عید میلاد النبیﷺ| تحریر: حاجی جمدر خان داریلی|PASSUTIMESاُردُو

MELADعید میلاد النبی ﷺ| تحریر: حاجی جمدر خان داریلی |PASSUTIMESاُردُو

ہم تمام مسلمان اللہ رب العزت کے مشکور ہیں جس نے ہمیں خیریت وعافیت ،ادب و احترام سے 12ربیع الاول 2015 ؁ء کو گزرانے کا توفیق عطا فرمایا ۔کہتے ہیں زیادہ روایات کے مطابق یہ ولادت محمد رسول اللہ ﷺ کا دن ہے۔ازل سے ولادتیں ہو چکی ہیں قیامت تک جاری رہنیگے۔نومولود ایک قدرتی کارخانے میں غائبانہ طاقت کے حکم سے حیات پا کر نمودار ہوتے ہیں ۔دن رات قدرت کا واحدنیت اور قدرت کا ثبوت پیش کر کے جا رہے ہیں ۔یہ ایام بعض لوگ لذت اور تعیش میں گزار دیتے ہیں ۔بعض یہ لمحات دکھ درد اور آنسو کے ساتھ بسر کر رہے ہیں ۔مختلف مذاہب کے لوگ مقرر دنوں اور راتوں کو محترم تصور کر کے اپنے رسم و رواج پورا کر کے رخصت فرماتے ہیں ۔ زمانہ کسی کو بن پوچھے چل رہا ہے ماضی کے اوقات میں وہ وقت یاد رکھنے کے قابل ہے۔جس میں ہمارے نبی آخر الزمان ﷺ اس دھرتی پر ظاہر ہوا یہ ممتاز وقت عام الفیل سال میں ربیع الاول کا 12تاریخ تھی۔صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے 4بجکر 45منٹ میں بذریعہ حضرت آمنہؓ کے بطن سے وہ ہستی اور نور ظاہر ہوا جسے نکلنے والی روشنی چودہ سو سال بعد بھی پھیلتی جا رہی ہے۔ انگریزی حساب سے 22اپریل 571ء کا سال تھا ۔یہ خوش قسمت بچہ مکہ کے سنگلاح پہاڑوں کے اندر ایک کچا گھر میں پیدا ہوا ۔یہی ولادت رسولﷺ والا گھر اسی جگہ میں آج بھی موجود ہے۔یہ سعادت مند بچے کا نام ان کے دادا عبد المطلب نے محمد رکھا جبکہ احمد کے نام سے معروف ہیں۔رب کائنات نے ایک کم سو نام اپنے دوست کے لئے استعمال فرمایا ہے ان کا احاطہ اس چھوٹے کاغذ پر ممکن نہیں ۔اہل علم اور مفکریں سے معلوم ہوا ہے اللہ کریم نے اپنے دوست عالم کو دنیا میں پیدا فرمایا اور اس پورے سال میں اپنے حبیب کے اعزاز میں پوری دنیا کے والدین کے لئے بیٹے عطا کر دئیے۔بیٹیوں کی پیدائش روک دی گئی تھی ۔اتنا بڑا انعام قیامت تک کسی کو نصیب نہیں ہوگا ۔حضرت آمنہ ؓ فرماتی ہیں جب میرا بیٹا عالم دنیا میں نظر آیا تو میرا اندھیرا گھر نو ر محمد ﷺ سے چمکنے لگا ۔پیدائش کے بعد یہ اتنا صاف و شفاف تھا سارا جسم گندگی ولادت سے بالکل خالی تھا ۔یوں محسوس ہوا جسے اندر سے کسی نے صفائی کر کے باہربھیجا ہے۔ناف کٹی ہوئی تھی ختنہ بھی ہوچکا تھا ۔کچھ عرصے بعد بی بی حلیمہؓ کو کفالت کی سعادت نصیب ہوئی ان کے پاس بھی غیر متوقع علامات دیکھے گئے۔آپ ﷺکی عمر مبارک چالیس سال تک پہنچ گئی۔ایک دن غار حرا میں اللہ پاک نے نبوت کا تا ج ا ن کو مرحمت فرمایا ۔وہاں سے خوف کے عالم میں گھر لوٹ آیا کمبل تان کے سونے لگا۔رات کے آخر ی حصہ میں آواز ائی اے کمبل میں سویا ہوا شخص اٹھ جااور اپنے رب کا عبادت کر۔یہ 611 ؁ء کا سال تھا اب پیغمبری کی دیوٹی لگا دی گئی۔ رسول کریم ﷺ اٹھ کر فاطمہؓ عنھا سے فرمانے لگے۔ اے بیٹی میرے بستر کو سمٹ دو رسی سے بند کر دو۔تیرے باپ کے راحت کے راتوں میں یہ آخری رات تھی ۔اب اشاعت احکام الٰہی میں تن من اور دھن کے بازی لگانے لگے۔زمانے تیزی سے پیچھے جا رہا تھا عمر مبارک 63سال تک پہنچ گئی۔ایک دن کسی جنازے سے واپس آرہے تھے کہ اچانک سر درد کے ساتھ بیماری کا آغاز ہوا۔بیماری بڑھتی گئی ۔ایک دفعہ فاطمہؓ نے آپ ﷺ کے سینے مبارک پر ہاتھ رکھ کے بول اٹھی ۔اے کاش میرے والد کا سخت بخار۔۔۔۔ پھر رونے لگی۔سرکار مدینہ نے کہا اے میری بیٹی رونا چھوڑدے ۔ تیرے باپ کے تکلیف کے دنوں میں صرف ایک دن باقی ہے۔اگلے روز 11 ؁ھ 12ربیع الاول بمطابق 631 ؁ء دو شنبہ کے دن 12بجے سے پہلے یہ دار فانی سے پردہ فرمایا۔ کل عمر 63سال 4دن چند گھنٹے ا س دھرتی پہ زندہ رہے ۔اب رخصت ہے صدا کے لئے

انا اللہ وانا اللہ راجعون
یہ سانحہ کو یاد کر کے شعرا فرماتے ہیں ۔
ًٍ۱۔بیت گیا تھا وقت قریب اٹھ گیا عکس نبیﷺ
شمع اسلام بجھ گیا ویران ہوا ان کا چمن
2۔واحسن منک لم ترقط عینی۔
واجمل منک لم تلدنساء
خلقت مبرء من کل غیب
کانک قد خلقت کما تشاء
آج آپ ﷺ کے عقیدت مند پوری دنیا میں ایک ارب تیس کروڑ انسان موجود ہے۔مگر ہم جیسے کام کے نہیں صرف نام کے مسلمان ہیں۔


Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s