سالگرۂ امام| تحریر:الواعظ نزار فرمان علی |PASSUTIMESاُردُو

42

سالگرۂ امام  | تحریر:الواعظ نزار فرمان علی |PASSUTIMESاُردُو

۔”تو اپنے سب سے برتر پرودگار کی تسبیح کرتا رہ جس نے تجھے پیدا کیا پھر درست کیا اور جس نے اندازہ کیا، پھر ہدایت کی” (القرآن)۔

الحمدُ للہ ہر سال کی طرح اس سال بھی۱۳ دسمبر کو دنیا بھر کے شیعہ امامی اسماعیلی مسلمان اپنے پیارے آقا و رہبر کامل سرکار نور مولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امام کی ۷۹ ویں جشنِ ولادت با سعادت انتہائی مذہبی عقیدت و احترام سے منا رہے ہیں۔بلا شبہ یہ اہلِ دنیا کے لئے عام طور پر اور مریدوں کے لئے خاص طور پر نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔اس مبارک موقع پر شیعہ امامی اسماعیلی مسلمان اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاضر امام کی صورت میں نعمتِ عظمیٰ اور ہدایت و رہبری کے لئے ہر دم موجودگی کا شکرانہ ادا کرتے ہیں اور اپنے پیارے امام سے بھر پور خلوص و محبت، وفا داری اور ایفاء عہد کی تجدیدکرتے ہیں۔حاضر امام آغا خان چہارم کی پیدائش سوئزر لینڈ کے مشہور شہر جینوا میں بروز اتوار28رمضان المبارک 1355ھ بمطابق13 دسمبر 1936ء میں ہوئی۔آپ کو بچپن ہی سے اپنے دادا جان کا بے پناہ لاڈ پیار ملا اس لئے آپ کی تعلیم و تربیت کا بھی بذات خود خاص خیال رکھاجس کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ آپ نے افریقہ میں عید الفطر کی نماز پڑھائی جس میں ہزاروں لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز پڑھی اس وقت آپ کی عمر صرف سات سال تھی۔ آپ کی ابتدائی تعلیم لی روزی سکول سے جبکہ اعلیٰ تعلیم اپنے وقت کی مشہور یونیورسٹی ہارورڈ سے حاصل کی۔ آپ یونیورسٹی میں اسلامی تاریخ، معارف اسلامی اور سماجی علم کے مضامین اختیار کئے۔ زمانہ طالب علمی کے دوران متعدد عنوانات پر مقالات و ریسرچ پیپرز لکھے جن میں ہند و پاک میں مسلم دعوت، اسلامی تصوف، سید نا نا صر خسرو ؒ اور متحدہ ہندوستان کے سماجی،تعلیمی مذہبی و سیاسی مسائل اور دیگر موضوعات پر قلم اٹھایا۔ آپ نہ صرف اپنی تعلیمی زندگی میں نمایاں رہے بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں مثلاً سپورٹس، سٹوڈنٹ افیئرز، تقریری و تحریری مقابلوں میں ہمیشہ نمایاں رہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مغربی دنیاکے ایک جدید معاشرے میں روساء و امراء کے بچوں کے ساتھ رہتے ہوئے بھی آپ نے اپنے اسلاف کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے سادہ و پاکیزہ زندگی بسر کی۔ زمانہ طالب علمی میں آپ کے پاس پہننے کے لئے دو جوڑے سوٹ اور ایک جوڑا جوتا جبکہ آمد و رفت کے لئے آپ کے پاس گاڑی تک نہ تھی اور آپ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے تھے۔آپ کی مشہور و معروف تصنیفWhere Hope Takes Rootsیعنی جہاں امیدیں بھر آتی ہیں جو آپ کے مقالوں، مضامین اور انٹرویوز کا مجموعہ ہے جس میں موجودہ دور میں ساری دنیا بالعموم اور مسلم دنیا بالخصوص کو درپیش معاشرتی ، سماجی ، ثقافتی و مذہبی اور معاشی و صنعتی ترقی سے متعلق مسائل و چیلنجزکی تشخیص و ان کا حل سے متعلق تجاویز و فارمولے دیئے ہیں۔جنگ و جدل اور تنازعات کے خاتمے کی بات ہو یا قیام امن و بھائی چارہ، غربت بیماری و افلاس کے خاتمے کا معاملہ ہویا علم پروری و آرٹ و آرکٹیکچرکے فروغ کی بات ، مغرب و مشرق کے درمیان خلیج کو کم کرنے ، اسلام کے متعلق مغرب میں پائے جانے والے غلط تاثرات و بے بنیاد کے خلاف ٹھوس علمی و عملی اقدامات انجام دینے اور تیسری دنیا کے متوسط اور کمزور طبقوں کی بلا تفریق رنگ و مذہب نا قابل فراموش خدمات ،ان تمام حوالوں سے متعدد ممالک و سلطنتوں ، بین الاقوامی تنظیموں ، شرق و غرب کی معروف یونیورسٹیوں اور معروف سماجی اداروں کی جانب سے ایوارڈز، ٹائٹلز اور اعزازی ڈگریاں دی گئیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سیرت النبی ؐ کانفرنس کراچی کی صدارت ہو یا بین الاقوامی کانفرنس عمان کی نمائندگی ہو،، بین المذاہب ہم اہنگی کا مکالمہ ، میسا چوسٹس و براون یونیورسٹی میں بحیثیت مہمان خصوصی ہوں یا اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے زیر اہتمام جہالت، بھوک، بیماری اور خانہ جنگی کے خاتمے پر مذاکرہ یا دنیا کے کسی کونے میں قدرتی آفت یعنی سونامی، زلزلہ، قحط سے متاثرہ لوگوں کی امداد، افغانستان ہو یا تاجکستان ، پاکستان ہو یا انڈیا، سوڈان، کانگو ہو یا تنزانیہ و موزمبیق ہرایک کے لئے بلا امتیاز اپنی مادی ، فنی اور علمی سہارا دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔
عالمی سطح پر آباد اسماعیلی مریدوں اور اداروں کو ایک اخلاقی اور انتظامی ڈسپلن کا پابند رکھنے کیلئے با قاعدہ طور پر دستور شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانان ترتیب دیا گیاجس پر حاضر امام کا دستخط اور مہر امامت ہے۔ اس بین الاقوامی آئین کے دیباچے کی پہلی شق کے مطابق “شیعہ امامی اسماعیلی مسلمان(کلمہ )شہادت لا الہ الاللہ محمد الرسول اللہ کا اقرار کرتے ہیں اس میں (عقیدہ) توحید نیز یہ کہ محمدؐ اللہ کے آخری رسول اور خاتم النبین ہونے کو تسلیم کرتے ہیں۔اسلام جیسا کہ قرآن پاک میں نازل ہوا ہے نبی نوع انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کا اخری اور حتمی پیغام ہے اور یہ پیغام عالمگیر اور دائمی ہے۔ رسول پاک ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی الٰہی کے ذریعے روحانی اور دنیاوی معاملات کے متعلق ضوابط متعین فرمائے ہیں اس آئین کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں اپنے تمام پیروکاروں کو اسماعیلی طریقے ، امت مسلمہ ، ملک اورمسلمہ انسانی اقدار کی پاسداری کی سختی سے تلقین کی گئی ہے اور ان میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی پر تادیبی کاروائی کا واضح حکم موجود ہے۔
جیسا کہ آپ کو روشن ہے اسماعیلی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت پرتگال کی حکومت کی جانب سے اسماعیلی امامت کیلئے گلوبل سیٹ کے قیام کا اعلان ہے معاہدے کی رو سے منصب امامت کیلئے ضروری سفارتی مراعات و اعزازات، مستثنیات اور سہولیات کے توثیق ہوگی اس معاہدے میں اسماعیلی امامت کی آئینی حیثیت اور بین الاقوامی امور کی کام کرنے کی صلاحیت کو تسلیم کیا گیا ہے جس کے مطابق امامتی اداروں کو باضابطہ طور پر وہاں کے باشندوں کے معیار زندگی بہتربنانے اور علمی معاشرے کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہے جہاں م نصب امامت پر تگیزی زبان بولنے والے ممالک کے ساتھ اشتراک بڑھانے کے ساتھ بین الاقوامی برادری اور مسلم امہ کے مابین خوشگوار تعلقات ، پرامن اور شاندار مستقبل کو یقینی بنائے گی۔مولانا حاضر امام کے خواہش کے مطابق AKDNاور اس سے جماعتی منسلک ادارے انسانیت ، امّت اور دینی و دنیاوی ، فلاح و ترقی کیلئے اپنے بہتر ین، جامع اور مربوط اور پروگراموں اور انتظامات کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔ تخت امامت پر جلواہ افروز ہونے سے آج تک دن رات تن من دھن سے اقوام عالم کو یکساں معیاری تعلیم فراہم کرنے، بہترین حفظان صحت کے مواقع، ہر ایک کیلئے معاشی مواقع پیدا کرنے ،سول سوسائٹی کا استحکام ،تکثیریت کو افروغ دینے، بہترین حکومت اور اچھی حکمرانی کے اصولوں کو پایہ دار بنانے، ای سی ڈی تعلیم سے لے عمر رسیدہ بزرگوں کی دیکھ بھال تک ، معیار زندگی کی بہتری کیلئے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کیلئے معاشی ترقی کے ٹھوس اقدامات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔
میں اپنے اس مضمون کا اختتام کے پی کے کی معر وف شخصیت جناب لیکچرر سعادت حسین مخفی(جن کا براہ راست تعلق اسماعیلی مسلک سے نہیں ہے) نے چترالی کلام جو انہوں گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر مولانا حاضر امام کی شان میں حدیہ کئے ۔کچھ اشعار کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
امامت کی نصف صدی اللہ کی طرف سے انعام ہے اور یہ ہمارے لئے انتہائی خوشی کا باعث ہے کیوں کہ ہمیں (اسی میں تمام نعمتیں مل گئیں) آپ کی یاد اور آپ کے قدم ہمارے لئے مبارک ثابت ہوئے آپ کو گولڈن جوبلی مبارک ہو۔ ہر طرف تعلیم،صحت اور ثقافت کے میدان میں آپ کے انعامات ہیں اسی طرح آپ کے داد ا جان نے ہمیں غلامی سے آزاد کرایا ہے۔ آپ کے کے قدم پڑنے سے سرزمین چترال گلستان بن گئی ہے، پھر بھی یہ (قوم) احسان بھول گئے ہیں آپ کی عزت افزائی کا حق ادا نہیں کرتی، اے حاضر امام آپ کو گولڈن جوبلی مبارک ہو۔

اللہ رب العزت ملک و ملت کا حافظ و ناصر ہو۔ (آمین یارب العامین)۔


Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s