تبلیغی جماعت| ڈاکٹرمحمد زمان داریلی |PASSUTIMESاُردُو

Dr ZAMANتبلیغی جماعت| ڈاکٹرمحمد زمان داریلی |PASSUTIMES اُردُو

مولانا محمد الیاس صاحب نے 1926میں تبلیغی جماعت کی بنیاد رکھی تھی ایک فرد کی شروع کی گئی تحریک اب کروڑوں افراد کا ایک قافلہ بن چکا ہے ایک اندازے کے مطابق 15کروڑ افراد اس جماعت کے نظریاتی ممبر(تبلیغی زبان میں ساتھی) بن چکے ھیں اور دنیا کے کم و بیش 196 ملکوں میں تبلیغ کا کام باقائدگی سے چل رہا ھے.

اس جماعت کے چھ بنیادی اصول ہیں.۔۔۔

۔۔1)۔۔۔کلمہ:- ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔2)۔۔۔۔۔۔نماز:- ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔3)۔۔۔۔۔۔۔ علم وذکر:- ۔۔۔۔۔۔۔۔

:-۔4)۔۔۔۔۔۔۔۔اکرام مسلم

۔ 5)۔۔اخلاص نیت :-۔۔

۔6)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعوت وتبلیغ :- ان چھ اصولوں کو ایک کتابی شکل دی گئ ھے جس کو فضائل اعمال یا تبلیغی نصاب کہا جاتا ھے اس میں قرآن اور حدیث کی باتیں ہیں گو آپ یوں کہ سکتے ہیں کہ یہ تبلیغی جماعت کا سلیبس ھے. اس جماعت کو لوگ اپنی مدد آپ کے تحت چلاتے ھیں یہ جماعت کسی سے چندے ہدیے نہیں لیتی ھے اس کا کوئ باقائدہ ممبر شپ نہیں ھوتی ھے. اس جماعت کا ابتدا بر صغیر پاک وہند سے ھوا تقسیم کے بعد پاکستان میں 1947 میں کام شروع ھوا تھا اب دنیا میں سب سے بڑا اجتماع بنگلہ دیش کے بعد پاکستان پھر انڈیا میں ھوتا ھے. تبلیغی بیرون ملک جماعتوں کا سلسلہ 1946 میں شروع ھوا تھا جس کی پہلی جماعت سعودی عرب اور برطانیہ کے لیے نکلی تھیں . اس جماعت کا تبلیغکا طریقہ کار یہ ھے کہ پہلے 3دن پھر ایک چلہ تین چلہ(چلہ 40دن کا ھوتا ھے). پھر ایک سال کی جماعت اس طرح ہر سال ایک چلہ تبلیغ سے واپسی پر روزانہ مسجد میں انھی چھ نمبروں پر مشتمل تعلیم روزانہ گھر میں تعلیم تاکہ گھر میں بھی دینی ماحول پیدا ھو گھر کی خواتین بھی دینی ماحول میں جڑ سکے اپنے محلے میں ھفتہ وار ایک گشت اور ایک گشت دوسرے محلے میں ان کا پیغام( مسلمانو مسلمان بنو) یہ اسلام کے بنیادی فرائض سنتوں واجبات مستحبات کو سکھاتے ہیں . دنیا کے بے شمار جگہوں میں نام کے مسلمان تو تھے پر کسی کے وفات پانے پر جنازے کے بغیر دفنایے جاتے تھے پر تبلیغ والوں کی محنت جہاں جہاں پہنچی ھے وہاں لوگ اسلام کے بنیادی اصولوں سے واقف ھو چکے ھیں . تبلیغ والوں کی سب سے اچھی بات یہ ھے کہ ان کی تعلیمات میں تفرقہ بازی نہیں دوسرا یہ مزہبی اور سیاسی بحس مباحسہ نہیں کرتے ہیں کوئبحس کرنا بھی چاہے تو ایک خوبصورت جملہ کہتے ہیں بحس ہم نہیں کرتے یہ فتوے دینا علما کا کام ھے جس سے ان کے لیے ہر مذھبی فرقے میں ان کے لیےنرم گوشہ ھے. تیسری بات یہ اپنی تقاریر میں سیاسی باتیں نہیں کرتے یہ شخصیات پر کبھی بات نہیں کرتے حکومتی معملات میں مداخلت نہیں کرتے حکومتی معملات کو زیر بحث نہیں لاتے جس پر ان پر تنقید بھی کی جاتی ھے لیکن وہ کہتے ھیں ہمارا مقصد نظام حکومت بدلنا نہیں بلکہ نظام زندگی کو اسلام کے سانچے میں ڈھلنا ھے جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ھوے ھیں . باچا خان یونورسٹی واقع کے بعد میاں برادران نے سکولوں اور کالجوں میں تبلیغی جماعتوں پر پابندی لگائ حادثہ کے پی کے میں ھوتا ھے تبلیغی جماعتوں پر پنجاب میں پابندی لگتی ھے میاں برادران کی بھی عجب منطق ھے خود میاں نوازشریف کئ مرتبہ تبلیغ میں جاچکے ھیں ان کے اپنے سگھے بھائ مرحوم عباس شریف ساری زندگی تبلیغ میں رہے میاں صاحبان کالجوں اور یونیورسٹیوں میں باہر سے تو جماعتوں پر تو پابندی لگا دو گے پر ان اداروں کے اندر جو طلبا ہزاروں کی تعداد میں اس کام میں جڑے ہیں ان کا کیا کرو گے. اپنی کوتاہیوں کا الزام دینی کام کرنے والوں پر لگا کے آپ اپنی زمہداریوں سے بری الزمہ نہیں ھو سکتے ھو . تبلیغی جماعت والے ہی تو ہیں جنھوں نے گلگت میں فرقہواریت کے کشیدہ ماحول میں امید کی کرن پیدا کی ھے. آپ امن کے داعیوں کو کام کرنے دو اس پابندی کو فوراً ختم کرو ورنا اللہ کا نظام تو چلتا رھے گا فرعون لاکھ چاھتے ھوے بھی موسیٰؑ کی پیدائش نہیں روک سکے تھے اور فرعون کے گھر میں موسیؑ کی پرورش اللہ نے کروائ اور وہی موسیؑ بعد میں فرعون کی تباہی وبربادی کا سبب بنا تھا (ومکرو ومکراللہِ واللہُ خیرالماکرین) کمی بیشی پر معزرت


پھسو ٹائمز اُردُو کی اشاعت مورخہ یکم فروری،2016ء

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s