گلگت: اگر پاکستان گلگت بلتستان کو ضم کرنا ہے تو بھارت کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم بنانے میں کامیاب ہو جائے گا، یٰسین ملک کا وزیر اعظم کو خظ|PASSUTIMESاُردُو

  • 3گلگت: (پھسو ٹائمز اُردُو ویب ڈیسک) لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ ا| بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کے نام لکھے گئے ایک کھلے خط میں یاسین ملک نے کہا کہ میں آپ کے لئے اپنی نیک خواہشات اور خیر خواہی کے جذبات پیش کرتا ہوں میں آج یہ خط اس لئے رقم کر رہا ہوں کیونکہ کچھ اطلاعات ہیں کہ آپ کی حکومت عنقریب گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے بارے میں ایک میٹنگ منعقد کر رہی ہے میں اپنا دل آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آپ میرے جذبات کی قدر کریں گے انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ 14 جنوری 2016 کو آپ کی حکومت گلگت بلتستان کے مستقبل کے حوالے سے ای ک اجلاس منعقد کر رہے تھے اس حوالے سے بہت سے حلقوں کے اندر خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ آپ کی حکومت گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کرنے کے لئے کسی قسم کا اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتی ہے اس فیصلے سے مسئلہ جموں و کشمیر پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے اگر پاکستان نے اپنی خود مختاری کا اطلاق گلگت بلتستان کے خطے پر کر دیا تو بھارت کے پا س ایک سیاسی اور اخلاقی جواز ہو گا کہ پاکستان بیک جنبش قلم کشمیر پر پر بھارت کے قبضے کو مضبوط تر کرنے میں مدد کرے گا وزیر اعظم میں بحیثیت جموں و کشمیر کے عوام کے جذبات و احساسات کے ایک حقیقی ترجمان آپ پر زور دیتا ہوں ار آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ اس کاوش سے دور رہیں یہ میری سیاسی فراست ہی نہیں بلکہ کشمیریوں کے جذبات و احساسات اور قربانیوں کاعزت و وقار ہے جو مجھے یہ اپیل کرنے پر ابھار رہے ہیں ۔ 1947 سے ہی جموں و کشمیر کے لوگ اپنے بنیادی پیدائشی حق کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس دوران لاکھوں کشمیریوں نے اپنے جان کی قربانی بھی دی ہے یہاں لوگوں نے اپنے عزیز و اقارب کو کھویا ہے اپنے گھر بار کو لٹایا ہے اورابھی بھی کشمیر کے باسی اپنی جدوجہد اور تحریک کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں اگر آپ کی حکومت گلگت بلتستان کو پاکستان کے اندر ضم کر دیتی ہے اور اس کے نتیجے میں اگر بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنے تسلط اور قبضے کو مستحکم بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہو گا کہ لوگوں کے جذبات و احساسات کا سودا کیا جا رہا ہے کشمیر کوئی سرحدی یا زمین کا تنازعہ نہیں ہے یہ لوگوں کے حقوق کا مسئلہ ہے اور زمین کے لئے حقوق کا سودا کرنا لوگوں کے جذبات و احساسات کو قتل کر دینا ہے وزیر اعظم میڈیا رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ چائنا پاکستان کا اکنامک کاریڈور کی وجہ سے آپ گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں معاشی ترقی بہت اچھی ہے لیکن آپ اس ضمن میں کوئی اخلاقی جواز نہیں رکھتے کہ آپ کوئی ایسی پالیسی اختیار کریں جو لاکھوں کروڑوں کشمیریوں کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کرے گا میں جانتا ہوں اور ہمیں احساس ہے کہ پاکستان اس وقت نازک دور سے گزر رہاہے لیکن اس کا قعطاً یہ مطلب نہیں کہ آپ لوگوں کے جذبات کا سودا کریں میں آپ کو ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں جب آپ نے 2009 میں مجھ سے لاہور میں ملاقات کی تھی اور آپ نے میرے ساتھ کئی وعدے بھی کئے تھے ۔ یہاں پر ایک چیز شامل کرنا چاہتا ہوں کہ تاریخ معمولی قسم کی سودا بازی اور علاقوں کی ادلا بدلی سے نہیں بنائی جاتی بلکہ تاریخ میں نیک نامی لوگوں کے جذبات و احساسات اور خواہشات سے سبھی بشمول آپ بخوبی واقف ہÊ انہوں نے کہا کہ تاریخ اور اخلاقیات ہمیں بتاتے ہیں کہ لوگوں کی خواہشآت ہی بالآخر غالب آتے ہیں تاریخ لوگوں کو ان کی عظمت اور بڑے اہداف کی بنا پر یاد رکھتی ہے اس لئے میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ کبھی سوچ رکھن اور مختصر وقتی مفادات کو ترک کر دیں ۔


    ڈیلی آزاد کی اصل اشاعت

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s