اسلام آباد: یوتھ آف گلگت بلتستان کا ملک گیر مظاہرہ پاک چائینہ ایکنامک کوریڈور میں اہمیت کے حساب سےحصہ دینے اور گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبہ بنانے کا مطالبہ کردیا|PASSUTIMESاُردُو

12571420_10153778662207347_834326682_n12570924_10153778668722347_1445597737_nاسلام آباد: پیر، 25 جنوری ، 2016ء – پھسو ٹائمز اُردُو (پ ر ) یوتھ آف گلگت بلتستان کا ملک گیر مظاہرہ پاک چائینہ ایکنامک کوریڈور میں اہمیت کے حساب سےحصہ دینے اور گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبہ بنانے کا مطالبہ کردیا ، مکمل آئینی صوبہ بنانے سے پہلے ٹیکس لگانے اور پاک چائینہ ایکنامک کوریڈور کی مخالفت کر دی۔ لاہور آج گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں یوتھ آف گلگت بلتستان موومنٹ نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنے مطالبات پیش کیے۔ یوتھ کی اس مومنٹ میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات کے علاوہ علاقے کا درد رکھنے والے پاکستان کے نوجوانوں کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔ گلگت بلتستان یوتھ موومنٹ نے اپنے پر امن مظاہرے میں جہاں گلگت بلتستان کو مکمل آئینی و قانونی صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا وہیں پر مکمل آئینی صوبہ بنانے سے پہلے ٹیکس کے نفاذ اور پاک چائینہ ایکنامک کوریڈور کی بھی مخالفت کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے عزائم ناکام بنائے جائیں گے۔ گلگت بلتستان جہاں پاک چائینہ ایکنامک کوریڈور کے لئے مین گیٹ کی حیثیت رکھتا ہے اسے اس منصوبے سے مکمل طور پر لا تعلق رکھا گیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ گلگت بلتستان کو سی پیک میں کسی بھی سطح کی کمیٹی میں نمائیندگی نہیں دی گئی ہے۔ مظاہرین اور رہنماؤں نے مکمل آئینی صوبہ بنانے اور گلگت بلتستان کو اسکی اہمیت کے مطابق حصہ نہ دینے تک پاک چائینہ ایکنامک کوریڈور کی تعمیر اور علاقے میں ٹیکس کے نفاذ کی مخالفت کردی۔ مقررین نے گلگت بلتستان کے 68 سالوں سے نظر انداز کئے جانے پر حکومت کی مذمت بھی کی اور کہا کہ گلگت بلتستان کے وسائل کو پاکستانی کہنے والے اس کی قوم اور علاقے کے لئے بھی اپنے آئین اور اسمبلیوں میں گنجائش پیدا کریں۔ مقررین نے فی الفور گلگت سکردو روڈ کی تعمیر اور گلگت بلتستان میں انجینئرنگ اور میڈیکل کالج کے قیام کا مطالبہ کیا۔ یاد رھے اسلام آباد کے بعد تمام صوبوں سے زیادہ شرح خواندگی رکھنے والے گلگت بلتستان میں ایک بھی انجینئرنگ کالج، میڈیکل کالج ، لا کالج حتی کہ ایک بھی سرکاری ٹیکنیکل کالج موجود نہیں ہے جوکہ سرکار اور اسٹیبلشمنٹ کی علاقہ دشمنی کی کھلی مثال ہے۔ آخر میں نعروں کی گونج میں قرارداد پیش کی گئی اور اس تحریک کو آگے بڑھانے کے عزم کے ساتھ شرکا پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s