گلگت:کرپشن کی روک تھام کیلئے نیب کی جانب سے سکولوں، کالجز اور مختلف مقامات پر جاری کرپشن کے خلاف آگاہی مہم مثبت اقدام ہے|PASSUTIMESاُردُو

گلگت: بدھ، 09 دسمبر، 2015ء – پھسو ٹائمز اُردُو (پ ر) وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ کرپشن کی روک تھام کیلئے نیب کی جانب سے سکولوں، کالجز اور مختلف مقامات پر جاری کرپشن کے خلاف آگاہی مہم مثبت اقدام ہے۔ جرم ہونے سے قبل اس کی روک تھام کیلئے اقدامات معاشرے کی اصلاح کیلئے ضروری ہے۔ ملک میں اس قبل کرپشن کو کبھی بیماری نہیں سمجھا گیا وزیر اعظم پا کستان و قائد عوام محمد نواز شریف کی حکومت کے قیام کے بعد کرپشن کی روک تھا م کیلئے موثر اقدامات کئے گیے۔ طالع آزما ؤں کے دور حکومت میں کرپٹ لوگوں کو جیلوں سے اٹھا کر اپنے مقاصد کے لئے وزیر بنائے گیے بحیثیت سیاسی کارکن یہ میری سوچ ہے کہ ملک کو تباہ کرنے میں تمام تر کردار طالع آزما ؤں کا ہے۔ سیاسی وفاداروں کی بنیاد پر طالع آزما ؤں کے ا دوار میں کرپٹ لوگوں کو وزیر اور مشیر بنایا گیا وفاداریاں تبدیل کی گئیں جس کی وجہ سے کرپشن پروان چڑھنے لگا مشرف کے دور میں مسلم لیگ(ن) چھوڑنے کیلئے مجھ پر پریشر ڈالا گیا۔ سیاسی لوگوں پر دباؤ کی وجہ سے انکی وفاداریاں خریدی گئیں اس دور میں انتقام احتساب کا دوسرا نام بن گیا تھا۔ اپنے پسند کے بندے کو نیب کا چےئرمین مقرر کیا جاتا رہا پہلی بار جمہوری حکومت نے حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے نیب کا چےئرمین مقرر کیا۔ مسلم لیگ(ن) کرپشن کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے۔ “ملک میں پہلی مرتبہ سول اور ملٹری قیادت ملک سے دہشت گردی اور کرپشن کی لعنت کے خاتمے کیلئے ایک پیج پر ہیں وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے مثبت اقدامات کی وجہ سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے”۔ وفاق پنجاب اور گلگت بلتستان جہاں پر عوام نے مسلم لیگ (ن)پر اعتماد کیا وہاں کرپشن کے مکمل خاتمے کیلئے اقدامات کیے گیے ہیں۔ ہم نے خود کرپشن کے خاتمے کیلئے متعلقہ اداروں کو دعوت دی۔ ہم نے خود کو احتساب کیلئے پیش کیا جسکی وجہ سے آج نیب کا ادارہ فعال ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ احتساب حکومتیں نہیں کرسکتی ہیں کیونکہ حکومتیں ووٹ لے کر آتی ہیں اگر حکومت احتساب کرنا شروع کرے تو مخالفین کا حقہ پانی بند ہوگا اور اسکے حامی کرپشن کر کے آزاد بیٹھ ینگے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کسی آفیسر کے خلاف نیب میں ریفرنس نہیں بھیجے گی۔نیب وفاقی ادارہ ہے اسکو یہ اختیارحاصل ہے کہا جہاں کرپشن ہو جہاں سے کرپشن کی شکایت موصول ہو وہاں تحقیقات کا آغاز کرے ہماری پالیسی ہے کہ احتساب متعلقہ اداروں کے ذریعے ہونا چائیے تاکہ کسی کو یہ شکایت نہ ہو کہ ہمارے ساتھ انتقامی کاروائی کی جارہی ہے۔ وفاقی احتساب کے ادارے حکومت کے تابع نہیں ہیں نیب آزاد اور خود مختار ادارہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ طالع آزما ؤں کے ادوار میں بولنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے اربوں کی کرپشن کی جاتی ہے ملک ٹوٹ جاتے ہیں لیکن کسی کو لب کشائی کی اجازت نہیں ہوتی۔ سیاسی و جمہوری حکومتوں میں ہر ایک کو بولنے کی آزادی ہوتی ہے لوگ اپنے منتخب نمائندوں کا احتساب کرتے ہیں ہماری قوم کرپشن کے خلاف متحد ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت نے اپنے کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ 5کروڈ کی لاگت سے زیادہ کے تمام منصوبوں کے آغاز سے قبل نیب سےNOC لیا جائیگا تاکہ کرپشن کو بلکل روکا جاسکے ۔ نیب کو احتساب کا مکمل اختیار حاصل ہے ہم نے نیب کو فعال کیا ہے ہمیں نہیں پتہ ہے کہ نیب نے کس کی فائلیں تیار کی ہیں اب سوسائٹی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف اپنا کردار ادا کریں کل نیب کرپٹ لوگوں کو پکڑنا شروع کریگی تو شو رمچانا شروع کیا جائیگا کہ ہمیں انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ اگر احتساب منصفانہ نہ ہو تو معاشرے کا سپورٹ حاصل نہیں ہوگا اور یہ عمل آگے نہیں بڑ ھ سکے گا۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو مذہبی کرپشن نے تباہ کیا ہے۔ مذہب کی غلط تشریح مذہبی کرپشن ہے۔ آئمہ کرام اور صحابہ کرامؓ عدل و انصاف قائم کیں اپنی جانیں قربان کی لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا ہم صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؓ کا ذکر کرتے ہیں لیکن انکے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل نہیں کرتے ہیں ۔جو لوگ خلفاء راشدین اور آئمہ کرام کی زندگیوں کی غلط تشریح کرتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو کرپشن کو بھی سپورٹ کرتے ہیں مذہبی کرپشن نے سو سائٹی کو تقسیم کیا ہے مسلم لیگ (ن) واحد سیاسی جماعت ہے جس نے مذہبی کرپشن کے خلاف جنگ کی ہے شہید سیف الرحمن نے اپنی جان کا نظرانہ امن کیلئے دیا۔ گلگت بلتستان کے لوگوں نے مذہب، علاقایت اور فرقے سے بالا تر ہو کر مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے میرٹ کی بھی پامالی ہوئی ہے۔ اگر ہمیں آگاہی ہو کر دین کیا ہے اصول دین کیا ہیں تو کوئی جاہل آدمی قوم کو گمراہ نہیں کر سکے گا۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ خود احتسابی سب سے بڑی چیز ہوتی ہے ہمارے اولیاء خود احتسابی کرتے تھے ان کے دور میں اگر کوئی خطاء گنا کرتا تھا تو وہ خود چل کر اتا تھا کہ ہم سے یہ خطاء ہوئی ہے ہمیں اسکی سزاء دی جائے۔ آج مغرب میں یہ اصول موجود ہیں انکے کسی بڑے پر الزام لگتا ہے تو خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہے جبکہ ہمارے معاشرے میں خود احتسابی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے نیب کی جانب سے کشروٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں کرپشن کے خلاف آگاہی مہم کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ احتساب ہوگا صاف وشفاف ہوگا بلا تفریق ہوگا اگر معاشرہ سپورٹ کریگا تو نظام بہتری کی طرف چلے گا۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے تقریری مقابلوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات اور اساتذہ میں شیلڈز اور سرٹیفیکیٹس تقسیم کیے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s