ہمہ یارانِ لاہور|تحریر: تہذیب حسین برچہ |PASSUTIMESاُردُو

1ہمہ یارانِ لاہور|تحریر: تہذیب حسین برچہ |PASSUTIMESاُردُو

۔۱۵ جنوری ۲۰۱۵ء کی ایک ٹھٹھرتی ہوئی صبح تھی۔چاروں جانب آسماں کو چھُوتے گلگت کے بلند و بالا پہاڑ برف کی سفید چادر اوڈھے. ایک طلسمی منظر پیش کر رہے تھے ۔جبکہ چنار کے قدیمی درخت جواں سال بیوہ کا وجود دِکھ رہے تھے اور پت جھڑ میں جھڑے پات سرِراہ آوارہ بکھرے ہوئے تھے۔درجہ حرارت منفی کے اوسط سے نیچے گرنے کے سبب روڑ کی دونوں جانب برف کی تہہ جمی ہوئی تھی۔راقم اپنے بغل میں رختِ سفر باندھے بھاگم بھاگ جٹیال بس سٹینڈ گلگت کی جانب روانہ تھااور موبائیل فون کو کان سے لگائے حلقہ اربابِ ذوق گلگت کے جنرل سیکریٹری جمشید خان دکھی ؔ سے مسلسل رابطے کی کوشش کر رہا تھالیکن موبائیل فون کمپنیوں کی خراب سروس کے سبب بار بار رَبط منقطع ہوجاتا۔
حلقہ اربابِ ذوق گلگت کے احباب ایک عرصے سے اسلام آباد سمیت لاہور کے ادبی حلقوں سے روابط بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایک مطالعاتی دورے کا پروگرام بنا رہے تھے لیکن کوئی نہ کوئی وجہ پیروں کی زنجیر بن جاتی ۔گلگت بلتستان میں چونکہ سردیاں اپنے عرو ج پر تھیں اور برف پوش پہاڑوں سے وادیوں کا رخ کرنے والی یخ بستہ ہوائیں انسان کے جسم کی ہڈیوں تک سرایت کر گئی تھیں۔آخر کار سینئر شعراء نے ایک اجلاس طلب کرکے ۱۵ جنوری۲۰۱۵ء کی صبح کو راولپنڈی کی جانب روانگی کا عندیہ دے دیا تھا۔دوستوں کے ساتھ آوارگی کا موقع میسر آئے اور بندہء بشر اسے رد کرے یہ کفرانِ نعمت کے زمرے میں آجاتا ہے لٰہذا راقم نے بھی حامی بھر لی۔
خیر جب بس سٹینڈ جٹیا ل پہنچا تو دوستوں سمیت سواری کی عدم موجودگی پر راقم کے دل میں اضطراب کی لہریں سر اٹھا رہی تھیں۔نوجوان شاعر توصیف حسن توصیف ؔ سے رابطہ کرنے پر جواب ملا کہ آمد میں تاخیر کے سبب حلقہ اربابِ ذوق کا قافلہ کچھ دیر پہلے روانہ ہوچکا ہے۔پہلے پہل اپنی سماعتوں اور حسنؔ کی صداقت پر شبہ ہواتو تصدیق کے لئے موبائیل فون استاد نظیم دیا کو تھما دیا گیا۔دیاؔ صاحب نے کہا کہ واقعی راقم کے دیر کرنے کی عادت کی وجہ سے سواری چھوٹ گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نیٹکو کی گاڑی میں روانہ ہوکر پنڈی میں کاوراں میں شامل ہونے کامشورہ بھی دیا۔
سیانے کہتے ہیں کہ کوئی بھی عادت پختہ ہوجائے توچھٹکارہ پانے میں بہت سا عرصہ درکار ہوتا ہے ۔لیکن راقم کی دیر کرنے کی عادت کا بچپن سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔سکول میں دیر سے پہنچنے کے سبب اساتذہ سے بید کھانے پڑتے جبکہ کالج میں پروفیسرز کے طعنے سننے کے بعد کئی بہانے بنانے پڑتے۔راقم نے یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ حلقہ اربابِ ذوق کے سینئر شعراء کو مطمئن کرنے کے لئے یادوں کی تہہ پر جمی گرد کو جھاڑتے ہوئے کالج کے دور کے کچھ بہانوں کو بطورِ استعمال کیا جائے۔لیکن اردو ادب کے نامور شاعر منیر نیازی کی مشہور نظم ذہن کے کسی گوشے میں نمودار ہوئی اور ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری اور مطمئن ہو ا کہ سینئر شعراء کسی بہانے سے مطمئن ہوں یا نہ ہوں لیکن منیر نیازی کی نظم کے سبب ضرور بخشش ہوگی۔
منیر نیازی نے کیا خوب کہا ہے۔
“ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلا نا ہو
مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھاناہو
بہت دیرینہ رستوں میں کسی سے ملنے جانا ہو
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یا د رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
8ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں”۔

منیر نیازی نے یہ نظم اپنی عادت سے عاجز آکر کہی ہو یا احساسِ تفاخر میں۔لیکن آج راقم کو اپنی دیر کرنے کی عادت کی وجہ سے ندامت ضرور ہوئی۔مزید دیر کرنے کی گنجائش نہیں تھی سو نیٹکو بکنگ آفس کا رخ کیا۔بکنگ آفس میں پہنچ کر مسرت کا احساس ہوا جب بکنگ کلرک نے گاڑی کی ساعتِ روانگی کے بالکل قریب ہونے کامژدہ سنا دیابلکہ اس کے ساتھ ساتھ بغیر ٹکٹ کے گاڑی میں سوار ہونے کا مشورہ بھی دیا۔راقم بنا کسی تاخیر کے گاڑی میں سوار ہوااور دوپہر۰۰:۱۲ بجے کے قریب روانگی ہوئی۔
کہا جاتا ہے کہ آفت کا پر کالہ ہو یا ساتھوں آسمان گردش میں ہوں تو کوئی بھی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہوتی ۔لٰہذا راقم کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔سواری تو وقت پر میسّر آئی لیکن خدا خدا کرکے آخری نشست نصیب ہوئی ۔شاہراہ قراقرم کا مسئلہ درپیش ہو اور آخری نشست بھی میسر آئے تو اسے قسمت کادَین سمجھ کر قبول کرنے میں ہی عافیت ہے ۔عزیز دوست عاجز ؔ مجنوں سے رابطہ کرکے جائے سفر دریافت کیا تو بونجی جگلوٹ پہنچنے کی خبر ملی ۔راقم بھی مناور کے مقام پر پہنچا تھا۔اس حساب سے ہمارے کوچ اور احباب کی سواری میں تقریباََ ایک گھنٹے کی مسافت کا فرق تھا ۔خیر اس بحث میں اعصاب پر زور ڈھالنے کے بجائے باہر کے مناظر سے محظوظ ہونا بہتر تھا۔
نیٹکو کی گاڑی شاہراہ قراقرم کی بل کھاتی ہوئی گھاٹیوں کو مسلسل عبور کر رہی تھی اور تین پہاڑوں کے سنگم کے قریب پہنچی تھی۔یہ وہ مقام ہے جہاں دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلے قراقرم،ہندوکش اور ہمالیہ آپس میں ملتے ہیں۔تھوڑی سی مسافت کے بعدبائیں جانب دنیا کا نواں بلند ترین پہاڑ نانگا پربت برف کی سفید چادر اوڑھے اپنے سینے میں سینکڑوں کوہ پیماؤں کی دردناک داستانیں لیے براجماں ہے۔
دو گھنٹے کی مسافت کے بعد راقم جب چلاس پہنچاتو گاڑی سے نکل کر عاجزؔ سے رابطہ کیاتو سن کے خوشی ہوئی کہ حاذ کا کارواں بھی چلاس پہنچاہے اور طعام کی غرض سے چلاس ہوٹل میں رُکا ہے ۔کنڈیکٹر کو تشکرانہ انداز میں خدا حافظ کہا اور ہوٹل کی تلاش شروع کر دی ۔تھوڑی سی کوشش ہوٹل ڈھونڈنے میں کارگر ثابت ہوئی ۔جہاں خوشی محمد طارقؔ ،جمشید خان دکھیؔ ،اقبال عاصی ؔ ،عبدالحفیظ شاکرؔ ،غلام عباس نسیمؔ ،احمد سلیم سلیمی ،محمد نظیم دیاؔ ،اشتیاق احمد یادؔ ،توصیف حسن توصیف ؔ ،عاجزؔ مجنوں،شاہ جہان مضطرؔ اور ناصرؔ نصیر جلوہ افروز تھے۔دوستو ں سے مل کر راقم کی آنکھوں میں خلاؤں کی جگہ آبادیاں پھیل گئی۔اور دل کو تسلی دی کہ جانِ برادر ! اب تو صعوبتیں ختم ہوگئی لیکن”ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں”کے مصداق شاکرؔ نے یہ کہہ کر خطرے کی جھنڈی ہلادی کہ گاڑی میں مزید کوئی نشست خالی نہیں بلکہ عاجزؔ نے خواہش بھی ظاہر کی کہ اگر نیٹکو کوچ میں کوئی نشست خالی ہو تو وہ بھی سواری بدلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔تو راقم نے جواب دیا۔بھلے آدمی! گاڑی کی آخری نشست میں سفر کرکے یاں تک پہنچا ہوں اب تو خدشہ ہے کہ وہ بھی پرُ ہو خیر عاجزؔ نے ایک تمسخرانہ لہجے میں جلد ازجلد نیٹکو کی گاڑی میں سفر جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔عاجزؔ خوش گفتار اور سدا بشّاش رہنے والے نوجوان شاعر ہیں۔ان کو بیٹھے بیٹھائے اکثر تخلص بدلنے کی عادت ہے ۔پہلے پہل جعفر حسین زخمی ؔ تھے پھر دیکھتے ہی دیکھتے عاجزؔ ہوئے حسین جعفر کے بعد تازہ ترین اطلاع کے مطابق عاجزؔ مجنوں کے مرتبے پر پہنچے ہیں۔طبیعت میں لا ابالی پن کا غلبہ ہے اورسرِ راہ چلتے چلتے ایسا باآواز قہقہہ بلند کرتے ہیں کہ پاس سے گزرنے والے راہگیر بھی متوجہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
چلاس ہوٹل سے نکل کر راقم نے نیٹکو کوچ کی کھوج شروع کر دی اور خوش قسمتی سے با آسانی مل گئی ۔کنڈیکٹر کو حالات سے آگاہ کیا اور دوبارہ سفر جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی ۔پہلے پہل تو آخری نشست کی بھی پرُ ہونے کی غم ناک خبر سنا دی گئی مگر تھوڑی سی سوچ وبچار کے بعدکنڈیکٹر نے گلگت سے چلاس تک کی رفاقت کا مان رکھّا اور امیدوارِ آخری نشست کو معذرت کے بعد کرایہ بھی واپس کیا ۔بندہء بشر شکر گزاری کے ساتھ گاڑی میں سوار ہوا ۔سواری شاہراہِ قراقرم کی بل کھاتی ہوئی گھاٹیوں سے گزر رہی تھی جبکہ دریائے سندھ لحظہ بہ لحظہ اپنی سمت خاموشی سے رواں تھا۔
سورج نے اپنا چہرہ پہاڑوں کے دامن میں چھپا لیاتھا اور شام اپنا پردہ کھول رہی تھی ۔فضا میں ایک کُہر آلود شگفتگی تھی جبکہ نیم تاریکی میں ڈوبے پہاڑ دل کی اضطرابی کیفیت کو مزید طول دے رہے تھے ۔ طبیعت میں بے وجہ اداسی امڈ رہی تھی اور گاڑی ویران سے رہگزاروں سے کسی بھٹکے ہوئے مسافر کے طرح گزر رہی تھی۔۱۱ گھنٹے کی طویل اور صبر آزما سفر کے بعدبشام کے مقام پر طعام کی غرض سے رکے۔بازار میں زندگی اور بشاشت کی لہر رواں

دواں تھی اورہوٹلوں میں مسافروں کی بہتات تھی ۔بشام بازار میں راقم کی ملاقات سکول کے ہم درس سہیل احمد سے ہوئی جو اُن دنوں راولپنڈی میڈکل کالج (RMC)میں زیرِ تعلیم تھا۔سہیل احمد نہایت گرم جوشی سے ملا اور یہ جان کر خوشی ہوئی کہ سہیل بھی ہماری ہی سواری کا ہمسفر تھالیکن کوچ میں سواریوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ اور گردشِ ایام کی دھول ملاقات میں تاخیر کا سبب بنی۔بشام ہوٹل میں سہیل احمد نے یادوں کا پِٹارہ کھول کر سکول کے شب و روزپر طویل گفتگو کی ۔گاڑی کی ہارن پر متوجہ ہوئے اور بھاگم بھاگ گاڑی میں سوار ہوئے اور ایک دفعہ پھر مختصر وقفے کے بعد سفر کا آغازہوا ۔کوچ اپنے منزل کی جانب روانہ تھی ۔سہیل اپنی نشست چھوڑ کر راقم کے پہلو میں خالی نشت پر جلوہ افروزہوا اور ایک دفعہ پھر گفتگو کا آغاز ہوا ۔کچھ سکول دور کے شرارتوں کے قصے تو کبھی دیگر ہم جماعتوں کے تذکرے۔کچھ دیر بعد ہماری گفتگو بھی اپنے اختتام کو پہنچی اور گاڑی میں قبرستان کی سی خاموشی پھیل گئی۔
9چاروں جانب ہولناک سنّاٹا چھایا ہوا تھاجبکہ آسمان میں چاند کو دیکھ کر لگتا تھاجیسے بے خوابی کی عادت سے مجبور ہو جبکہ گاڑی کا لپکتا ہوا سایہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔مزید تین گھنٹے کے سفر کے بعد گاڑی حسن ابدال کے مقام پر پہنچی ۔عاجز ؔ سے دریافت کرنے پر پتا چلا کہ دوستوں کی سواری ایبٹ آباد پہنچی ہے ۔راقم نے دل کو تسلی دی کی گلگت سے راولپنڈی کا طویل سفر دیر کرنے کی عادت کے سبب کشمکش میں گزرا لیکن اب منزل پہنچ کر دوستوں کی صحبت اور سکون میسر آئے۔صبح ۴ بجے کے قریب ہماری گاڑی راولپنڈی کے حدود میں داخل ہوگئی تھی ۔روڑ کے دونوں جانب ایستادہ نیم کے درخت صبحِ کاذب کی روشنی میں ایک خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے۔ہوٹلوں میں مسافروں کے لیے ناشتے کے انتظامات کیے جا رہے تھے لیکن شاہراہ پر ٹریفک کی روانی نہ ہونے برابر تھی۔ عاجزؔ سے رابطہ کرکے راولپنڈی پہنچنے کا مژدہ سنا دیالیکن احباب کی سواری کی حسن ابدال پہنچنے کی خبر اور رات کسی ہوٹل میں بسیرا کر لینے کے مشورے پر راقم کی طبیعت میں گھبراہٹ ہویدا تھی ۔ساتھ والی نشست پر بیٹھا سہیل عاجزؔ سے ہونے والی گفتگوسن رہا تھا انہوں نے ہوٹل میں رات بسر کرنے کی بجائے ہاسٹل ساتھ جانے اور تھکاوٹ کافورکرکے دوستوں کے ساتھ قافلے میں شامل ہونے پر اصرار کیا۔راقم نے تھوڑی سوچ وبچار کے بعد حامی بھر لی۔ہماری گاڑی صبح ۳۰:۴ بجے کے قریب پیر ودھائی بس سٹینڈ پہنچی ۔گاڑی سے اتر کر سامان کی گٹھڑی کو سنبھالا اور راولپنڈی میڈکل کالج ہاسٹل کی جانب روانہ ہوئے۔ہاسٹل کے مرکزی دروازے پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات دیکھ کر سہیل نے بھی تعجب کا اظہا ر کیا استفسار کرنے پر جانکاری ہوئی کہ APS پشاور کے دلخراش واقعے کے سبب ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔سہیل احمد نے ہاسٹل کے مرکزی دروازے پر راقم کی شناخت طلب کرنے پر کالج کے نئے سٹوڈنٹ ہونے کا برملا اظہار کرنے کی تجویز دی۔راقم نے اپنے دل کو تسلّی دی اور اپنے آپ سے کہا کہ پیشہ ورانہ زندگی میں تو ڈاکٹر بننے سے قاصر ر ہے لیکن آج ایک دن کے سہی ڈاکٹر بننے میں کوئی قباحت نہیں۔چوکیدار کے اصرار پر سہیل نے اپنا سٹوڈنٹ کارڈدکھایا اور راقم کی جانب اشارہ کرنے پر بطور نیو سٹوڈنٹ شناخت ظاہر کر دی۔چوکیدار نے مزید کسی پوچھ گچھ کے گیٹ کھول دیا۔سہیل احمد اور راقم خوشی بہ خوشی RMC میں داخل ہوئے اور وسیع میدان پر محیط صحن عبور کرکے ہاسٹل پہنچے۔ طویل سفر کے بعد نہایت تھکاوٹ محسوس کر رہے تھے لٰہذا جلد آرام کرنا ہی مقصود تھا۔
صبح ۳۰:۸بجے کے قریب آنکھ کھلی۔راقم نے کمرے باہر نکل کر راولپنڈی میڈکل کالج کے فراخ صحن پر نظر دوڑائی۔دور تک پھیلے وسیع میدان میں مستقبل کے مسیحاؤں کے جھر مٹ نظر آرہے تھے۔سب سے پہلے بالترتیب حسنؔ ،عاجزؔ ،نصیرؔ اور دکھی ؔ صاحب کے نمبرات ڈائل کیے لیکن بدقسمتی سے سب بند جارہے تھے۔لٰہذا مزید آرام کرنے کو فوقیت دی ۔۳۰:۱۱ بجے کے قریب دکھیؔ صاحب کے کال کی شور پر دوبارہ بیدار ہوا۔دکھیؔ صاحب کی آواز میں گھبراہٹ ہویدا تھی اور جائے آرام دریافت کر رہے تھے جبکہ ساتھ جلد یوتھ ہاسٹل اسلام آباد پہنچنے کا حکم بھی صادر کر رہے تھے۔ جمشید خان دکھیؔ گلگت بلتسان کے نہایت خوش فکر غزل گو ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ حاذ گلگت کے نوجوانوں کے واسطے ایک مشفق ناصح بھی ہیں۔راقم نے جلد از جلد تیاری مکمل کی اور اسلام آباد کی جانب روانہ ہوا ۔اسلام آباد پہنچ کر عاجزؔ سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ نوجوان شعراء آبپارہ مارکیٹ میں کچھ ضروری سامان کی خریداری کے لئے نکلے ہیں ۔راقم نے مین آبپارہ چوک میں ٹیکسی کو خیر باد کہا اور احباب کی تلاش شروع کر دی تھوڑی سی کوشش کے بعد دوستوں کے ساتھ ملاقات ہوگئی۔خریداری سے فراغت کے بعداپنے قیام گاہ یعنی یوتھ ہاسٹل کی جانب روانہ ہوئے تمام احباب اپنے کمروں سے باہر دھوپ تاپ رہے

6
تھے۔سینئر شعراء نے دیر کرنے کی عادت پر تھوڑی سی سرزنش کی لیکن کچھ بہانوں کے بعد قائل ہوگئے۔عزیز دوست اشتیاق احمد یاد کے ساتھ کمرہ میسر
آیا۔اشتیاق احمد یا دؔ خوش شکل اور خوش لباس شخصیت کے ملک ہیں اور نوجوانی کی دہلیز عبور کرنے کے باوجود نوجوان کہلانا پسند کرتے ہیں۔
شام کے ۰۰:۴ بجے تھے۔سورج غروب ہونے کو تھا جبکہ فضا میں ہوا کے ٹھنڈے جھونکوں اور ہلکی دھوپ کا امتزاج تھا۔شوخِ آوارگی کے متلاشی دوستوں نے بازار کی یاترا کا پروگرام بنایا۔اسلام آباد شہر کے گلی کوچوں میں چہل پہل تھی اور مصروف شاہراہوں پر گاڑیوں کا رش بہت زیادہ تھا۔بلیو ایریا میں دوستوں نے چائے نوشی کا پروگرام مرتب کیا۔جہاں سے فراغت کے بعدرات گئے تک Gاور Fسکیٹرز کی گلیوں کی خاک چھاں چکے تھے۔آخر کار میلوڈی فورڑ پارک کا رخ کیا ۔میلوڑی فوڈ پارک اسلام آباد شہر میں لذیذ کھانوں کاایک مرکز ہے جہاں رات گئے تک کھانوں کے شوقین افراد کا رش لگا رہتا ہے اور ایک سحر انگیز ماحول طاری رہتا ہے۔کھانے کے بعد دوستوں نے چند گز کا فاصلہ پیدل طے کرنے کا ارادہ کیا اور لال مسجد سے متصل روڑ سے ہوتے ہوئے یوتھ ہاسٹل پہنچے اسی دوران عبدالحفیظ شاکرؔ ،غلام عباس نسیم اور نظیم دیا ؔ کے مابین مزاح سے بھرپور مکالموں کا تبادلہ ہوا جس کے سبب نوجوان شعراء ایک طویل عرصے بعد کھلکھلا کر ہنسنے پر مجبور ہوئے ۔یاد رہے کہ تینوں احباب گلگت بلتستان میں سٹیج کے نامورفنکار اور صداکار رہے ہیں اور انہوں نے ریڈیو پاکستان سمیت سٹیج ولوکل ڈراموں میں فنکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔رات گئے یوتھ ہاسٹل میں دکھیؔ اور سلیمی صاحب کے کمرے میں محفل جمی جہاں یادِ رفتہ کی یادیں توکبھی یادگار مشاعروں کے تذکرے ۔ بلاشبہ ایک یادگار نشست تھی۔
صبح ۳۰:۹ بجے کے قریب آنکھ کھلی ۔راقم نے کمرے سے باہر نکل کر دیکھا تو دیاؔ صاحب طارقؔ اور عاصیؔ صاحب کے کمرے کے دروازے پر براجماں تھے اور ناشتے کے لئے جانے کے لئے مسلسل دستک دے رہے تھے۔تھوڑی دیر بعد تمام احباب تیار تھے اور آبپارہ مارکیٹ کی جانب روانہ ہوئے۔یوتھ ہاسٹل کے استقبالیہ پر راجہ ریاض سے ملاقات ہوئی جو پاکستان یوتھ ہاسٹل ایسوسی ایشن کے جنر ل منیجر ہیں۔راجہ صاحب نہایت فراخ دلی سے ملے اور گلگت بلتستان کے خطے کو یاد کرتے ہوئے اشکبار ہوئے چونکہ موصوف کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور ایک عرصے سے اسلام آباد میں مقیم ہیں لیکن ان کے دل کی دھڑکن آج بھی گلگت بلتستان والوں کے ساتھ دھڑکتی ہے۔
2آبپارہ مارکیٹ میں لوگوں کی کافی بھیڑ لگی ہوئی تھی اور رنگ برنگی گاڑیاں بازار کی رونق میں مزید اضافے کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ شور کا بھی موجب بن رہی تھیں۔ناشتے کے دوران آبپارہ چوک سے متصل ہوٹل سے بازار کا نظارہ نہایت دلفریب تھا۔ناشتے کے بعد بازار میں آوارہ گردی کے دوران گلگت بلتستان کے سینئر صحافی محبوب خیام سے ہوئی جو ان دنوں روزنامہ جناح سے منسلک تھے۔شعر اء نے چونکہ بری امام سرکارکے مزار پر حاضری کا پراگرام بنایا تھا۔ لٰہذا بری امام کی جانب روانہ ہوئے۔بری امام سرکار کا مزار آج بھی جاہ وجلال سے جلوہ افروزہے ۔بری امام سرکار کا روضہ مغل بادشاہ اورنگزیب نے خالص چاندی کے استعمال سے تعمیر کرایا تھاجو حضرت شاہ عبدالطیف کاظمی کے عقیدت مندوں میں سے ایک تھے۔بری امام سرکار۱۰۲۶ء ہجری کو چکوال میں پیدا ہوئے جہاں سے ان کے والد محترم سید محمود شاہ کے خاندان نے چکوال سے باغان گاؤں موجودہ آبپارہ اسلام آباد ہجرت کی تھی ۔اس دور میں آبپارہ بے برگ وبار زمین کا ٹکڑا تھا۔جہاں انہوں نے گلہ بانی کا پیشہ اپنایااور بری امام سرکار ریوڑ چرانے میں والد کاہاتھ بٹاتے تھے لیکن ۱۲ سال کی عمر میں گھر کو خیر باد کہا اور نور پور شاہان کا رخ کیا۔نور پور شاہان کو شروع شروع میں چور پور شاہان کے نام سے یاد کیا جاتا تھاچونکہ یہ علاقہ چور،ڈاکو اور جرائم پیشہ افراد کا مسکن ہوا کرتا تھا ۔لیکن بری امام سرکار کی تبلیغ کے سبب مشر ف بہ اسلام ہوئے اور سراط المستقیم کا راستہ اپنایا۔بری امام سرکار کی مزار پر حاضری کے بعد شعراء نے ہاسٹل کا رخ کیا۔بلاشبہ بری امام سرکار کی مزار پر حاضری کے بعد ایک دلی سکون کی کیفیت کا احساس ہوتا ہے۔
شام کا سمے تھا ۔فضا میں ایک مخملی سی تازگی تھی ۔تمام شعراء یوتھ ہاسٹل میں اپنے اپنے کمروں میں موجود تھے ۔تھوڑی دیر بعد دیامر کے نامور سماجی کارکن اور دیامر رائٹرز فورم کے صدر عنایت اللہ شمالی کی تشریف آوری ہوئی۔دکھیؔ اورسلیمی صاحب کے کمرے میں محفل جمی جبکہ تمام شعراء شمالیؔ صاحب کو مبارکباد بھی دے رہے تھے چونکہ موصوف اُن دنوں گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کی عبوری کابینہ میں وزیر اطلاعات و نشریات بنے تھے ۔شمالیؔ صاحب کے ساتھ طویل گفتگو ہوئی اوررات ۰۰:۸ بجے رخصت ہوئے۔
اصولوں اورقاعدوں کے بت شعراء و ادباء کی راہوں میں حائل کیے جائیں یہ تو زیادتی کے مترادف ہے لیکن یوتھ ہاسٹل اسلام آباد میں یہی کچھ

احباب کے ساتھ بھی ہوا۔کیونکہ رات گئے میلوڈی فورڈ پارک سے جب واپسی ہوئی تو ہاسٹل کے مرکزی دروازے کو بند پاکر سب ششدر رہ
گئے۔یوتھ ہا سٹل ایسو سی ایشن کا نیٹ ورک چونکہ ملکی سطح پر پھیلا ہوا ہے اور یہاں کا رخ کرنے والے افرادمیں اکثر سٹوڈنٹس ہوتے ہیں اور ہاسٹل کا مرکزی دروازہ رات ۰۰:۱۲ بجے بند کیا جاتا ہے لیکن شعراء آوارہ گردی کی عادت کی وجہ سے یہا ں رات گئے واپس آتے جس کی وجہ سے کئی بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
صبحِ کاذب کی روشنی کمرے کے جھروکوں سے اندر جھانک رہی تھی۔لیکن رات کی بے خوابی کے سبب آنکھوں میں نیند کا غلبہ تھا ۔کمرے سے باہر نکلا تو مطلع صاف تھا اور ہلکی ہوا کے جھونکے گالوں کو چھو کر گزرتے تھے۔ چونکہ آج اسلام آباد شہر اور اس کے گردِ نواح کی یاترا کا پروگرام بنایا گیا تھا لٰہذاتھو ڑی دیر بعد مارگلہ ہلز کی جانب روانہ ہوئے۔گاڑی مسافت طے کر رہی تھی جبکہ رفقاء کی گفتگو گاڑی کے اندر بجتے میوزک کی لَے میں خلل کا باعث بن رہی تھی۔مارگلہ ہلز کے جنگلات اپنے اندر ایک طلسمی کشش رکھتے ہیں جبکہ بلند وبالا درخت قدرتی حسن کو مزید چار چاند لگاتے ہیں۔گاڑی راستے کے خطرناک موڑ کو عبور کرتے ہوئے بلندی کی جانب گامزن تھی۔تقریباََ آدھے گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد پیر سوہاوہ پہنچے۔پیر سوہاوہ اسلام آباد شہر سے ۱۷ کلو میٹر کی دوری پر مارگلہ کی پہاڑیوں کی بلندی پر واقع ایک سیاحتی مقام ہے۔یہاں کئی نامور ہوٹلز بھی موجود ہیں جو ہمہ وقت سیاحوں کو اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔شعراء بھی تقریباََ آدھا گھنٹہ رُکے اور چائے نوشی اور سگریٹ نوشی کے بعد دامنِ کوہ کی جانب روانہ ہوئے۔دامنِ کوہ سطح سمندر سے۲۴۰۰ فٹ اور اسلام آباد شہر سے ۵۰۰ فٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔۲۰۰۷ء میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اس مقام کو پارک کی شکل دی ہے جس میں ہوٹل ،پارکنگ اور دیگر سہولیات مہیا کی گئی ہیں اوریہاں پر پان کی ایک عمدہ دکان بھی ہے۔دامنِ کوہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں سے پورے اسلام آباد شہر کے نظارے میں نگاہ مقید ہوکر رہ جاتی ہے جبکہ کبھی کبھی دھند میں گھِری بلند و بالا عمارات اور فیصل مسجد ایک دلفریب منظر پیش کرتے ہیں۔شعراء ٹولیوں کی شکل میں دامنِ کوہ میں گھوم رہے تھے اور قدرت کے دلکش مناظرسے محظوظ ہورہے تھے۔ایک جگہ ستار کی لَے فضا میں گونج رہی تھی اور ڈھول کی تھاپ ہلکی تھی لیکن افسانہ نگار احمد سلیم سلیمی کے دلفریب رقص کے بعد تیز کر دی گئی اور اشتیاق احمد یاد ؔ نے بھی سلیمی کے قدم سے قدم ملائے اور خوبصورت رقص پیش کیا۔احمد سلیم سلیمی سراپا ادیب دکھائی دیتے ہیں اور ان کا اوڑھنا بچھونا مطالعہ ہے اگر آپ ان کے ہمراہ کسی بازار کا رخ کرتے ہیں اور اگر اتفّاق سے کوئی کتب خانہ دکھائی دے تو فوراََ اس میں گھس جاتے ہیں اور کوئی کتاب خریدے بغیر نہیں لوٹتے۔طبیعت کے ساتھ ساتھ صحت اور بالوں کے معاملے میں بھی حساس واقع ہوئے ہیں جبھی اپنی عمر سے کم دکھائی دیتے ہیں۔
دامنِ کوہ کی سیر کے بعد حلقہء اربابِ ذوق کے قافلے نے سید پور گاؤں کا رخ کیا۔سید پور گاؤں برصغیر کے مغلیہ دور کے قدیم طرز تعمیر کا ایک شہکار ہے اور دامنِ کوہ کے مشرقی جانب مارگلہ کی پہاڑیوں کے نشیب میں واقع ہے۔اس میں مغل، گندھارا،یونانی،بدھسٹ،اشوکا اور کئی ادوار کا امتزاج پایا جاتا ہے اور اس کی تاریخ قدیم ہے ۔سید پو ر گاؤں مغلیہ دور میں سلطان سرنگ خان کی سلطنت میں شامل تھاجس کی حکومت اٹک سے جہلم تک پھیلی ہوئی تھی اور پوٹھوہار ریجن کا سربراہ تھا۔سلطان سرنگ خان نے سید پور گاؤں کو اپنے بیٹے سلطان سید خان سے منسوب کیا تھا۔سلطان سرنگ خان کی وفات کے بعداس کی سلطنت فرزند کو منتقل ہوئی ۔جب سلطان سید خان کی بیٹی مغلیہ بادشاہ جہانگیر سے بیاہی گئی تو انہوں نے اپنے داماد کو سید پور گاؤں تحفے میں پیش کیا۔مغلیہ دور میں مون سون کے پانی کو پینے کے ساتھ ساتھ پو دوں کو سیراب کرنے کی غرض سے یہاں پر ذخیرہ کیا جاتا تھا۔
مغلیہ دور کے بعد ایک ہندو کمانڈر راجہ مان سنگھ نے سید پور گاؤں میں ہندو مذہب کے مندروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے تالاب بھی تعمیر کرائے اور انہیں ہندو مذہب کے دیوتاؤں سے منسوب کیے جن میں راما کندا،سیتا کندا،لکشمن کندااور ہنومان کندا شامل ہیں۔اب بھی یہاں پر کئی مندر موجود ہے جو ہندو عقائد کی عکاسی کرتے ہیں۔۲۰۰۶ء میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے سیدپور گاؤں کو محفوظ کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔یوں حکومتِ فرانس نے اس پراجیکٹ کے لئے ٹیکنیکل معاونت فراہم کی جس میں فرانس کے اُس وقت کے اتاشی ریکس دی بلینٹ (REGIS DE BLENET)کی خصوصی دعوت پر فرانس کے ماہرِ تعمیرات میکس بائیو رابرٹ(MAX BIOROBERT)نے سید پور گاؤں کا دورہ کیا اور حکومتِ پاکستان کو مکمل یقین دہانی کے ساتھ ماہرانہ تجاویز بھی دیں۔یوں ۲۰۰۸ء میں اس پراجیکٹ کی تکمیل ہوئی اور آج سید پور گاؤں مقامی و بین الاقوامی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہو اہے۔

سید پورگاؤں سے فراغت کے بعد پاکستان مونامنٹ کی سیر کاارادہ کیاگیا۔آدھے گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعدمونامنٹ پہنچے۔ فضا میں نیم تاریکی پھیل چکی تھی۔پاکستان مونامنٹ کے لائٹس روشن کیے گئے تھے۔ نیم تاریکی میں مصنوعی لائٹس کی روشنی نے پاکستان مونامنٹ کے حسن کو چار چاند لگادیے تھے ۔پاکستان مونامنٹ دراصل چاروں صوبوں اور تین زیرِ انتظامی علاقوں کی نمائیندگی کرتا ہے اور مونامنٹ کو کھِلتے ہوئے پھول کے مشابہ تعمیر کیا گیا ہے۔پھول کے چار بڑے پتیّ سندھ،پنجاب،بلوچستان اورخیبر پختونخواہ اور تین چھوٹے پتیّ گلگت بلستان، آزاد کشمیر اور قبائلی علاقوں کی عکاسی کرتے ہیں۔جبکہ پاکستان مونامنٹ میں مختلف علاقوں کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ دھرتی ماں کے لئے جان کا نظرانہ پیش کرنے والے شہیدوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔
۲۰۰۵ء میں پاکستان مونامنٹ کی تعمیر اور شروعات اردو ادب کے نامور ادیب ممتاز مفتی کے فرزند عکسی مفتی نے کیا تھا لیکن ایک عرصے بعد وزارتِ ثقافت نے اس منصوبے کو حماد کاشف کی سربراہی میں وفاقی دارالحکومت میں عملی جامع پہنایا۔شعراء نے پاکستان مونامنٹ میں سیر کے بعد اسی احاطے میں تعمیر کردہ عجائب گھر کا رخ کیا لیکن سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر شام۰۰:۶ بجے ہی بند کر دیا گیا تھا۔لٰہذا میلوڈی فوڈ پارک کا رخ کیا۔ہاسٹل میں واپسی پر سخت تھکاوٹ محسوس کر رہے رہے تھے اور جلد آرام کرنے پر اکتفا کیا۔
۱۹ جنوری کی صبح تھی۔ہاسٹل کے کمروں کے باہر احباب دھوپ تاپ رہے تھے۔جبکہ کچھ شعراء اپنے کمروں میں تیاریوں میں مصروف تھے۔پوچھنے پر پتا چلا کہ لاہور رونگی کا پروگرام مرتب کیا گیا تھا۔۰۰:۱۲ بجے کے کارواںیوتھ ہاسٹل کے استقبالیہ میں رختِ سفر باندھے تیار تھا۔تھوڑی دیر بعد فیض آباداڈے کی جانب روانہ ہوئے۔آدھے گھنٹے کے مختصر وقفے کے بعد لاہور کی جانب روانہ ہوئے۔سواری مسلسل مسافت طے کر رہی تھی اور راولپنڈی کے حدود سے آگے نگل رہی تھی۔تاحدّ نظر دور تک کھیت پھیلے ہوئے تھے اور کہیں کہیں پر مالٹوں کے وسیع باغات اپنے اندر ایک طلسمی کشش رکھتے تھے۔موٹروے پر گاڑیوں کا رش بہت زیادہ تھا اور تیز رفتاری سے گزرتی گاڑیاں شور کا بھی سبب بن رہے تھے۔
شام کا وقت تھا ہماری سواری ۳۰:۴ گھنٹے کی طویل سفر کے بعد لاہور کے حدود میں داخل ہوچکی تھی ۔لاہور شہر کے بازار روشن تھے۔لاہور بس اڈے پر اتر کر سامان کی گٹھٹریوں کی وصولی تک شام کے ۳۰:۷ بجے تھے۔لاہور میں شام کے وقت کسی ایسی سواری کاحصول ممکن نہیں تھا جس میں باآسانی تمام احباب سما سکیں۔لٰہذا ۴ رکشوں میں بالترتیب ۳ شعراء بیٹھ کر ایسے ریلوے لائن کی جانب جارہے تھے جیسے کسی کی بارات میں شرکت کے لئے جارہے ہوں۔ریلوے لائن پہنچ کر المنور ہوٹل میں قیام کیا۔ہوٹل نہایت شاندار تھا اور مسافروں کی سہولت کے لئے خاطر خواہ انتظامات کیے گئے تھے۔ایک ذرا آرام کے بعد طعام کی غرض سے باہر کا رخ کیا ۔لاہور شہر کھانوں کے حوالے سے بھی بہت مشہور ہے اور رات گئے تک فوڈ سٹریٹس میں باآسانی لذیذ کھانے دستیاب ہوتے ہیں۔پیٹ پوجا کی خاطر رفقاء لاہور شہر کے لذیذ کھانوں سے خوب شکم سیر ہوئے اور دوبارہ ہوٹل کا رخ کیا۔رات گئے طارقؔ ،دکھیؔ ،عاصیؔ اور راقم نے خوب بازار یاترا کیا اور رات ۰۰:۱۲ بجے کے قریب واپسی ہوئی ۔رات کافی ہو چکی تھی لٰہذا آرام کے لئے کمروں کا رخ کیا۔
لاہور میں پہلی صبح دوستوں کے کمروں میں خوب رونق تھی اور تیاریاں جاری تھیں کیونکہ آج شہر کے معروف مقامات کی درشن کا پروگرام بنایا گیاتھا۔پروگرام کے مطابق ۰۰:۱۰ بجے مینار پاکستان کا رخ کیا گیاجو ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کے قراردادِ پاکستان کی یادگار ہے اور آج بھی اپنے شان وشوکت سے ایستادہ ہے۔لیکن اُن دنوں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مکمل سیل تھا ۔بہر حال شعراء نے گارڑن میں تھوڑا سا وقت گزارا ۔مینارِپاکستان یاترا کے بعد شاہی قلعہ کا رخ کیا۔شاہی قلعہ میں بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کا درمیانی علاقہ حضوری باغ کے نام سے جانا جاتا ہے۔،مہاراجہ رنجیت سنگھ نے۱۸۱۸ء میں باغ کے درمیان ایک بارہ دری تعمیر کرائی ۔یہ دومنزلہ عمارت تھی جس کے نیچے تہ خانہ ہے۔بارہ دری امورَ مملکت کی انجام دہی کے دوران مہاراجہ رنجیت سنگھ اور دیگر سکھ حکمرانوں کے زیرِ استعمال رہی۔قومی شاعر علامہ اقبال کا مزار بھی حضوری باغ کے جنوب مغربی کونے میں واقع ہے جو ۱۹۵۱ء میں تعمیر ہوا۔شعراء نے حضوری باغ میں تصویر کشی کے سلسلے کے بعد بادشاہی مسجد کا رخ کیا ۔بادشاہی مسجد کو

مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے ۷۴- ۶۷۳ ۱ء میں تعمیر کرایاتھا۔مسجد کی دیواریں چھوٹی اینٹ اور قصوری چونے سے تعمیر کی گئی ہیں جبکہ بیرونی سطح اور گنبدوں پرسنگِ سرخ اور سنگِ مرمرنصب ہے جو انڈیا سے لایا گیا تھا۔سکھوں اور انگریزوں کے دور میں مسجد کو عسکری اور رہائشی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے مسجد کو کافی نقصان بھی پہنچا تھا لیکن ۶۱-۱۹۳۹ء کے دوران مسجد کی جامع درست حالی کا م کیا گیااور تباہ شدہ حصوں کی تعمیرِ نو کی گئی۔
بادشاہی مسجد کے بعد قافلے نے شاہی قلعہ کا رخ کیا۔شاہی قلعہ یا قلعہء لاہور مغلیہ دور کا تاریخی ورثہ ہے ۔ قلعہ لاہور کے جھروکوں سے ماضی میں جھانکا جائے توکئی دیو مالائی قسم کی کہانیاں ہمارے سامنے آتی ہیں اور ۱۹۵۹ء میں لاہور قلعہ کی کھدائی کے دوران دوسری صدی قبل مسیح ؑ کے آثار ملے ہیں جبکہ لاہور قلعہ کے ذکر میں شہاب الدین غوری (۱۱۸۶-۱۱۸۰)کے لاہور حملوں کے حالات سے ملتا ہے لیکن شہنشاہ اکبر (۱۶۰۵-۱۵۵۶)ء نے ۱۵۶۶ء میں قلعہ لاہور کی پختہ اینٹوں سے تعمیر کرائی اور اسے شمالی جانب سے دریائے راوی تک وسعت دی جو ۱۸۴۹ء تک قلعہ کی شمالی دیوار کے ساتھ بہتا تھا۔اکبری دور میں قلعے کے اندر اکبری محل، دولت خانہ،دولت خانہ ء خاص و عام اور اکبری گیٹ ہوئے اور بعد میں آنے والے مغل بادشاہوں نے بھی قلعہ کے اندر رتعمیرات جاری رکھیں۔اورنگزیب عالمگیر نے ۱۶۷۴ء میں مغربی جانب عالمگیری دروازہ تعمیر کرایا۔۔آٹھ درہ حویلی مائی جنداں سکھ دور میں (۱۸۳۹-۱۷۹۹)ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے تعمیر کروائیں۔۱۸۴۶ء میں انگریزوں نے قلعہ پر قبضہ کیااور جنوبی دیوار گرا کر سیڑھیاں تعمیر کرادیں۔اور آخر کار ۱۹۲۷ء میں اس کو محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کر دیا گیا۔یا د رہے کہ قلعہ لاہور یونیسکو کے تحت عالمی ورثہ میں بھی شامل ہے۔
شاہی قلعہ میں آج کل سیاحوں کی سہولت کے لئے چھوٹے چھوٹے چائے خانے ،مشروب خانے ،کتب خانے اور دکانیں بھی بنائی گئی ہیں تاکہ سیّاح مستفید ہو سکیں۔رفقاء یہاں چائے نوشی کی غرض سے رکے جبکہ طارقؔ ،دکھیؔ اور عاصیؔ صاحب نماز پڑھنے کے لئے چلے گئے۔تھوڑی دیر بعد شاہی قلعہ سے واپسی ہوئی اور پا پیادہ لاہور شہر کے گلی کوچوں اور مارکیٹوں سے ہوتے ہوئے داتا دربار کا رخ کیا ۔بازار میں لوگ خریداری میں مصروف تھے جبکہ گلی کوچوں میں بچے کھیل رہے تھے۔ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد داتا دربار پہنچے۔
داتا دربار جنوبی ایشیا کے قدیم زیارات میں سے ایک ہے اور یہ زیارت عظیم صوفی حضرت ابوالحسن ہجویری کے نام سے منسوب ہے اوریہ احاطہ ۱۱ ویں صدی میں حضرت داتا گنج بخش کا مسکن بھی رہا ہے۔داتا دربار کو غزنوی بادشاہ ذاکر الدین ابراہیم نے گیارھویں صدی کے اواخر میں تعمیر کرایا تھالیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کئی تبدیلیاں بھی آئیں۔حلقہ ء اربابِ ذوق کے دوستوں نے دربار پر حاضری دی اور نمازِ عصر بھی یہی پہ ادا کی۔
داتا دربار سے واپسی تک شام ہوچکی تھی اور فضا میں ایک مخملی سی شگفتگی چھائی ہوئی تھی۔احباب نے ایک چائے خانے رخ کیااور چائے کا دور چلا۔رات گئے قیام گاہ کارخ کیا ۔آدھی رات کو بادلوں کی گھن گھرج سے کمرے کا پروقار سکوت ٹوٹ گیا گویا بادل اپنا رنگ چھلکا رہے ہوں۔کمرے کی کھڑکی سے بازار کا منظر نہایت دلکش تھااور اوس ٹپک رہی تھی ۔روڑ پر گاڑیوں کا رش کم تھاجبکہ بارش کے پانی کے سبب شہر کی سڑکیں نکھر رہی تھیں۔
لاہور شہر میں صبحِ صادق کی روشنی نے پھیل کرایک نئے دن کی نوید سنا دی۔کمرے میں دم گھونٹنے والی خاموشی اور اداسی چھائی ہوئی تھی ۔راقم نے باہر نکل کر عاجزؔ اور حسن ؔ کے کمرے کا رخ کیا۔ سینئر شعراء خریداری کی غرض سے مارکیٹ گئے ہوئے تھے۔لٰہذا نوجوان شعراء نے ۰۰:۱۰ بجے بازار کا رخ کیا۔حسنؔ اور راقم نے پاک ٹی ہاؤس کا پروگرا م بنایا۔ٹیکسی لی اور مال روڈ سے ہوتے ہوئے نیلا گنبد پھر تھوڑی سی پیدل مسافت کے بعد پاک ٹی ہاؤس پہنچے۔پاک ٹی ہاؤس پاکستان کے ادباء،شعراء ،فنکار اور دانشوروں کا ایک مشہور چائے خانہ ہے جو آزادی سے قبل۱۹۳۲ء میں ایک سکھ خاندان کی ملکیت تھا۔لیکن ۱۹۴۰ء میں ینگ مینز کرسچن ایسو سی ایشن (YOUNG MEN CHIRISTIAN ASSOSIATION)کے سپرد کی گئی ۔۱۹۴۷ء میں سراج الدین احمد نامی ایک تاجر نے کرائے پر لیا اور پاک ٹی ہاؤس کا نام دیا۔جس کے بعد اردو ادب کے نامور شعراء وادباء جن میں فیض احمد فیضؔ ،آغا شورش ؔ کشمیری،ابنِ انشاءؔ ،احمد فرازؔ ،سعادت حسن منٹو ،منیر ؔ نیازی ،میراؔ جی،کمال ؔ رضوی ،ناصرؔ کاظمی اور انتظار حسین جیسی نامور شخصیات یہاں کا رخ کرکے منڈلی جماتے تھے۔سن۲۰۰۰ء میں کاروباری وجوہات کے سبب اس چائے خانے کو بند کر دیا گیاتھا لیکن ۲۰۱۲ء میں پنجاب گورنمنٹ نے اسے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیایوں ۱۳ سال کے طویل وقفے کے بعد ۸ مارچ ۲۰۱۳ ء کو شعراء، ادباء ،دانشوروں اور طلباء کے لئے اس چائے خانے کی خدمات پیش کی گئی۔

نوجوان شاعر حسنؔ اور راقم نے پاک ٹی ہاؤس کی پہلی منزل میں پڑی خالی نشست سنبھالی اور چائے کا آڈر دیا۔چائے خانے میں جی سی یونیورسٹی کے طلباء کی بھیڑ لگی ہوئی تھی جو شور کا بھی موجب بن رہے تھے۔چائے خانے میں ہماری ملاقات گلگت کے معروف ڈاکٹر ارشد کے فرزند حسنین سے ہوئی اور اس ملاقات کا سبب راقم کی گلگتی دیسی ٹوپی بنی ۔حسنین کے ساتھ گفتگو طول پکڑتی جارہی تھی اور ایک دفعہ پھر چائے کا دور چلاایک گھنٹے کے بعد ہماری نشست برخاست ہوئی اور پا پیادہ گھومنے پھرنے کا پروگرام بنا۔
پاک ٹی ہاؤس سے نکل کر مال روڈ سے ہوتے ہوئے انارکلی پہنچے۔دو گھنٹے کی طویل آوارہ گردی تک دوپہر ڈھل چکی تھی اتنے میں راقم کا موبائیل بجا دیکھا تو یاد ؔ صاحب یاد کر رہے تھے اورحلقہ ء ارباب ذوق کے قافلے کی پاک ٹی ہاؤس میں موجودگی کی خبر کے ساتھ ساتھ جلد از جلد ہمیں بھی پہنچنے کی تاکید کر رہے تھے۔راقم اور حسن ؔ نے پاک ٹی ہاؤس کا رخ کیا۔پاک ٹی ہاؤس پہنچ کر نظر دوڑائی تو گراؤنڈ فلور کے بائیں جانب نامور شاعر ناصر زیدی صاحب جلوہ افروز تھے۔راقم اور حسن نے شرفِ ملاقات اور بیٹھنے کی اجازت چاہی۔زیدیؔ صاحب نے جوش دلی سے قبول کیااور انہوں نے حاذ کے دیگر احباب کا بھی پہلی منزل میں جاری انجمن ترقی پسند مصنّفین کی تنقیدی نشست و محفلِ مشاعرہ میں موجودگی کا تذکرہ کیا اور طویل گفتگو ہوئی۔زیدیؔ صاحب سے رخصت کے بعد پہلی منزل پہنچے جہاں انجمن ترقی پسند مصنّفین کے زیرِ اہتمام تنقیدی نشست جاری تھی۔ایک گھنٹے کے بعد حاذ گلگت کے شعراء کو شعر گوئی کاموقع دیا گیاجہاں گلگت بلتستان کے شعراء کے کلام اور تازہ افکار کو خوب سراہا گیا۔
۲۲ جنوری کی صبح ناشتے کے بعد لاہور چڑیا گھر کا رخ کیا۔لاہو ر کا چڑیا گھرجنونی ایشیا کے بڑے چڑیا گھروں میں سے ایک ہے اور اس چڑ یا گھر کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا تیسرا یا چوتھا قدیمی چڑیا گھر ہے جسے لال مہوندرا رام نے ۱۸۷۲ء کو لاہور میونسپل کوعطیہ کیا تھا۔جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کئی تبدیلیاں لائی گئی۔۲۰۱۰ء کے ایک اعداد و شمار کے مطابق اس چڑیا گھر میں۷۱ اقسام کے ۱۲۸۰ درخت ،۱۳۶ نسلوں کے ۱۳۸۰ جانور،۸۲ انواع کے ۹۹۶ پرندے ،۸ اقسام کے ۴۹ مگرمچھ اور ۴۵ اقسام کے ۳۳۶ دودھ پینے والے جانور وں کی قیام گاہ ہے۔
شعراء مسلسل لاہور چڑ یا گھر میں پاپیادہ چل رہے تھے اور قدرت کی تخلیقات سے محظوظ ہورہے تھے۔ایک جگہ جاکر مشروب خانے میں منڈلی جمائی اور مشروبات کے ساتھ ساتھ گفتگو کا سلسلہ بھی جاری ہوا۔ایک گھنٹے کے بعد لاہور چڑیا گھر سے فراٖغت کے بعد لاہور کے عجائب گھر کا رخ کیا گیا۔لاہورکا عجائب گھر پاکستان کا سب سے بڑا عجائب گھر ہے جو (۶۶-۱۸۶۵)ء میں موجودہ پنجاب نمائش گاہ کی عمارت میں بنایا گیا تھالیکن ۱۸۹۴ء میں موجودہ عجائب گھر کی عمارت میں منتقل کیا گیا۔اس عمارت کا نقشہ سر گنگا رام نے بنایا تھا ۔لاہور عجائب گھر میں مغلیہ ،سکھ ،بر ٹش اور کئی ادوار کے لکڑی کی چیزیں ،تصاویر، موسیقی کے سامان ،قدیم جیولری ،قدیم کپڑے ،مٹی کے برتن اور جنگی سازوسامان لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں جبکہ گندھارا دور کا بدھا کا مجسمہ عجائب گھر کے مقبول ترین اشیاء میں سے ایک ہے ۔یہاں پر دوستوں کو سندھ کی قدیم تہذیب اور گندھارا دور کے تبرکات کو قریب سے دیکھنے کا مو قع ملا۔
حلقہ ء ارباب ذوق کے کارواں کا آج چونکہ دوبارہ اسلام آباد واپسی کا پروگرام تھااور دوپہر کے۰۰: ۲ بھی بج رہے تھے لٰہذا شعراء نے لاہور میوزیم سے ہوٹل کا رخ کیا تاکہ ریلوے سٹیشن پہنچنے میں تاخیر نہ ہو۔ جبکہ طارقؔ ،عاصیؔ اور راقم نے کچھ خریداری کی غرض سے پرانی انارکلی کا رخ کیا ۔عاصیؔ صاحب ماضی کو یاد کرتے ہوئے پرانی انار کلی کے ہوٹلوں کاتذکرہ کر رہے تھے چونکہ عاصی ؔ صاحب ماضی میں کاروباری سلسلے میں اکثر یہاں کارخ کرتے تھے اوریہاں پر قیام کرتے تھے۔احباب نے پرانی انارکلی سے ٹیکسی لی اور ہوٹل کی جانب روانہ ہوئے۔
شام کے ۳۰: ۴ بجے تھے اور فضا مین نیم تاریکی پھیل چکی تھی شعراء بھاگم بھاگ اپنی سامان کی گٹھڑیاں سنبھالے ریلوے سٹیشن کی جانب روانہ تھے۔تھوڑی سی مسافت کے بعد بالاخر ریلوے سٹیشن پہنچے ۔آدھے گھنٹے کے بعد ٹرین اپنے وقت کے مطابق ہماری منزل یعنی راولپنڈی کی جانب روانہ ہوئی۔ریل میں تھوری سی خاموشی کے بعد دوستوں کے مابین گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ایک گھنٹے کے بعد شعر وشاعری کا دور چلا پھر اس کے بعد شنا گانوں کی سریلی آوازیں فضا میں گونجنے لگیں۔شاکرؔ صاحب اٹھے اور رقص شروع کیا اور ریل میں ایک خوبصورت ماحول پیدا ہوا۔کچھ دیر بعد چائے کابھی دور چلا۔۵ گھنٹے کی طویل سفر کے بعد بالا خر راولپنڈی ریلوے سٹیشن پہنچے۔رات کے ۱۱ بج رہے تھے اور راولپنڈی میں ہلکی پھلکی بارش ہورہی تھی۔ایک وین

کا انتظام کیا گیا اور اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے۔یوتھ ہاسٹل پہنچ کر احباب سخت تھکاوٹ محسو س کر رہے تھے لٰہذا اپنے اپنے کمروں کا رخ کیا گیا۔
اگلے دن شام کے وقت رفقاء نے اکادمی ادبیات کا رخ کیا ۔اکادمی ادبیات کا قیام پاکستان کے نامور شعراء وادباء نے ۱۹۷۶ء میں کیا تھا۔اور نامور شاعر احمد فراز اس ادارے کے پہلے ڈائریکٹر تعینات ہوئے ۔احباب نے اکادمی ادبیات کے تعلقات عامہ افسرطارق شاہدسے ملاقات کی اور حلقہ اربابِ ذوق کی کتب پیش کیں طارق شاہدصاحب نے حلقہ ء اربابِ ذوق کے اس دورے کو سراہا اورخواہش بھی ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی حاذکے شعراء و ادباء اکادمی ادبیات سے روابط رکھیں گے۔اس کے ساتھ انہوں نے تھوڑی دیر بعد اکادمی ادبیات ہال میں منعقدہ محفل مشاعرے میں شرکت کی دعوت بھی دی۔سینئر شعراء نے ذاتی مصروفیات کے سبب معذرت کی جبکہ عاجز،ؔ سلیمی،یاؔ د اورراقم نے مشاعرے میں شرکت کا فیصلہ کیااور ہال کا رخ کیا۔مشاعرہ شروع ہونے کے بالکل قریب تھااور مشاعرے میں احسان اکبر،عباس تابشؔ ، شہزاد نیّر،جلیل عالی،راشدہ ماہین ملک سمیت ملک بھر کے نامور شعراء شریک تھے۔مشاعرہ تین گھنٹے تک جاری رہا اور شعراء نے اپنے کلام کے ذریعے محفل کو چار چاند لگا دیے۔مشاعرے کا شیڈول چونکہ پہلے ہی فائینل کیا گیا تھا لیکن طارق شاہدصاحب کی کاوشوں کے سبب گلگت بلتستان کی نمائیندگی کے لئے ایک شاعر کو کلام پڑھنے کا موقع دیا گیا اور حلقہ ء ارباب ذوق گلگت کی نمائیندگی اشتیاق احمد یاد نے کی اوراپنے کلام سے خوب داد پائی۔مشاعرے کے اختتام پر نامور شعراء کے ساتھ ملاقات ہوئی جن میں عباس تابشؔ ،شہزاد نیّر ،احسان اکبر ،جلیل عالی ،راشدی ماہین ملک اور دیگر شامل تھے جبکہ شہزاد نیرّ نے اپنے کتب کے تحائف بھی پیش کیے۔
اگلی صبح ۷ بجے کے قریب عاجزؔ کے بلاوے پر آنکھ کھلی ۔عاجز ؔ نے بتایا کہ عباس تابشؔ صاحب رائٹرز ہاوس میں ملنے کو کہہ رہے رہیں ہیں۔ٹیکسی لی اورعاجز اور راقم نے اکادمی ادبیات رائٹرز ہاؤس کا رخ کیا۔رائٹرز ہاوس میں عباس تابش ؔ صاحب بڑے تپاک سے ملے۔عباس تابشؔ صاحب ایک اچھے شاعر کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان بھی ہیں عباس تابش کے ساتھ دو گھنٹے کی رفاقت رہی ۔کبھی گلگت بلستان کی محرومیوں کے قصے تو کبھی میر ؔ و غالب ؔ کے قصے ۔گفتگو طویل ہو تی جارہی تھی ۔اتنے میں شکیل جاذب ؔ اور فیصل آباد کے نامور شاعراانجم سلیم سلیمی کی آمد ہوئی۔طویل گفتگو کے بعد جب نشست اپنے اختتام کو پہنچی تو عباس تابشؔ صاحب نے اپنی نئی شعری تخلیق”شجر تسبیح کرتے ہیں”اپنے دستخط اور نیک خواہشات کے ساتھ عنایت کی۔بلاشبہ عباس تابشؔ صاحب کے ساتھ ایک یادگار نشست ثابت ہوئی۔واپسی پر عاجزؔ اور راقم جب ہاسٹل پہنچے تو شعراء مشاعرے کی تیاریوں میں مصروف تھے اور پاکستان یوتھ ہاسٹل ایسوسی ایشن کے عہدیداران جن میں وائس چیئر مین انوار حسین صدیقی،سیکریٹری آغا افضال حسین ،جی ایم راجہ ریاض احمد خان اور ممبر ایمبیسڈر قاضی ہمایون صاحب شامل تھے کی طرف سے ایک ظہرانے اور محفل مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھا۔دوپہر ۰۰:۲ بجے کے قریب مشاعرے کا آغاز ہوا ۔میزبانوں نے شعراء کے کلام کو خوب سراہا جبکہ مشاعرے کے آخر میں پاکستان یوتھ ہاسٹل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری آغا افضال حسین اور حاذ گلگت کے جنرل سیکریٹری جمشید خان دکھی ؔ نے اپنے تاثرات بیان کیے۔
انسان کی زندگی میں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جن میں ایک طرف طبیعت میں بشاشت کی لہر ہوتی ہے تو دوسری طرف بے وجہ اداسی چھائی ہوتی ہے ۔کچھ ایسی ہی کیفیت آج راقم حاذ گلگت کے احباب میں محسوس کر رہا تھا کیونکہ ایک طرف سونی گیلت کی جانب واپسی کی خوشی تو دوسری طرف دوستوں کی ۱۱ دن پر محیط طویل رفاقت اور ہم سفری اپنے اختتام کو پہنچنے والی تھی۔یوتھ ہاسٹل کی فضائیں سونی سونی لگ رہی تھیں۔شاید قدرت نے دنیا میں کچھ ایسے رشتے بھی پیدا کیے ہیں جن کی ڈور خون کے رشتوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہے اور ان میں محبت ،خلوص،احساس اور احترام کا عجب امتزاج پایا جاتا ہے۔ایک ایسا ہی رشتہ حلقہ اربابِ ذوق گلگت کے احباب کے مابین بھی استوار ہے ۔شایدادب کا رشتہ ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ جس میں علاقائی ،مسلکی اور لسانی تفرقات کی کوئی وقعت نہیں ہوتی اور یہ صرف اور صرف علم و آگاہی،افکار کی مماثلت ،احترام اور برداشت کے باعث مضبوط سے مضبوط تر ہو جاتا ہے۔ خیر جب تک سانسیں باقی ہیں حاذ گلگت کے دوستوں کے یہ مضبوط رشتے قائم و دائم رہینگے۔اسی کے ساتھ خوبصورت یادوں سے مزیّن آوارہ گردی اپنے اختتام کو پہنچی۔


5

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s