گلگت: سرکاری ملازم کی طرف سے منتخب نمائندہ کے خلاف اخباری بیان غیر قانونی ہے چیف سیکرٹری ان کے خلاف فوری طور پر قانونی کاروائی کرے بصورت دیگر خودکا روائی کرنے پرمجبور ہونگے|PASSUTIMESاُردُو

3گلگت: جمعہ، 12 دسمبر، 2015ء – پھسو ٹائمز اُردُو(نعیم انور) عنایت شاہ نامی سرکاری ملازم کی طرف سے منتخب نمائندہ کے خلاف اخباری بیان غیر قانونی ہے چیف سیکرٹری مذکورہ شخص کے خلاف فوری طور پر قانونی کاروائی کرے بصورت دیگر مذکورہ شخص کے خلاف خودکا روائی کرنے پرمجبور ہونگے ،یہ بات بالاورستان نیشنل فرنٹ ضلع غذر کے صدر وسابق چیرمین بلدیہ گاہکوچ ہاشم خان نے گزشتہ دن مقامی اخبار میں پارٹی کے قائد و ممبر قانون ساز اسمبلی نواز خان ناجی کے خلاف اخباری بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ،انہوں نے کہا کہ قائد تحریک نے چٹورکھنڈ ڈی جے سکول میں اپنے خطاب کے دوران ٹیچروں کی کوئی تزلیل نہیں کی ہے بلکہ سرکاری سکولوں کی مایوس کن کارکردگی اور سرکاری سکولوں میں بچوں کو دی جانے والی روایتی غیر معیاری تعلیم کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جو سو فیصد درست اور حقائق پر مبنی ہے ،انہوں نے کہا کہ عنایت شاہ نامی خود ساختہ صدر جو سابق وزیر تعلیم علی مدد شیر کا کمیشن ایجنٹ کے طور پر جاننے جاتے ہیں جو خود سکول میں ڈیوٹی دینے کی بجائے ایک سیاسی شخصیت کی طرح اکثر اخباری بیانات دیتے رہتے ہیں اور موصوف خود میٹر ک میں پانچ مرتبہ فیل ہونے کا ریکارڈ قا ئم کرچکے ہیں ،ایسے شخص کی طرح سے نواز خان ناجی جیسے لیڈر کے خلاف بیان دینا قابل مذامت اور اُنکے لیے باعث شرم ہے ،انہوں نے کہا کہ ایماندار، قابل اور فرض شناس ٹیچرزنے خود نواز خان ناجی کی تقریر کو حقائق پر مبنی قرار دیکر تقریب میں تالیاں بجاتے رہے ،انہوں نے کہا کہ عنایت شاہ جیسے ناقابل،کام چور علم دشمن ٹیچرز نے محکمہ تعلیم جیسے مقدس پیشے کابیٹراغرق کر کے رکھا ہے ، سرکاری سکولوں کے ٹیچرز پر کشش تنخواہیں اور مراعات لینے کے باوجود اُنکی کارکردگی بہتر ہونے کی بجائے روز بروز انتہائی مایوس کن ہوتی جارہی ہے جو مستقبل کے معمار وں کے ساتھ مذاق اور قوم کے ساتھ غداری کے زمرے میں آتاہے،انہوں نے کہا کہ عنایت شاہ سیاسی لیڈروں کے خلاف بیان بازی کرنے کی بجائے سرکاری سکولوں میں معیار تعلیم بہتر بنا نے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے ٹیچروں کا پیشہ معاشرہ میں سب سے مقدس ہے اور ٹیچروں کا احترام نواز خان ناجی سے زیادہ معاشرہ میں کوئی اور نہیں کر سکتا مگر عنایت شاہ جیسے ٹیچرز اس مقدس پیشے کی بد نامی کا سبب بن رہے ہیں لہذا ٹیچرز ایسو سیشن مذکورہ سیاسی ٹیچر کو اپنے صفوں سے نکال باہر کر دے ،انہوں نے صوبائی حکومت اور نیب سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر تعلیم علی مدد شیر کے دور میں محکمہ تعلیم میں ہونے والے گھبلوں کی تحقیقات کرتے وقت عنایت شاہ جیسے ٹیچروں کو بھی شامل تفتیش کرے تاکہ پانچ ،پانچ لاکھ روپے لینے والے معاشرے کے تمام طبقات کا کردار عوام کے سامنے بے نقاب ہوسکے اور سرکاری ملازم کی حیثیت سے عوامی منتخب نمائندے کے خلاف بیان دینے کے جرم میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام انھیں فوری طور پر معطل کر کے انکے خلاف قانونی کرے بصورت دیگر ہم مذکورہ شخص کے خلاف عدالت سے رجوع کرینگے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s