چلاس: ضلع دیامر میں بھی اینٹی ٹیکس مومنٹ کی کال پر ،انجمن تاجران دیامر ،کنٹریکٹر ایسوسی ایشن دیامر،ٹیکسی ایسو سی ایشن چلاس اور اہلیان دیامر نے گلگت بلتستان میں غیرقانونی ٹیکس کے نفاظ کے خلاف مکمل شٹر ڈاون ہڑتال کرنے کے بعد سخت احتجاجی مظاہرہ کیا|PASSUTIMESاُردُو

7cad5df7-f92a-4f6b-9ca9-57a092b6a4e1چلاس: جمعرات، 14 جنوری، 2016ءٰ – پھسو ٹائمزاُردُو (عمر فاروق فاروقی) گلگت بلتستان کے تمام اضلاع سیمت ضلع دیامر میں بھی اینٹی ٹیکس مومنٹ کی کال پر ،انجمن تاجران دیامر ،کنٹریکٹر ایسوسی ایشن دیامر،ٹیکسی ایسو سی ایشن چلاس اور اہلیان دیامر نے گلگت بلتستان میں غیرقانونی ٹیکس کے نفاظ کے خلاف مکمل شٹر ڈاون ہڑتال کرنے کے بعد سخت احتجاجی مظاہرہ کیا ۔احتجاجی مظاہرے میں داریل تانگیر ،تھک نیاٹ ،گوہرآباد،تھور ہڈور،اور کھنر سے ہزاروں لوگوں نے ریلیوں کی شکل میں شرکت کیا ۔اس موقع پر مظاہرین نے انکم ٹیکس ،جزل ٹیکس ،ود ہولڈنگ ٹیکس اور سروس ٹیکس نامنظور نامنظور کے فلک شگاف نعرے لگائے اور صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرا بازی بھی کیا گیا ۔چلاس شہر کے مرکزی چوک پر منعقدہ احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اینٹی ٹیکس مومنٹ گلگت بلتستان کے رہنماوں حاجی سید جان،محمد افضل خان،مولنا طوطا،شبیر احمد قریشی،شاہ ناصر،طاہر ایڈوکیٹ،طیفور شاہ،نور محمد،انبیاء قریشی،محمد ولی،سوال خان دیگر نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت گلگت بلتستان کے عوام پر زبردستی ٹیکس لگا کر بھوکے اور ننگے مارنا چاہتی ہے گلگت بلتستان کے عوام وفاقی ڈرون حملوں کو مزید برداشت نہیں کرسکتے ہیں ،اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے آج کے بعد ہم اپنے حقوق چھین کر لیں گے۔انہوں نے کہا کہ نکاح کے بغیر شادی نہیں ہوتی ہے ،جب تک وفاقی حکومت ہمیں آئینی دہارے میں شامل نہیں کرتی اُس وقت تک ہم پر کسی قسم کے ٹیکس کا نفاط مکمل غیر قانونی اور غیر آئینی تصور ہوگا ۔،وفاقی حکومت اپنا قبلہ درست کرے اور اس محکوم قوم پر مزید ظلم و جبر کا ڈرامہ نہ رچائے ۔گلگت بلتستان کے عوام انتہائی غریب ہیں اور ہر قسم کی سہولیات سے محروم ہیں ،ان تمام صورت حال سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوام پر مزید ظلم و ستم کا بازار گرم کرنے پر تلی ہوئی ہے ،جس کے بھیانک نتایج برآمد ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انجینئرنگ کونسل کا قیام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے ،حکومت فوری طور پر انجینئرنگ کونسل کو ختم کرے ،اور یہاں پر نافظ انکم ٹیکس کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دینا حرام ہے ،اگر حکومت نے اس خطے کو آئینی حقوق دیئے بھی تو ہم ٹیکس دینے کے پوزیشن میں نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی اپنی ظلمانہ روش بدلیں اور سیدھی راہ پر چلیں ،ورنہ یہاں کے عوام آپ کو نہیں بخشیں گے ۔وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے وسائل پر قبضہ جمائی بیٹھی ہے ،اور اپنی مرضی کے فیصلے کرکے یہاں کے عوام کو لوٹا جارہا ہے ۔مگر پوچھنے والا کوئی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر گلگت بلتستان میں نافظ کردہ غیر قانونی غنڈہ ٹیکس ختم نہ کیا گیا تو گلگت بلتستان کے عوام اپنے حقوق کیلئے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2010سے اب تک گلگت بلتستان کے کنٹریکٹرز کے اربوں رقم کی ادائیگی حکومت نے نہیں کیا ہے ۔ملک کے دیگر صوبوں میں تعمیراتی مشنری کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث جزل اسکلیشن دیا گیا ہے ،لیکن جی بی کے ٹھیکدار ہنوز اس سے محروم ہیں ۔حکومت گلگت بلتستان جزل اکلیشن اور سابقہ بقایاجات کی ادائیگی کے بجائے اوپر سے ٹیکس کے نام پر بھتہ لے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ٹیکس کا نفاظ سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف بتائے وہ خود کتنا ٹیکس دیتا ہے ،توقیر صادق سے لیکر ڈاکٹر عاصم تک کتنوں سے ٹیکس وصول کیا گیا ہے وفاق جواب دے ،اگر نہیں تو ہم پر ظلم کیوں ؟

e62d393d-ca29-4986-bb77-848af782f9e5

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s