کراچی: بالاورستان نیشنل فرنٹ کا کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس، 5 اہم سفارشات پیش کئیں گئے|PASSUTIMESاُردُو

3کراچی : منگل، 19 جنوری، 2016- پھسو ٹائمز اُردُو (پ ر) جیسا کہ آپ کو بخوبی علم ہے کہ متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کی جملہ پانچ اکائیوں میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل گلگت بلتستان انتہائی حساس خطہ بن چکا ہے جس کی غیر معمولی جغرافیائی حیثیت، قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے، دفاعی اعتبار سے محفوظ اور مضبوط کوریڈور ہونے کی وجہ سے پوری دنیا کی نظروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سب سے زیادہ اہم اکائی ہونے کے باوجود ریاست جموں و کشمیر کی دیگر اکائیوں کی نسبت تمام تر سیاسی، معاشی، معاشرتی، تعلیمی، عدالتی، انتظامی، آئینی اور انسانی و بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ جس کی وجہ گلگت بلتستان کی مفاد پرست سیاسی پارٹیوں سے وابستہ افراد کے منفی قول ، حکمرانوں اور بیوروکریسی کے غیر انسانی فعل سے گلگت بلتستان (بالاورستان) کے سادہ لوح عوام گذشتہ 68 سالوں سے انتہائی کسمپرسی اور مایوسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ابتدائی طور پر یہاں ایک نام نہاد ناردرن ایریاز کونسل قائم کی گئی جو اختیارات سے خالی تھی۔ اس کے بعد لیگل فریم ورک آرڈر پھر کچھ عرصے بعد لیگل فریم ورک رولز اینڈ بزنس کے نام سے ٹرخایا گیا۔ بعد ازاں ایڈوائزری کونسل فار نادرن ایریاز کا ڈرامہ رچایا گیا۔ اس کے بعد قانون ساز کونسل کے نام سے دھوکہ دیا گیا۔ اس طرح 2009میں سیلف گورننس آرڈر کے تحت قانون ساز اسمبلی سے نوازا گیا جو کہ سرے سے کسی بھی ا مور پر قانون سازی کا اختیار اور فرائض کی ادائیگی کے لوازمات سے مبرا ہے البتہ تمام تر سیاہ و سفید کا مالک منسٹری آف کشمیر افیئرز ہے۔ آج بدلتے ہوئے حالات و واقعات کے تناظر میں بالاورستان نیشنل فرنٹ اہم ایشوز پر اپنی سفارشات پیش کرتی ہے۔

۔۱) چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور:
۔۱۔ UNکی قراردادوں کے تحت گلگت بلتستان متنازعہ خطہ ہے ۔ چائنا بذات خود UNکا ممبر بھی ہے۔ ایسے حالات میں چائنا اور پاکستان یا اور کوئی ملک متنازعہ علاقے میں کسی بھی قسم کا کوئی Mega Projectلانچ کرنے سے پہلے اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کریں یعنی گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
۔۲۔ اقتصادی راہداری میں گلگت بلتستان کو اسٹیک ہولڈر نہیں بلکہ بحیثیت مالک تسلیم کرکے ہمیں حق ملکیت دی جائے۔
۔۳۔ گلگست بلتستان کے 7اضلاع میں صنعتی اور تجارتی زونز بنائے جائیں۔

۔۲) دیامر بھاشا ڈیم
۔۱۔ جن لوگوں کی اراضیات ڈیم کی نذر ہونگی ، جن کے آباء و اجداد کی قبریں زیر آب آئیں آگی، جن کے گھروں کے درو دیوار سے ا نکے آباء و اجداد کی یادیں وابستہ ہیں وہ سب کے سب دریا کے تلے ڈوب جائیں گے جس سے علاقے کا demographicمکمل طور پر متاثر ہوگا اور متاثرہ افراد کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
۔۲۔ سب سے پہلی ترجیحی بنیادوں پر ڈیم کے متاثرین کو ڈیم کے انتظامی ڈھانچے میں ملازمت دی جائے اس کے بعد ضلع دیامر کے عوام کو اسی تناسب سے ملازمت دی جائے پھر تیسرے مرحلے میں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع سے تعلیم یافتہ لوگوں کو ملازمتیں دی جائیں۔
۔۳۔ ڈیم کی مد میں ملنے والی تمام رائلٹی حکومت گلگت بلتستان کو دی جائے نہ کہ بادشاہ کو کیونکہ بادشاہ کو ڈیم کی تعمیر سے کسی قسم کا کوئی مالی نقصان نہیں ہوتا ہے۔
۴۔ ڈیم سے بننے والی بجلی پورے گلگت بلتستان کو مفت فراہم کی جائے۔ کسی قسم کے بجلی کے بل کی ادائیگی قابل قبول نہیں ہوگی۔

۔۳۔ آئینی صوبہ:
UNکی قراردادوں کی موجودگی میں حکومت پاکستان گلگت بلتستان کو باضابطہ طور پر آئین میں ترمیم کرکے نہ آئینی صوبہ بناسکتا ہے نہ اپنے کسی آئینی صوبے میں ضم کرسکتا ہے اور نہ ہی وفاق سے جوڑ کر کسی ٹرائبل ایریا میں شامل کرسکتا ہے۔ اگر ایسا کرنے کی غلطی کی تو کشمیر ایشو متاثر ہوگا۔

۔۴۔ کشمیر طرز کا سیٹ اپ:
۱۔ گلگت بلتستان کے عوام اب کشمیر طرز کے سیٹ اپ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس نکتہ پر بالاورستان نیشنل فرنٹ کا موقف یہ ہے کہ جب تک ریاست جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتا تب تک حکومت پاکستان گلگت بلتستان کو مکمل طور پر داخلی خودمختاری دی جائے جس میں اپنی خودمختار قانون ساز اسمبلی ہو، تمام امور میں آزاد ہو سوائے تین قلمدانوں کے (دفاع ، کرنسی اور خارجہ امور) ۔ یہ قلمدان حکومت پاکستان کے پاس رہیں گے لیکن گلگت بلتستان کو پھر بھی پارلیمنٹ میں نمائندگی نہیں ملے گی۔
۲۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی سوسائٹی، خطے یا اکائی کو پارلیمنٹ میں نمائندگی نہیں ملتی تب تک اس خطے پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ایسے میں حکومت پاکستان تمام درآمدی اشیاء جو گلگت بلتستان میں سپلائی ہوتی ہیں ، انہیں ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے۔

۔۵۔ رائے شماری:
ریاست جموں و کشمیر بشمول گلگت بلتستان کے مستقبل کا فیصلہ اب طاقت کے طور پر نہیں ہونا چاہئے بلکہ ایک impartial world body جو UNکی نگرانی میں ہو ریفرنڈم کرایا جائے کہ خطے کے لوگ کیا چاہتے ہیں۔


Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s