گلگت بلتستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئینی حقوق کا راستہ|ہدایت اللہ اختر |PASSUTIMESاُردُو

گلگت بلتستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئینی حقوق کا راستہ|ہدایت اللہ اختر |PASSUTIMESاُردُو

hidayat-ullahجب بھی ریاست جموں وکشمیر کا نام لیا جاتا ہے تو ان سے ہندوستان کے زیر نگران کشمیر جموں و لداخ اور پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل علاقے  مراد لئے جاتے ہیں اسطرح  ریاست کا مجموعی  رقبہ چوراسی ہزار چار سو اکہتر مربع میل بنتا ہے۔۔کشمیر کے ان خطوں کی بد قسمتی یہ ہے کہ برصغیر میں دو آزاد مملکتوں کے وجود میں آنے کے فوراً بعد ہی ان خطوں میں بسنے والوں  کے درمیان  خلیج اور دوریاں بڑھنے لگی۔ ایک آزاد ریاست  دو ملکوں کے درمیان متنازعہ بن کے رہ  گئی ۔بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ریاست کی متنازعہ حثیت سے  ان خطوں میں رہنے والوں کے درمیان شکوک و شہبات  بھی بڑھ گئے   اور ایک دوسرے پر بھروسے کا فقدان کے علاوہ  ان کے درمیان   غلط فہمیوں اور دیگر مسائل کو جنم دینے کا باعث بھی بنی  ۔اس پہ بس نہیں رہا  اس  کی وجہ سے ہی پاکستان اور ہندوستان  کے مابین تین جنگیں بھی لڑی گئی لیکن  مسلہ  اب تک جوں کا توں ہے۔۔اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ  مسلے کا حل  جنگ میں نہیں بلکہ  با مقصد مذاکرات میں  ہے۔ مذاکرات بھی کئی بار ہو چکے ہیں  لیکن  نتیجہ بے سود ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مذاکرات میں کشمیریوں کی شرکت  نہیں ہوتی   اور جب ان  مذاکرات  میں اصل شراکت دار کشمیری  موجود نہ ہوں تو  وہ کیونکر کامیاب یا  قابل قبول ہو سکتے ہیں ۔ جب تک   ایسا ہوتا رہیگا  مسائل کم ہونے کے بجائے اور بڑھ جائینگے  جس کا حل شائد ممکن نہ ہو ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جغرافیائی  لحاظ سے ایک ریاست میں  رہنے والوں کو  ریاست کے نام کے حوالے سے  پکارا جاتا ہے۔ جیسے پاکستان میں رہنے والوں کو پاکستانی کہا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر   کے ان تینوں خطوں میں  رہنے والوں کو  کشمیری کہا جا ئے تو کوئی قباحت نہیں لیکن نہ جانے کیوں  گلگت بلتستان   کے باسیوں کو کشمیر اور کشمیریوں کے نام سے چڑ  ہے۔۔حالانکہ  مہارجہ کشمیر کے سو سالہ حکومت میں    کسی نے یہاں بسنے والوں  کو نہ کشمیری بنایا اور  نہ ہی  یہاں کے لوگوں کو کشمیری کہا۔  یہ بات سمجھنے اور سمجھانے کی ہے۔اگر میں غلط نہیں ہوں تو کشمیری بذات خود کوئی قوم نہیں  بلکہ کشمیر تو وہ خطہ ہے جس کا تعلق کشمیر کے  اندر  بسنے والی  مختلف  قوموں سے ہے جیسے  میر ، راٹھور، لون، بٹ، ڈار وغیرہ یہی حال جموں کا ہے اور ایسے ہی  گلگت بلتستان میں جیسے شین یشکن ، ڈوم کمین  ۔ ریاست  جموں و کشمیر نام ہے  مختلف مذاہب اور قومیت سے تعلق رکھنے والے  افراد کا ۔۔ گلگت بلتستان کے باسیوں کو کشمیر سے متعلق  صحیح معلومات سے اگاہ ہی نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہاں کے لوگوں نے  اس مسلے کو صحیح طور پر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ بس ان کو ایک ہی سبق پڑھایا گیا  کہ سانپ اور کشمیری  دونوں ایک ساتھ ملیں تو سانپ کو چھوڑو کشمیری کو  ہلاک کرو۔۔  نوبت یہاں تک کیسی پہنچی اس کی الگ ایک لمبی کہانی ہے۔ اور اس پہ بحث  یہاں مقصود نہیں ۔۔بس اتنا کہنا ہے کہ جہاں سے آئینی حقوق ملنے کا راستہ ہے  اس راستے کو تو یہاں کے لوگوں نے اب تک  دیکھا ہی نہیں   یہ تو  پاکستان اور ہندوستان  کے درمیان  مذکرات والی بات ہے جس میں  اصل فریق  کشمیری شامل نہیں ہوتے اور کشمیر متنازعہ ہی چلا آرہا ہے  اسی طرح گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا راستہ  کشمیر ہے اور  ہم کشمیر کے ساتھ ناطہ جوڑے بغیر آئینی حقوق لینے چلے ہیں  اور  یوں آج ستر سال تک کبھی صوبہ کبھی آزاد ریاست اور کبھی کچھ اور کبھی وفاق  کا مطالبہ کرتے  نہیں تھکتے  لیکن ہماری شینوائی نہیں ہوتی ۔۔۔ایک نقطہ پر متفق نہ ہونا بھی  ہماری سیاسی نابالغی کا ثبوت ہے۔۔کسی کو کسی پر برتری نہیں  ریاست کے یہ تینوں خطے  مل کر ہی ریاست جموں و کشمیر کا نقشہ  مکمل کرتے ہیں ۔یہ تمام خطے ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں ۔ اور جغرافیائی لحاظ سے کشمیر کہلاتے  ہیں ۔اور اس ریاست میں نافذ سٹیٹ سبجیکٹ کا قانون ہی یہاں کے باشندگان کو  منفرد مقام اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔جی بی والوں کو یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ اگر  گلگت بلتستان میں یہ قانون معطل نہ ہوتا تو ان کی حالت آج یکسر مختلف ہوتی۔ اس لئے  ضروری ہے کہ  تقسیم جی بی و کشمیر کی راہ ہموار کرنے کے بجاے  وحدت  جموں وکشمیر کی طرف  قدم بڑھایا جائے۔نہ آزاد کشمیر گلگت بلتستان کا حصہ ہے اور نہ ہی  گلگت بلتستان  آزاد کشمیر کا۔۔ اس کا ایک بہترین اور آسان حل تو یہ ہے کہ پاکستان کے زیر نگران ان دو خطوں  کو یکجا کرکے ایک مشترکہ  نام دیکر  مشترکہ  کشمیراسمبلی   کی راہ  ہموار  کی جائے۔۔ جس کی  تفصیل میں  اپنے ایک کالم میں پہلے ہی کر چکا ہوں ۔اس کا دوسرا اور  آسان ترین  حل یہ بھی ہے کہ کون کس کا حصہ ہے کی  لڑائی میں پڑے بغیر گلگت بلتستان کو پاکستان  کا صوبہ بنانے کے بجائے آزاد کشمیر طرز کی حکومت تشکیل دیکر  اسے ریاست آزاد  گلگت بلتستان  کا نام دیا جائے۔ اس سلسلے  ریاست آزاد کشمیر کی اسمبلی کی حالیہ قرارداد جس میں  آزاد کشمیر طرز کی حکومت قائم کرنے کی حمایت کی گئی ہے ایک خوش آئند اورمثبت پیش رفت ہے ۔  آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے باسی ایک دوسرے سے نفرت اور عداوت کے بجائے مثبت رویے اپنا کر  ریاست آزاد کشمیر اور ریاست گلگت بلتستان کو خوشحالی کی طرف لے جا سکتے ہیں اور یوں  کشمیر بارے پاکستانی موقف میں بھی کوئی فرق  نہیں پڑیگا۔


پھسو ٹائمز اُردُو کی اشاعت مورخہ 15 جنوری 2016ء

Advertisements

One response to “گلگت بلتستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئینی حقوق کا راستہ|ہدایت اللہ اختر |PASSUTIMESاُردُو

  1. گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر سے الگ کیسے؟
    تحریر سائرس خلیل
    گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر سے الگ کیسے؟
    ریاست جموں کشمیر چھ ہزار سال پر محیط تاریخ رکھتی ہے۔اس کو ریاستوں کی تاریخ میں اھم حیثیت حاصل ہے۔ریاست کی تاریخ دنیا کا قدیم کلینڈر ہونے کی دعوۓ دار ہے۔اگر ایک صدی قبل ہی ریاست جموں کشمیر کا مطالعہ کیا جاۓ تو ھمیں معلوم پڑتا ہے کہ یہ جنت نظیر ریاست 84471مربع میل پر پھیلی ھوئی تھی اور اس میں 29841مرنع میل گلگت بلتستان کا علاقہ بھی شامل تھا۔ مہا راجہ کے دور میں گلگت بلتستان کا علاقہ ایک صوبہ کی حیثیت سے ریاست کا حصہ تھا۔آج کل کچھ گلگت بلتستان کے لوگ اس کی خود مختاری کی بات کرتے ہیں اور گورنمنٹ آف پاکستان اِس سر زمیں کو خود میں ضم کرنا کرنا چاہتی ہے۔پر شاید چند لوگ یہ بات بھول ریے ہیں کہ گلگت بلتستان قانونی ، جغرافیائی ، تاریخی ، ثقافتی و تمدنی لحاظ سے ریاست جموں کشمیر کا ہی حصہ ہے۔ گلگت بلتستان کا آخری گورنر گھنسار سنگھ بھی مہاراجہ نے ھی مقرر کیا تھا۔اس میں نصابی کتب اور تاریخ، ریاست جموں کشمیر کے نام سے ہی پڑہائی جاتی تھی ۔ مہاراجہ کا 26مارچ 1935 کا معاہدہ برطانیہ ، گلگت بلتستان کا ریاست جموں کشمیر کا حصہ ھونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 1939کو ریاست جموں کشمیر میں آئین نافذ کیا گیا جس میں گلگت بلتستان بھی شامل تھا اور اس آئین میں ریاست کی جغرافیائی تفصیل دی گئی تھی ان کے مطابق بھی گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیرکا حصہ تھا ۔ پھر آگئے دیکھتے ہیں کہ 4 اکتوبر 1947کو کشمیری گورنمنٹ کا گلگت بلتستان حصہ تھا اور 24 اکتوبر1947 تاریخ ریاست جموں کشمیر کا بدترین دن جس دن پاکستان نے غیر آئینی طور پر جنت نظیر ریاست میں ایک گورنمنٹ قائم کی اس حکومت کے تحت بھی گلگت بلتستان ریاست کا ھی حصہ تھا۔6جنوری1948کو سلامتی کونسل میں گلگت بلتستان کی نمائندگی آزاد کشمیر کی طرف سے ہی کی گئی۔21اپریل1948 UN کے کمیشن کے بعد کمیشن کو پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان نہیں جانے دیا گیا۔ کبھی موسمی خرابی کی وجہ بتائی گئی تو کبھی راستوں کی بندش کے بہانے بنائے گئے۔1948کے کمیشن کے تحت گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا ہی حصہ تھا جس کے ڈر کی وجہ سے کمیشن کو گلگت بلتستان نہیں جانے دیا گیا۔ پھر28 اپریل 1949 معاہدہ کراچی کے تحت اس خوبصورت علاقہ کو پاکستان کو دینے کا معاہدہ کیا گیا۔ پر اس معاہدے پر دستخط صدرریاست آزاد کشمیر نے نہیں کیے جس کی وضاحت صدرِ ریاست سردار ابراھیم خان متعدد بار کی کہ “میں نے معاھدہ کراچی پر دستخط نہیں کئے قرارداد کے کاغزات پر انگوٹھا لگایا گیا ھے جبکہ میں دستخط کرتا ھوں انگوٹھا نہیں لگاتا” جس کے بے شمار گواہ بھی موجود ہیں۔ سو اگر یہ معاہدہ مان بھی لیا جائے تو پاکستان گورنمنٹ کو یاد دہانی کرواتا چلوں کہ گلگت بلتستان کا انتظامیہ اختیار وقتی طور پر اس معاہدے میں پاکستان کے حوالے کیا گیا ہے، اس لیے پاکستانی حکومت کو اس پر زیادہ نہیں سوچنا چاہیے۔ ضیاءالحق نے جب امرانہ طور پر گلگت بلتستان کی تاریخی حیثیت کو کچلانا چاہا تو 1970 میں شیخ عبدااللہ نے پمفلٹ شائع کیا جس میں ضیاءالحق کے اس عمل کے خلاف لکھا گیا اور گلگت بلتستان کے متعلق مختلف حوالے دے اس کو ریاست جموں کشمیر کا حصہ ثابت کیا گیا۔پاکستان کی عدالت لاہور ہائی کورٹ میں 17افراد نے 1981میں پاکستانی فرسٹ سٹی زن ھونے کی رٹ دائر کی جس کو 1987 میں خارج کیا گیا کیونکہ ججز کا بنیادی نقطہ نظر یہی تھا کہ گلگت بلتستان کسی بھی لحاظ سے پاکستان کا حصہ نہیں ہے، اس لئیے پاکستان کے قوانین ان پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔1987میں متفقہ طور پر گلگت سنیٹرل بار نے ایک قرار داد منظور کی جس میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو ایک ہی انتظامیہ کے تحت لانے کی قرارداد منظور کی گئی۔ آزاد جموں کشمیر کی عدالت نے 174 صفحات پر مشتمل ایک فیصلہ 8مارچ1992 کو دیا جس کے تحت گلگت بلتستان قانونی ، جغرافیائی ، تاریخی ، لحاظ سے ریاست جموں کشمیر کا ہی حصہ ہے۔ 21اپریل1948 UNکی قرار داد کے تحت جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کو متناظہ قرار دیا گیا ہے ۔۔۔۔
    جب تاریخ ، قانون، جغرافیائی حالات گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کا حصہ ھی ثابت کرتے ییں تو پاکستان کس قانون کے تحت گلگت بلتستان صوبے کا درجہ دینے کی ناکام کوشش کر رہا ہے؟؟
    کس بات کا جواز بنا کر اس کے اثاثوں کا بے دریغ استعمال کر رہا ھے؟
    کس قانون کے تحت گلگت بلتستان جموں کشمیر سے الگ ھے؟
    مندرجہ بالا حقائق کو دیکھنے کے بعد ہم یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان جموں کشمیر کا ہی حصہ ہے۔ اگر پاکستان گلگت بلتستان کو صوبہ بنا دیتا ہے جو کہ ممکن نہیں تو ہندوستان کی حکومت کو یہ سیاسی اور اخلاقی حق حاصل ہوجائے گا کہ وہ کشمیر کو ہندوستان میں ضم کرلے۔اس طرح پاکستان اپنے اس ایک قدم سے کشمیر میں رِٹ قائم کرنے کے لیے ہندوستان کی بالواسطہ مدد کرے گا۔ جسکی وجہ سے کشمیر کاز کو بہت زیادہ نقصان ہو گا اور اس کے نتائج بہت تلخ اور عبرتناک ہوںگے۔
    اگر پاکستان کو گلگت بلتستان کے بھائیوں کے ساتھ سچ میں دلی ہمدردی ہے تو دس سال کے لیئے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، جموں کشمیر کو یکجا کر کے کسی بھی ایک عالمی غیر جانبدار ادارے کے سپرد کرئے جو عوامِ جموں کشمیر کو خقِ خود ارادیت کا حق دینے کا پابند ہو۔ اور پھر عوام کی مرضی پر مسئلے کو چھوڑ دیا جائے۔ اس طرح مسئلہ کشمیر بھی اپنے حل تک پہنچ جائے گا اور مسائل ابھی احسن طریقے سے اپنے اختتام کو پہنچ پائیں گئے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s