گلگت: صوبائی سطح پر جرنلسٹ کنونشن کا انعقاد،شرکاء کی مشاورت سے مندرجہ ذیل ضابطہ اخلاق وضع کیا گیا ہے|PASSUTIMESاُردُو

collage.jpgضابطہ اخلاق

گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار صوبائی سطح پر جرنلسٹ کنونشن کا انعقاد گلگت پریس کلب میں ہواجس میں تمام اضلاع کے صدور ،سینئر صحافیوں،ماہرین و دیگر شرکاء کی مشاورت سے مندرجہ ذیل ضابطہ اخلاق واضع کیا گیا ہے۔ جس پر گلگت بلتستان کے تمام صحافتی اداروں اور عامل صحافیوں نے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

۔1- سیاسی و انتخابی عمل میں صحافی نگراں کا کردار ادا کرے۔
۔2-۔صحیح،متوازن اور غیر جانبدارانہ کوریج اور خبر کو مکمل سیاق وسباق کے مطابق تصدیق شدہ مواد کے ذریعے یقینی بنائے۔
۔3- ۔مفر وضات سے گریز کرتے ہوئے حقائق کی جانچ پڑتال کریں اور ملوث افراد یا تنظیموں کے ذریعے تبصروں میں نیک نیتی کو ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھیں۔
۔4- بے نقاب ہونے والی کرپشن اور بد عنوانی یا مسائل کے ساتھ انکا حل بھی تلاش کریں۔
۔5- ۔غیر جانبدارانہ رپوٹنگ کو یقینی بنا نے کیلئے غیر جانبدارانہ الفاظ کااستعمال کریں،تکینکی اصلاحات اعداد وشمار اور انتخابی نتائج میں اندازوں سے اجتناب کرے اور کہانی کے حقائق کی عکاسی کو یقینی بنائیں۔
6۔تحریری اور زبانی طور پراپنے جذبات کے اظہار خیال سے گریز کریں۔
ٌ7۔خبر کے حصول اور بناتے وقت ایمانداری اور شفافیت کو یقینی بنائے۔
8۔خبر میں شک کی بنیاد پر کسی آفیسر یا پبلک آفیشل کو شامل نہ کریں اور نہ ہی رپورٹ میں جھوٹ کا سہارا لیں۔۔خبر یا تصویر کو چوری نہ کریں اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے تصویر کی اصلیت کو تبدیل نہ کریں۔
9۔اپنے قارئین کے ساتھ دیانتداری کا مظاہرہ کریں ۔خبر کے ذرائع کے ساتھ بھی دیاتنداری کو برقرار رکھا جائے۔
10۔ بلا وجہ کسی فرد یا شہری کی نجی زندگی کو بے نقاب نہ کریں۔
11۔انٹرویو جب حساس ہو ۔ اجتماعی نقصان اور تکلیف کا سبب بننے والے خبروں سے گریز کریں۔
13۔عدالتی فیصلہ ہونے سے پہلے کسی ملزم کو مجرم بنا کر پیش نہ کیا جائے۔
14۔تعصب پر مبنی خبروں اور تبصروں سے گریز کریں ۔
15۔کسی بھی خبر یا مضمون کی اشاعت میں کسی ذاتی مفاد ،تحفہ اور لالچ سے گریز کریں۔
16۔اپنی رپورٹنگ کے مواد میں کسی کی ذاتی تشہیر یا ترجمانی سے گریز کریں۔
17۔کسی سیاستدان سے اپنی مرضی کے ریٹ آفر کر کے اشتہار نہ مانگے۔
18۔کوئی بھی خبر/فوٹو زاورفوٹیج آپ کسی سے رقم کے عوص خرید کراپنے نام سے شائع نہ کریں اور خبر حاصل کرنے کے لیے اپنے ذرائع کو پیسے نہ دیں البتہ جس شخص سے خبر ،فوٹو اور فوٹیج خریدا گیا ہو اسی کے نام سے چلائیں۔
20۔صحافی اپنے تحریر کا عوام کے سامنے خود جوبدہ ہوتا ہے۔
21۔جتنا ممکن ہو خبر کے ذرائع کو واضع کریں۔بعض حساس معاملات میں ذرائع کو صیغہ راز میں رکھا جا ئیں۔
22۔صحافی کی خبر قوانین اور اخلاقی صحافت کے معیار پر پورا اترتا ہو۔
23۔ صحافی اپنے متعلقہ ادارو ں تک محدود رہے اور دیگر اخبارات کو خبریں بیجھنے سے اجتناب کریں۔
24۔صحافی کو اپنے ضلع یا بیٹ تک محدود رہنا چاہیے ماسوائے کسی ضلع میں متعلقہ میڈیا کا نمائندہ موجود نہ ہو۔
25۔اپنے ذاتی اور غیر صحافتی معاملات میں صحافتی اداروں کو استعمال کرنے سے اجتناب کرے ۔
26۔صحافی کاکسی سیاسی ،مذہبی ،لسانی ،علاقائی اور فرقہ ورانہ تنظیم سے وابستگی نہ ہواور نہ ہی کسی سرکاری نیم سرکاری ملازم نہ ہو۔
27۔رضاکارانہ صحافت کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے ،صحافی میڈیا ہاؤسسز کے لئے رضاکارانہ اور بلا معاوضہ خدمات کا سلسلہ ختم کردیں۔


Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s