میرے مظلوم کشمیری بھائیو!|ڈاکٹرمحمد زمان داریلی|PASSUTIMESاُردُو

ZAMANمیرے مظلوم کشمیری بھائیو!اسلام علیکم. امید ھے کہ آپ لوگ مزے میں ھونگے آپ لوگ بھی عجیب ھو ہم پر آپ کا وراثت کا دعویٰ تو ھے پر نہ خود کفالت کرتے ھو نہ پاکستان کو کرنے دیتے ھو اور نہ ہمیں خود اپنے پاوُں پر کھڑے ھونے دیتے ھو. 68 سال سے اپ نےعجب تماشا بنایا ھوا ھے بلکہ ھمیں تو اب لگنے لگا ھے کہ ہمیں آپ نے بندر تماشہ بنایا ھوا ھے.جب بھی ہمیں حقوق دینے کی بات شروع ھوتی ھے عین اسی وقت آپ کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ھیں اور آپ ایک روایتی رٹا رٹایا جملہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ھے جب تک کشمیر کا مسلہ حل نہیں ھوتا تب تک گلگت بلتستان کو کچھ نہیں بنایا جاتا واہ کیا منطق ھے آپ کی کشمیر کی آذادی کی جس انداز سے چل رھی ھے اس سے تو لگتا ھے اسرافیلؑ کی سور فونکنے تک کشمیر کی آذادی مجھے دور دور تک نظر نہیں آرہی ھے کیونکہ آپ کشمیر کی آذادی اخباری بیانات سے مانگتے ھو یا پھر امریکہ کی لونڈی اقوام متحدہ سے مانگتے ھو تو وہ تو اپنے جھمیلوں میں مگن کہاں فرست. چلو آپ کی بات تھوڑی دیر کے لیے مان لیتے ھیں کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ھے تو کوئ بتائے گا کہ کشمیر کے حکمرانوں نے کتنی بار بطور صدر اور وزیر اعظم نے گلگت بلتستان کا سرکاری دورہ کیا ھے کتنے گلگت بلتستان والوں کو کشمیر میں ملازمتیں دی ھیں کتنے گلگت بلتستان والو کو چاھتے ھوے بھی سٹیٹ سبجیکٹ کا بہانہ بنا کے زمین خریدنے نہیں دی گئ. یکم نومبر کو گلگت بلتستان کا یوم آذادی ھے کشمیر میں کتنی بار سرکاری طور پر منایا گیا اور کتنی بار یوم آذادی گلگت بلتستان پر کشمیر میں سرکاری چھٹی منائ گئ ھو یا کوئ سرکاری عوام طور پر سیمینار یا تقریب منائ گئ ھو اس کے بر عکس گلگت بلتستان والے کشمیر سے مطعلق ہر دن جیسا کہ اب 5 فروری آنے والا ھے کو گلگت بلتستان کا ہر فرد یوم یکجہتی کشمیر مناتے ھیں سکول کے ننھے بچوں تک یہ نعرے لگاتے ھیں کشمیر کی آذادی تک جنگ رھے گی جنگ کے فلک شگاف نعرے مار مار کے اپنے آپ کو ہلکان کر دیتے ھیں . کتنی بار گلگت بلتستان میں قدرتی آفات زلزلے سیلابوں بارشوں نے تباہی مچا دی کشمیر کی حکومتوں اور عوام کی طرف سے کوئایک آنے کا امداد تک نہیں دی گئ پھر یہ کیسا حصہ چلو آپ کی بات مان لیتے ھیں گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ھے آپ کی آبادی زیادہ ھے گلگت بلتستان کا رقبہ اسمبلی کی سیٹوںکو بابر تقسیم کرتے ہیں صدر ایک جگھے کا وزیر آعظم دوسری جگہ کا چھ ماہ دارلحکوت گرمیوں میں گلگت چھہ ماہ دارالحکومت مظفر آباد . یہ بھی آپ کو منظور نہیں تو آو سب مل کے آذادی کشمیر کی آذادی کے لیے جانی مالی قربانی کا ایک اور کراچی معاہدہ کرتے ہیں تم بھاگے تو کشمیر ہمارا ہم بھاگے تو گلگت بلتستان تمھارا, ورنا صرف دعوں اور اخباری بیانات سے دنیا کی تاریخ میں کہیں کسی کو آج تک آذادی نہیں ملی ھے. کشمیری بھائیو بس کرو ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دو ہماری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں اللہ کرے آپ کو آذادی مل جائے اپنی غلامی کو ہماری آذادی کے ساتھ جوڑ کر ہمارے حقوق پر ڈاکہ نہ ڈالو ورنا آپ کا یہ اخباری وراثت کا دعوی گلگت بلتستان کے اندر نفرتوں کے بیج بو رھا ھے جس سے کشمیر کی آذادی کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ھوگا اللہ نہ کرے ایسا ھو .خدا را حوش کے ناخن لو ہمیں بھی جینے کا حق دو . وسلام عوام سرزمین بے آئین گلگت بلتستان.(کاتب ڈاکٹر محمد زمان داریلی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s