گلگت بلتستان کی متنازعہ حثیت کو ختم کرنے کا مطالبہ، راہدای منصوبہ میں جی بی کو تیسرا فریق بنایاجائے، اے پی سی|PASSUTIMESاُردُو

collageگلگت: پیر، یکم فروری، 2016ء – پھسو ٹائمز اُردُو (ارسلان علی) گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو قائم رکھنا ہے توسی پیک میں گلگت بلتستان کو تیسرا فریق تصور کیا جائے اور اگر GBکو پاکستان کا حصہ سمجھا جارہاہے ہے تو قومی اسمبلی میں کم از کم 12سیٹیں اور سینٹ آف پاکستان میں باقی صوبوں کی طرح 22نشستیں دی جائے ۔پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے زیر اہتمام منعقدہ آل پارٹیز کانفرس میں شریک تمام پارٹیوں کا ان نکات پر اتفاق۔ اس آل پارٹیز کانفرنس کاا نعقاد،سیاسی ،مذہبی ،سماجی پارٹیوں کے عہدیداروں نے شرکت کی ،کانفرنس میں مقرررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جی بی کوتقسیم کرکے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ،جی بی کا حصہ مقرر کئے بغیر راہداری منصوبہ نہیں چلنے دیں گے، گلگت بلتستان کو ٹیکس اورکسٹم ڈیوٹی فری خطہ قرار دیاجائے ،گلگت بلتستان کو غیرمتنازعہ قرار دیاجائے ،گلگت بلتستان کو 12 سیٹیں قومی اسمبلی اور 22 سیٹیں سینٹ میں دی جائیں ،بلتستان اور استور گلگت بلتستان کا بازو کسی قمیت پر کسی کو کاٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔اس کے ساتھ ساتھ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے تعین اور عوام کو اعتماد میں لئے بغیر اقتصادی راہداری منصوبے کو بننے نہیں دیں گے گلگت بلتستان کے عوام کو گزشتہ 68سال سے غیر آئینی طریقے سے علاقہ کے عوام کے ساتھ ظلم کی انتہا کی گئی اب مزید ظلم برداشت نہیں کریں گے ،مقررین نے کہاکہ عوام کو اعتماد میں لئے بغیراور اقتصادی راہداری میں حصہ مقرر کئے بغیرٹیکس نہیں دیں گے اور نہ ہی راہداری منصوبے کو چلنے دیں گے ، استور بلتستان ایک اکائی ہے کسی صورت تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ،کانفرنس کی میز بانی پاکستان پیپلز پارٹی کر رہی تھی جبکہ کانفرنس میں جماعت اسلامی ،متحدہ وحد ت مسلمین ،جمعیت علمائے اسلام ،تحریک اسلامی ،قراقرم نیشنل موومنٹ ،ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ،عوامی ایکشن کمیٹی ،اینٹی ٹیکس موومنٹ ،تحریک انصاف ،آل پاکستان مسلم لیگ ،گلگت بلتستان قومی موومنٹ ، نیشنل قومی موومنٹ ،کے این ایم ،سنی اتحاد کونسل ،چیمبر آف کامرس،ہیومن رائٹس پاکستان ،ہیومن رائٹس ابرزرور،ہوٹل ایسوسی ایشن ،بلاورستان نیشنل فرنٹ نے شرکت کی ۔ اس کانفرنس کے میز بان و صدر پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان امجد ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم پہلے گلگت بلتستانی ہے اور اس کے بعد کسی بھی پارٹی کے ہیں ،گلگت بلتستان ہماری ماہ کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے اس خطہ کے قدر کرنا ہم جانتے ہیں ۔انہوں نے کہا پاکستان کے دوسرے علاقوں کے لوگ جتنا بلاواسطہ جو ٹیکس دے رہے ہیں اتنا گلگت بلتستان کے عوام بھی دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا ان ڈائریکٹ ٹیکس کی مدمیں گلگت بلتستان کے عوام 40ارب سے زائد حکومت پاکستان کو دے رہے ہیں جس سے گلگت بلتستان کو آدی رقم بھی نہیں دی جارہی ہے ۔امجد ایڈووکیٹ نے کہا پاکستان کے دوسرے صوبے یعنی سندھ والے سندوں دیشن کی بات کرتے ہیں ،پنجاب والے جاگ پنجاب جاگ کی بات کررہے ہیں اوربلوچستان والے آزاد بلوچستان کی بات کررہے ہیں لیکن گلگت بلتستان والے 68سالوں سے پاکستان میں شامل ہونے کی کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا پاکستان کے ساتھ ہمارا کوئی قانونی رشتہ نہیں لیکن گلگت بلتستان کے لوگوں نے پاکستان کے لئے قربانیاں دی ہے ۔انہوں نے کہا جب گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے فورس کمانڈر KPKپاکستان کا ہوتاہے اور نشان حیدر پانے ولے شہید لالک جان پاکستان کا ہوتاہے لیکن گلگت بلتستان کو متنازعہ قرار دیا جاتاہے ۔انہوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا جب گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی جیت جاتی ہے تو آپ لوگ فساد پھیلاتے ہیں جبکہ آپ جیت جاتے ہیں توہم آپ کو قبول کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا آج سے پہلے پاکستان کے ساتھ ہمارا کوئی قانونی رشتہ نہیں تھا لیکن اب جو بھی ہوگا شرط کے ساتھ قانونی طور پر ہوگا۔اس موقع پر سابقہ سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی وزیر بیگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا میر آف ہنزہ کو اقتصادی راہداری کی وجہ سے گورنر بنایا گیا ہے اور چائنہ حکومت کی سفارش پر اس کو گورنر گلگت بلتستان بنایا گیاہے ۔انہوں نے کہا اس اقتصادی راہداری منصوبے سے گلگت بلتستان کی تقدیر بدل جائے گی اور اس منصوبے میں گلگت بلتستان کو شامل کرنے کے لئے ہمیں مل کرجد وجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا چائنہ ہمارا درینہ دوست ہے اور اس کے بغیر ہمارا ازلی دشمن ہندستان سے بھی لڑنہیں سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا ہم انقلاب کی بات نہیں کرتے ہیں بلکہ گلگت بلتستان میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔وزیر بیگ نے کہا کہ گلگت بلتستان متنازعہ نہیں ہے اگر متنازعہ ہے تو پاکستان نے بنا یا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر مولانا سمیع نے کہا کہ آزاد کشمیر پاکستان کا آئینی حصہ نہیں وہاں پر بڑے بڑے میگا پراجیکٹ ہو سکتے ہیں تو گلگت بلتستان میں اقتصادی راہداری اور دیگر منصوبے بھی شروع کئے جا سکتے ہیں،لیکن ٹیکسیشن کا نفاذ کی بات ہے یہ میرے خیال میں نہیں ہونا چاہئے۔حقوق دئیے بغیر ٹیکس کا نفاذ غیر قانونی ہے۔جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ گلگت بلتستا ن کو ہم ریاست جموں کشمیر کا حصہ سمجھتے ہیں1935 ء سے ابھی تک گلگت بلتستان کی یہ حیثیت ہے اس کی ایک شناخت بن گئی ہے یہ ایک وحدت بن گئی ہے گلگت بلتستان کے لوگوں کو اس موقع پر تقسیم نہیں کیا جانا چاہئے صرف اس چیز کو جواز بنا کر کہ اقتصادی راہداری منصوبہ اسکے بغیر مکمل نہیں ہوتاہے ۔اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک اسلامی پاکستان گلگت بلتستان کے سینئر رہنماء شیخ مرزا علی نے کہا کہ یہ اکنامک کوریڈور نہیں کوڑی ڈور ہے اس منصوبے میں ہماراحق بنتا ہے اس کو مانگنا ہمارا حق ہے ۔انہوں نے کہا ہم نے 68سالوں میں ہزاروں جانیں اس سبز ہلالی پرچم کے لئے دی ہے ،ہمارے باپ دادوں نے اس خطہ کو پاکستان کے ساتھ شامل کیا جس پر ہمیں فخر ہے ۔انہوں نے کہا اکنامک کویڈور منصوبے کے 46ارب ڈالر اس علاقے کو دیاجائے اور جو بچ جاتاہے وہ باقی علاقوں کو دی جائے ۔اس کانفرنس میں گلگت بلتستان قومی مومنٹ کے صدر عبدلواحد نے کہا کہ اس کانفرنس میں کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں صروف فوٹو سیشن کی حد تک محدود ہے ،اگر حکومت چاہے تو اکنامک کوریڈور بلڈوزر لگاکر بناسکتی ہے کیوں کہ اس سے پہلے ہمیں نظر انداز کرکے بہت سے منصوبے بنایاگئے ہیں ۔اس موقع پر اینٹی ٹیکس مومنٹ کے چیئر مین و صدر کنٹریکٹر ایسوسی ایشن فردوس احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کا آئینی طور پر حصہ نہیں ہے تو ہم سے ٹیکس کیسے لیا جاسکتاہے ۔انہوں نے کہا سی پیک میں جس علاقے سے جتنا کلومیٹر گزرتا ہے اس حساب سے اس علاقے کو حصہ دیا جائے ۔آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سپریم کونسل کنٹریکٹر ایسوسی ایشن بشیر احمد نے کہا ہم نے غلط کیا کہ ہم نے اس علاقے سے ڈوگروں کو بگایا اگر نہ بھگاتے تو پاکستان ہمارے سے یہ سلوک نہیں کرتا ۔انہوں نے ممبران اسمبلی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ممبران اسمبلی عوام کی خدمت کرنے کے بجائے اسلام آبا د میں گلگت بلتستان ہاوس میں سردیا ں گزارتے ہیں ۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے چےئرمین مولانا سلطان رائیس نے کہا کہ قوموں کی تقدیر اس وقت تک نہیں بدلتی جب تک وہ خود اپنی تقدیر بدلنے کا نہیں سوچتے جہاں تک میں سمجھتا ہوں اقتصادی راہداری منصوبہ موجودہ نظام میں نہیں ہو سکتا اس کیلئے علاقے کی حیثیت کو واضح کر نا ہو گا ۔آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے ڈپٹی آرگنائزر فتح اللہ نے کہا اقتصادی راہداری میں گلگت بلتستان کو موقف قومی اسمبلی میں اٹھانے کے لئے وفاقی پارٹیوں کے عہدیداران کو چاہئے کہ اپنے اپنے پارٹی کے سربراہان سے بات کرے ۔تاکہ گلگت بلتستان کا موقف قومی سطح پر واضح ہو۔اس کانفرنس قوم پرست جماعت گلگت بلتستان نیشنل مومنٹ کے چیئر مین ڈاکٹر عباس نے کہا گلگت بلتستان کی قوم جاگ چکی ہے اس لئے ان کی حقوق اب دور نہیں ہے ۔انہوں نے کہا 68سالوں سے گلگت بلتستان کو جو نقصان ہوا ہے اس کاعزالہ کون کر گا ۔اس موقع پر چیئر مین قراقرم نیشنل موومنٹ محمد جاوید نے کہا آج سے 30سال پہلے جب ہم گلگت بلتستان کے حقوق کی بات کرتے تھے ہمیں را اور موساد کا ایجنڈ قرار دیا جاتا تھا اور آج ہمیں خوشی ہورہی ہے کہ وفاقی پارٹیاں ہم سے ایک قدم آگے بڑکر گلگت بلتستان کی حقوق کی بات کرتے ہیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s