گلگت: ٹیکس کے نفاذ کے بعد گزشتہ کئی سالوں سے ادائیگیوں سے محروم گلگت بلتستان کی اخباری صنعت بھی بھاری بھر کم ٹیکس کے لپیٹ میں آگیا|PASSUTIMESاُردُو

A-Dreamy-Roadگلگت: منگل، 22 دسمبر، 2015ء پھسو ٹائمز اُردُو (نمائندہ خصوصی) گلگت بلتستان کونسل کے ان لینڈ ریونیو کے اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے گلگت بلتستان میں ٹیکس کے نفاذ کے بعد گزشتہ کئی سالوں سے ادائیگیوں سے محروم گلگت بلتستان کی اخباری صنعت بھی بھاری بھر کم ٹیکس کے لپیٹ میں آگیا اخباری صنعت پر اشتہارات کے بلات کی مد میں 1سے12فیصد ٹیکس نافذ اے جی پی آر نے اخباری بلات واپس کرنا شروع کردیا ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان کونسل کے اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو کے دستخطوں سے 18نومبر2015ء کو گلگت بلتستان کے گوشوارے جمع کرانے والے اشاعتی اداروں پر ایک فیصد جبکہ گوشوارے جمع نہ کرانے والے اشاعتی اداروں پر 12فیصد ٹیکس کے نفاذ کے حکم نامے کے بعد اے جی پی آر نے ٹیکس کٹوتی واح کئے بغیر جمع شدہ بلات کو متعلقہ محکموں کو واپس کردیا ہے ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان میں کم سے کم 1فیصد جبکہ زیادہ سے زیادہ 12فیصد ٹیکس نافذ کیا گیا ہے اور ٹھیکیدار برادری ، تاجر فرمز، کمپنیاں اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے اشتہارات کے بلات پر ٹیکس کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے اخباری صنعت پر ٹیکس کے نفاذ کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے گلگت بلتستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے مسترد کردیا ہے اور اسے ریاست کے چوتھے ستون کو کمزور کرنے اور صحافتی شعبے سے تعلق رکھتے والے افراد کا معاشی قتل قرار دیا ہے گلگت بلتستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر ایمان شاہ نے اخباری صنعت پر لاگو ٹیکسز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے بہت جلد نیوز پیپرز سوسائٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا اور ٹیکس کیخلاف لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s