گلگت: اکنامک کوریڈور کیلئے گلگت بلتستان کے600کلومیٹر زمین استعمال کی جارہی ہے لیکن اس خطے کے عوام سے اس حوالے سے نہیں پوچھا جارہاہے،علامہ محمد امین شہید|PASSUTIMESاُردُو

گلگت: منگل، 19 جنوری، 2016ء – پھسو ٹائمز اُردُو (ایس یو ثاقب) مجلس وحد ت مسلمین پاکستا ن کے ڈپٹی 10300661_381954531976038_2410148445319385107_nجنرل سیکریٹری علامہ امین شہیدی نے کہا ہے کہ اکنامک کوریڈور کیلئے گلگت بلتستان کے600کلومیٹر زمین استعمال کی جارہی ہے لیکن اس خطے کے عوام سے اس حوالے سے نہیں پوچھا جارہاہے ۔اکنامک کوریڈور کا سب سے زیادہ فائدہ گلگت بلتستان کے عوام ہو ملنا چاہئے کیوں کہ گلگت بلتستان سے اکنامک کوریڈور کا آغاز ہوتاہے، اس حوالے سے جتنی بھی کمیٹیاں بنیں ہے ان میں سے ایک میں بھی گلگت بلتستان کی نمائندگی نہیں ہے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کے روز گلگت پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا اس خطے کے آئینی حقوق کے حصول کے لئے سب ایک دوسرے کے ساتھ دینا چاہیے تاکہ 70سال سے یہ سرزمین بے آئین کو آئینی حقوق مل سکے ۔علامہ امین شہید ی نے کہاگلگت بلتستان کو تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے جس میں کچھ علاقوں کو نواز کے اور کچھ علاقوں کو مزید محروں رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے اس سازش کو ہم کا میاب نہیں ہونے دینگے ۔گلگت بلتستان کو مکمل اختیارات دے کر باقی صوبوں کی طرح مکمل صوبہ بنا یا جائے ۔انہوں نے کہا جب تک گلگت بلتستان کے عوام کے امنگوں کے مطابق اکنامک کوریڈور نہیں بنتا تب تک کوریڈور نہیں بنایا جاسکتاہے ۔وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اس خطے کی نمائندگی نہیں کررہے ہیں بلکہ وفاق اور پنجاب کی نمائندگی کررہے ہیں ۔گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول نہیں ہونے کی وجہ سے عوام سے عوام کی زمینوں کو چھینے کی کوشش کی جارہی ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کے زمینوں کو خالصہ سرکار قرار دینے کے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ڈپٹی جنرل سیکریٹر ی مجلس وحد ت المسلمین پاکستان علامہ امین شہید ی نے کہامقپون داس کے حوالے تنازعہ میں حراموش اور چھموگرڑ معاملہ میں حکومت کو انوالو نہیں ہونا چاہئے اور اس معاملہ کو اس علاقے کے عوام کے جرگہ کو فیصلہ کرنے دیا جائے ۔انہوں نے کہا نیشنل ایکشن پلان کواپنی اصل روہ کے مطابق عمل درآمد کروایا جائے اور پک اینڈ چوس والا عمل کا خاتمہ کیا جائے ۔انہوں نے کہا گلگت بلتستان میں گندم کا بحران ہے اور حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے گندم کا بحران جلدازجلد ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔علامہ امین شہیدی نے گلگت بلتستان میں ٹیکس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جب تک گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی نہیں دی جاتی ہے تب تک ٹیکس لاگو کرنا عوام پر ظلم ہے ،موجودہ حکومت عوام کا خون چوس رہی ہے لیکن عوام کو کچھ نہیں دیا جارہاہے ۔انہوں نے حکومت کی 100دنوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کی حکومتی نمائندوں نے 100دنوں میں اپنی تنخواہوں میں 300فیصد اضافہ کے علاوہ عوام کو کچھ نہیں دیا ۔


Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s