گلگت: عوامی ایکشن کمیٹی کے تحت “عوامی کانفرنس” پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں گلگت بلتستان کو تیسرا فریق تسلیم کرتے ہوئے نیا معاہدہ کیا جائے، مشترکہ اعلامیہ جاری|PASSUTIMESاُردُو

5934c1b1-c031-42e6-b36f-bf456eac4554گلگت: پیر، یکم فروری، 2016ء – پھسو ٹائمز اُردُو (ایس یو ثاقب) عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین مولانا سلطان رئیس نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو ایک بار پھر فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے کی سازش کی جارہی ہے تاکہ ہمیں لڑاکر کوئی اور اقتصادی راہداری منصوبے سے فائدہ اٹھائیں اس لیے ضروری ہے کہ عوام اپنے صفحوں میں اتحاد پیدا کریں۔پیر کے روز گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام عوامی کانفرنس منعقد کیا گیا جس میں عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین مولانا سلطان رئیس،کریم خان،فدا حسین،سید یعصوب الدین،قاری امتیازسمیت عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سلطان رئیس نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبہ سے گلگت بلتستان کا مستقبل وابستہ ہے مگر اس اہم منصوبے میں اس خطے کے عوام کو مکمل نظرانداز کیا جا رہا ہے عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کو اس کا جائز حق دئے بغیر اس منصوبے کو چلنے نہیں دے گی۔انہوں نے کہا کہ عوامی ایلشن کمیٹی نے اپنی جدوجہد کے ذریعے گلگت بلتستان میں امن قائم کیامگر سازش کے تحت ایک بار پھر اس خطے میں آگ اور خون کی ہولی کھیلنے کی سازش ہو رہی ہے اور بارگو واقعہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کو عوامی ایکشن کمیٹی نے ناکام بنایا۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام ان سازشوں کو سمجھے اور اپنے صفحوں میں اتحاد پیدا کریں ۔ انہوں نے کہا وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ 100اور 200میگاواٹ کے پراجیکٹ کے معاہدے کریں وزیر اعلیٰ صرف وفاق سے ملنے والی ہدایات پر عمل کرتے ہے ۔بعد ازاں کانفرنس کے شرکاء نے مشترکہ طور پر ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں گلگت بلتستان کو تیسرا فریق تسلیم کرتے ہوئے نیا معاہدہ کیا جائے جبکہ گلگت بلتستان سے فوری طور پر غیر قانونی ٹیکسز انکم ٹیکس،جنرل سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گلگت اور آس پاس کے علاقوں سے بجلی کے لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کے لئے ندی نالہ جات پر فنڈخرچ کرنے کے بجائے چھلمس داس اور سکارکوئی پاور پراجیکٹ پر فوری کام شروع کیا جائے ۔گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کے ہسپتالوں میں مفت ادویات فراہم کئے جائے اور گلگت شہر میں سیورج کے نظام پر فوری طور پر کام کا آغاز کیا جائے تاکہ اس وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں کا خاتمہ ہو۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ متاثرین کے کے ایچ کے مطالبا ت پر فوری طور پرعمل درآمد کروایا جائے اور ان کو فوری طور پر معاوضہ دیا جائیں ۔آخر میں اعلا میہ بھی پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ حکومت لوڈ شیدنگ ٹکسز ،ہسپتالوں میں ادویات اور جلد ہی اقتصادی راہداری میں تیسرے فریق کے طور پر معاہدہ کر ے ۔ا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s