گلگت: سانحہ عطاآباد کے 5سال مکمل متاثرین ابھی تک بے یارو مدد گار زندگی گزانے پر مجبور،متاثرین کا دردر کی ٹھوکریں کھنے کے باوجود کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں مل سکا ہے ، پاکستان عوامی ورکرز پارٹی|PASSUTIMESاُردُو

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

عطاآباد گوجال: 4 جنوری 2010 کو رونما ہونے والے سانحہ عطا آباد کا خوفناک منظر- تصویر محبت علی سے

گلگت: منگل، 05 جنوری، 2016ء پھسو ٹائمز اُردُو ( خبرنگار خصوصی )سانحہ عطاآباد کے 5سال مکمل متاثرین ابھی تک بے یارو مدد گار زندگی گزانے پر مجبور،متاثرین کا دردر کی ٹھوکریں کھنے کے باوجود کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں مل سکا ہے جبکہ گزشتہ حکومت اور موجودہ حکومت کو متاثرین کا کوئی فکر نہیں ہے ان خیالات کا اظہار سانحہ عطاآباد کے پانچویں برسی کے موقع پر پاکستان عوامی ورکرز پارٹی کے سینئر رہنماء ظہور الہٰی نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا سانحہ عطاآباد کے 5سال گزر گئے اور پچھلے 4سالوں سے حق پر ست رہنماء کامریڈ باباجان اور اس کے ساتھیوں کو بے گناہ پابند سلاسل اورقید و بند کی صہبتیں جیل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کامریڈ بابا جا ن اور ان کے ساتھیوں کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے متاثرین عطاآبا د پر پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے شہید باپ اور بیٹے کے حق میں آوز بلند کہ تھی جس پر انہیں پابند سلاسل کیا گیا ۔ظہور الہٰی وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حفظ الرحمن سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ عطاآباد کے متاثرین کے پرامن احتجاج پر فائرنگ سے شہید ہونے والے باپ بیٹے اور اس سانحہ پر بنے والی جوڈیشل رپورٹ منظر عام پر لایا جائے اور اسیر و حق پرست رہنماء کامریڈ باباجان کو فل فور رہا کیا جائے بصورت دیگر ملکی وعالمی سطح پر احتجاج کیلئے انسانی حقوق و انسانی دوست تنظیموں سے رابعہ کیا جائے گااور پھر پور احتجاج کیا جائے گیا ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s