہ گلگت بلتستان کا نام روشن کیا اور یہ بتا یا کہ گلگت بلتستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے ۔ ہزاروں لوگوں کو روزگار دینے والا ہر طا لب علم کے لیئے سکالر شپ کا دروازہ کھولنے والا آج اپنی ذا تی مکان سے بے دخل ہے ساتھ ہی آبائی اراضی پہ بھی قبضہ کر کے عدا لتوں کے چکر لگوایا جا رہا ہے ۔ اس عمر میں عدالت میں جانا اور کیس کی پیروی کر نا انتہا ئی مشکل ہے سول عدالت اتنی جلدی فیصلہ نہیں دیتی جس سے مو صوف کو جلدی اور سستا انصاف مہیا ہو کر اپنے مکان اور اراضی کو استعمال میں لا سکے ۔ موصوف کے ساتھ ایک مختصر سی نشت اچا نک ہو ئی اور بہت ہی دلچسپ شخص لگنے پہ اس کی زند گی کی روداد مختصر الفاظ میں سمیٹنے کی کوشش کی تا کہ ہمارا بھی فرض مکمل ہو جس نے اپنی پو ری زند گی گلگت بلتستان کے لیئے وقف کیا ہو اس عظیم شخص کے ساتھ نشت سے ایک اچھا سبق بھی حا صل ہوا اس کے چہرے پہ بظا ہر خوشی دیکھنے کو مل رہی تھی لیکن اندر اندر سے ایک تکلیف میں بھی تھے جو کہ ان کے اپنوں نے اس کے ساتھ کیا ہے پھر بھی وہ مسکرا تے ہو ئے اپنے غم ظا ہر کیئے بغیر تمام افراد سے ملتا رہتا ہے اب بھی اس میں اتنی ہمت اور جرات ہے جو کہ آج کل کے نو جو انوں میں نہیں ہے اس نے مجھے مختصر الفاظ کہا کہ میں نے یہ تما م کام اپنے لیئے نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے لیئے کیا ہے اور اپنی خو شی کے لیئے کیا ہے ۔ میرا صدر پاکستان ممنون حسین،وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف ،چیف آف آرمی سٹاف پاکستان،فورس کمانڈر گلگت بلتستان ،گورنر گلگت بلتستان اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے اپیل کر تا ہون کہ اس عمر میں مجھ پہ رحم کھا لیں اور میر ا مکان اور آبا ئی ارا ضی مجھے واپس دلا نے میں اپنا کر دار ادا کر یں تا کہ میں اپنی زند گی سکون کے ساتھ گذار سکوں۔یہ ایک ایسے انسان کی اپیل ہے جس نے اپنی پو ری زند گی صرف گلگت بلتستان کے بہترین مستقبل کے لیئے وقف کر دیا اور آج اس کی اپیل کو نہیں سننا اس کے ساتھ انتہا ئی زیا دتی ہو گی موصوف نے جن اعلیٰ ذمہ داران سے اپیل کی ہے وہ اپنا کر دار ادا کر یں تو اشرف امان کے مسا ئل میں کمی آسکتی ہے اور ان کے ان بنیا دی مسائل کے حل کے لیئے اعلیٰ حکام کو نو ٹس لینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ آئیندہ کو ئی بھی فر د بدظن نہ ہو اور اپنے صلا حتوں سے گلگت بلتستان کا نام روشن کر سکیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s