اسلام آباد: گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت، پاک ۔ چین اقتصادی راہداری پر بیجنگ کے اٹھائے گئے تحفظات ، اہم فیصلے متوقع |PASSUTIMESاُردُو

cpec

تصویر بشکریہ ماجد حسین

اسلام آباد: جمعہ، 08 جنوری، 2016ء – پھسو ٹائمز اُردُو (ویب ڈسک) گلگت بلتستان کی حیثیت میں آئینی  بدیلی پر غور مبصرین کے مطابق، اس اقدام سے پاکستان کی کشمیرسے متعلق پوزیشن میں تاریخی تبدیلی آ سکتی ہے۔  انڈیا گلگت-بلتستان پر اپنی ملکیت کا دعوی کرتا آیا ہے اور اگر پاکستان نے اسے خطے کو آئینی طور پر اپنا حصہ قرار دے دیا تو دونوں ملکوں کے درمیان حال ہی میں بحال ہونے والے تعلقات کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اس تجویز کے تحت پہلی بار پاکستانی آئین میں اسے ملک کا پانچواں صوبہ قرار دیا جا سکتا ہے. اسلام آباد ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اس کے زیرتحت کشمیر کے حصوں کو نیم خودمختاری حاصل ہے اور وہ رسمی طور پر ملک کا حصہ نہیں، اور اسی موقف کے تحت وہ پورے کشمیر میں ریفرینڈم کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔

گلگت- بلتستان کے وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان کے ترجمان سجاد الحق نے اے ایف پی کو بتایا ‘ وزیراعظم نے اس معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے اور آپ کو جلد اچھی خبر ملے گی’۔

ایک سنیئر عہدے دار کے مطابق، حفیظ الرحمان اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے جمعرات کو اسلام آباد پہنچے ہیں اور اس دستاویز کو ‘ چند روز میں متعارف’ کرایا جائے گا۔

آئین میں نام شامل کیے جانے کے ساتھ ساتھ گلگت- بلتستان وفاقی پارلیمنٹ میں دو اراکین کو بھی بھیج سکے گا تاہم ان کی حیثیت محض مبصر کی ہو گی۔

گلگت- بلتستان کے اعلیٰ ترین عہدے دار نے بتایا کہ یہ اقدام پاک۔ چین اقتصادی راہداری پر بیجنگ کے اٹھائے گئے تحفظات پر کیا جارہا ہے۔

اس عہدے دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ‘ چین کسی ایسی شاہراہ پر اربوں ڈالرز خرچ کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا جو ایسے متنازع خطے سے گزرے جس پر پاکستان اور انڈیا دونوں نے دعویٰ کررکھا ہو’۔

اس راہداری منصوبے پر نئی دہلی پہلے ہی شدید تنقید کر چکا ہے اور انڈین وزیر خارجہ ششما سوراج نے جون 2015 میں اس منصوبے کو ‘ناقابل قبول’ قرار دیا تھا۔

تجزیہ کار عائشہ صدیقہ کے مطابق یہ اقدام اسلام آباد کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے اختتام کی خواہش کا سگنل ہے جس کے تحت اپنے کنٹرول حصوں کو ملک کا حصہ بنا کر انڈیا کے زیرتحت حصوں پر نئی دہلی کے دعویٰ کو تسلیم کرلیا جائے۔

ان کا کہنا تھا ‘ اگر ہم ایسا کرسکتے ہیں تو انڈیا بھی کرسکتا ہے، اس کے لیے بھی وادی کشمیر کو اپنا حصہ بنانا جائز ہوجائے گا’۔



بادبان اسلام آباد کی اصل اشاعت

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s