گلگت:قانون ساز اسمبلی میں ضلع ہنزہ کی نشست خالی ہونے اور متوقع ضمنی الیکشن کیلئے حکمران جماعت کی قیادت اور کارکنان نے اپنے پسند امیدوار کوپارٹی ٹکٹ دلانے کیلئے اندرون خانہ لابنک شروع کر دی|PASSUTIMESاُردُو

150608134302_gilgit_assembly_624x351_bbc_nocreditگلگت: منگل، یکم دسمبر، 2015ء – پھسو ٹائمز اُردُو (نعیم انور) مسلم لیگ (ن) ہنزہ کی قیادت اور کارکنان پارٹی ٹکٹ کے معاملے پر کئی گروپوں میں تقسیم ہو گئے ،اندرون خانہ شدید اختلافات پیدا ہو گئی ،ایک گروپ امین شیر کی حمایت میں ،دوسرا گروپ ایمان شاہ،تیسرا محمد رازق جبکہ میر غضنفر کے حمایتی پرنس سلیم خان کے حق میں میدان میں کود پڑے جبکہ ایک طبقہ راجہ شہباز کو ٹکٹ دلانے کیلئے سرگرم ہے۔
قانون ساز اسمبلی میں ضلع ہنزہ کی نشست خالی ہونے اور متوقع ضمنی الیکشن کیلئے حکمران جماعت کی قیادت اور کارکنان نے اپنے پسند امیدوار کوپارٹی ٹکٹ دلانے کیلئے اندرون خانہ لابنک شروع کر دی جبکہ پارٹی ٹکٹ کا فیصلہ ہونے سے قبل پارٹی کے لوگ مختلف گروپوں میں تقسیم ہو گئے ،ضلع ہنزہ سے تعلق رکھنے والے کچھ سینئر پارٹی رہنماوں نے پارٹی کے دیرینہ کارکن امین شیر کو پارٹی ٹکٹ کیلئے موزوں ترین قرار دیکر انکی حمایت کا اعلان کر دیا ہے،گلگت کے پارٹی کارکنان کی اکثریت سینئر صحافی ایمان شاہ کے حق میں ہیں ،ضلع ہنزہ کے بالائی علاقے گوجال کے کارکنان نے محمد رازق کو پارٹی ٹکٹ دینے کی صورت میں بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے ،ضلع ہنزہ کی ایک مخصوص گروپ راجہ شہباز کے حق میں جبکہ گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان خود اور حلقے میں اُنکے حمایتی عمائدین کی ایک بڑی تعداد پرنس سلیم خان کو پارٹی ٹکٹ دلانے کیلئے ایڈی پاؤں کا زور لگا رہی ہے۔مسلم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت نے اب تک پارٹی ٹکٹ کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے تاہم الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی طرف سے حلقے میں ضمنی الیکشن کا شیڈول اعلان ہوتے ہی کسی ایک امیدوار کو ٹکٹ دے گی ۔زرائع کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ ہنزہ کے حلقے سے پارٹی ٹکٹ پارٹی کارکنوں کی مرضی کے برعکس پرنس سلیم کو ملنے کی صور ت میں مسلم لیگ (ن) کے کا رکنوں نے اجتماعی طور پر استعفے دینے کا فیصلہ کیا ہے ،مسلم لیگ (ن) کے کارکنان سمجھتے ہیں کہ ضلع ہنزہ میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت پارٹی کا رکنوں کو نظر انداز کر کے صرف ایک گھر کو نواز رہی ہے۔اس وقت مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے میر غضنفر کو گورنراُنکی اہلیہ کو خواتین کی مخصوص نشست پرہنزہ سے ٹیکنو کریٹ لیا ہے اور تیسرے مرحلہ میں اب بیٹے کو بھی پارٹی ٹکٹ سے نوازنے کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں،جس پر پارٹی میں شدید اختلافات پیدا ہو ئی ہیں ،پارٹی کارکنان کے مطابق ایک شخص کے زاتی اسرو سوخ کی بنیاد پر ایک گھر کے افراد کو نوازنا اور پورے ضلع کے ہزاروں کارکنوں کو دیوار سے لگانا غیر جمہوری اور غیر اخلاقی روایت ہے جس کے خاتمے کیلئے پارٹی کارکنان اس بار ڈٹ گئے ہیں ،کارکنوں کی طر ف سے سلیم خان کو ٹکٹ دینے کے اعتراض کے بعد امین شیر،ایمان شاہ اور محمد رازق کو پارٹی ٹکٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے تاہم حتمی فیصلہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت مشاورت کے بعد کریگی،دوسری طرف اسیر معروف انقلابی رہنما با باجان کے چاہنے والے ہزاروں نوجوانوں نے حکمرانوں جماعت کے امیدوار کو شکست دینے کیلئے پلان تیار کر لیا ہے اور خفیہ میٹنگز کا سلسلہ بھی چل رہا ہے،ملک کے مختلف شہروں سے یوتھ کی ایک بڑی تعداد باباجان کی سپورٹ کیلئے ہنزہ پہنچ رہے ہیں۔پی پی پی ،تحریک انصاف و دیگر جماعتوں نے بھی ابھی ہنزہ میں اپنی سر گرمیاں شروع کر دی ہیں ۔ہنزہ سے ضمنی الیکشن میں حکمران جماعت اور اسیر رہنما باباجان کے درمیان اس بار کا نٹے کا مقابلہ متوقع ہ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s