چلاس: متاثرین ڈیم تھک نیاٹ و تھک یوتھ قومی مومنٹ نے اپنے حقوق کے حصول کیلئے چلاس شہر میں زبردست عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا۔|PASSUTIMESاُردُو

c6f7ad7f-d6da-450e-b4ff-33a3d0d61466چلاس  : بدھ، 27 جنوری، 2016ء – پھسو ٹائمز اُردُو(عمر فاروق فارقی) متاثرین ڈیم تھک نیاٹ و تھک یوتھ قومی مومنٹ نے اپنے حقوق کے حصول کیلئے چلاس شہر میں زبردست عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا۔مظاہرے میں تھک داس ،تھک اور نیاٹ کے دور دراز علاقوں سے ریلیوں کی شکل میں ہزاروں لوگوں نے احتجاجی جلسے میں شرکت کیا ۔احتجاجی جلسہ میں مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھائے رکھے تھے ،جن پر واپڈا کے خلاف سخت نعرے درج تھے۔احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ کے صدرضیاء اللہ تھکوی،نمبردار زبیر،نمبردار براق،کالا خان،حاجی نوشیر خان،تنویر احمد،جعفر جمالی،ثمر خان،مولنا مطئع الحق،مولنا عبدالخالق،عبدالمالک،سراج منیر،محمد تاج،خورشید احمد،عبدالباسط،عبدالمجید،حاجی جیل خان۔حاجی شاہ خان،حاجی لاخان،حاجی نکیرو دیگر نے کہا کہ حکومت مالکان تھک نیاٹ کے حدود کا تعین کیئے بغیر چلاس شلکٹ،جچن،چشمہ بالا اور چشمہ پائن سے لیکر حلتشی بونرداس تک ڈیم کے زد میں آنے والی بنجر ارضیات کا مختلف لوگوں کے نام پرخسرے الاٹ کرنے سے گریز کرے ،2007سے لیکر تاحال انتظامیہ اور واپڈا حکام نے چند بااثر افراد کے ساتھ ساز باز کرکے خسرے جاری کیئے ہیں ،جو کہ تھک نیاٹ کے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ماڈل ویلیج کالونی تھک داس کے بجائے کسی دوسری موضوع جگہ منتقل کرکے وہاں تعمیر کرے ،کیونکہ اس وقت تھک بابوسر روڈ سے متاثرہ تھک نیاٹ کے 35ہزار عوام گزشتہ ۳ سالوں سے تھک داس میں رہائش پذیر ہیں ، ماڈل ویلیج کالونی کی تھک داس میں تعمیر سے تھک نیاٹ کے عوام متاثر ہونگے ،اس لیئے حکومت آج سے دس سال پہلے متاثر ہونے والے تھک نیاٹ کے عوام کو بے گھر کرکے آج سے 15 سال بعد میں متاثر ہونے والوں کا نہ سوچیں ۔انہوں نے کہا کہ ممکنہ بابوسر ٹنل،ممکنہ ریلوے ٹریک،اقتصادی راہداری اور ڈاون کنٹری ٹرانسمیشن جیسے میگا ریاستی منصوبوں سے تھک نیاٹ کے تمام عوام مکمل متاثر ہونگے اس لیئے حکومت تھک نیاٹ کے متاثرین کی بحالی اور آبادکاری کیلئے بروقت اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ تھک نیاٹ کے عوام محب وطن پاکستانی ہیں اور پاکستان کی سالمیت کیلئے تھک نیاٹ کے عوام نے بیشمار قربانیاں دی ہیں ،لیکن آج حکومت ہمیں نظرانداز کررہی ہے ،جو کہ ظلم کی انتہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور واپڈا ایک مخصوص طبقے کو نوازنے کی پالیسی ترک کرے ،اور پاکستانی پرچم جلانے ،سرکاری عمارتوں پر آگ لگانے والوں کے ساتھ مزید ہمدردیاں بند کرے اور امن بحال کرنے والوں اور حکومت کے ساتھ چلنے والوں کے ساتھ دیں ۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد ڈیم کمیٹیاں تھک نیاٹ کے عوام کسی صورت ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں کیونکہ اس ڈیم کمیٹیوں میں تھک نیاٹ کے عوام کا متفقہ کوئی اسٹک ہولڈر شامل نہیں ہے ،اس لیئے تھک نیاٹ اور بابوسر کے عوام بدنام زمانہ 2010کا نام نہاد معاہدہ کو بھی تسلیم نہیں کرتے ہیں ،کیونکہ اس معاہدہ میں دیامر کے 80 فیصد متاثرین ڈیم کے حقوق پر چند سازشی عناصر نے ڈاکہ ڈال کر ایک مخصوص طبقے کیلئے فائدہ پہنچا دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ واپڈا کنسلٹیشن گزٹ میں تقریبا 80فیصد متاثرین کو نظرانداز کیا گیا ہے ،لہذا گزٹ میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرکے ازسرنو سروے کی جائے۔انہوں نے کہا کہ دیامر ڈیم کے زد میں جتنی اراضی زیرآب آرہی ہے حکومت اور واپڈا ڈاون کنٹری میں متاثرین کو متبادل اراضی فراہم کرکے ۔انہوں نے کہا کہ اگر واپڈا نے اپنا رویہ درست نہیں کیا تو ہم اپنا آئندہ کا لحہ عمل طے کریں گے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s