چلاس: دیامر بھاشہ ڈیم پر تعمیراتی کام کرنے والی حکاس نامی نجی کمپنی کے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں جمعرات کے روز چلاس کا علاقہ تھور کے مقام پر احتجاجی مظاہرہ کیا|PASSUTIMESاُردُو

fc3d08b5-d54e-4f8e-8e72-3267175b6680چلاس: جمعرات، 04 فروری، 2016ء – پھسو ٹائمز اُردُو (عمر فاروق فاروقی) دیامر بھاشہ ڈیم پر تعمیراتی کام کرنے والی حکاس نامی نجی کمپنی کے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں جمعرات کے روز چلاس کا علاقہ تھور کے مقام پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اورپلے کارڈ اُٹھا کر پاکستان کو چین سے ملانے والی شاہراہ ریشم کو بلاک کرتے ہوئے احتجاجی دھرنا دیا۔احتجاجی مظاہرین نے سینکڑوں کی تعداد میں دھرنے میں شرکت کی،اور حکومت کے خلاف نعراہ بازی بھی کیا ۔دیامر بھاشہ ڈیم کی زیر آب آنے والی قراقرم ہائی وے کی متبادل تعمیر ہونے والی شاہراہ پر گلگت بلتستان اور خیبرپختونخواہ کے مابین حدود تنازعہ کی وجہ سے دونوں اطراف کے مشتعل عوام نے 2ماہ سے شاہراہ کی تعمیر بند کیا ہوا ہے ،جس کی وجہ سے کمپنی کو کروڑوں کا خسارہ ہورہا ہے ۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے حکاس کمپنی کے پراجیکٹ منیجر انجینئرشاہنوز مغل نے کہا کہ دیامر بھاشہ ڈیم حکام عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے متبادل شاہراہ کا کام ستائیس نومبر2015سے بند ہے۔انہوں نے کہا کہ دیامر ڈیم حکام کی طرف سے متبادل شاہراہ کا کام کُھلنے کی اطلاع بے بنیاد ہے ،۳ سو سے زائد ملازمین اور ورکرزکا روزگار خطرے کا شکار ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں صوبوں کے مابین حدود تنازعے کی وجہ سے ڈیم کی تعمیر میں تاخیرہورہی ہے ،اور حدود تنازعہ پر بیٹھائی جانے والا باونڈری کمیشن کا فیصلہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے،جس کی وجہ سے دونوں اطراف کے مشتعل عوام نے حکاس کمپنی کے ورکروں کو زبردستی کام کرنے سے روکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈیم کی زیر آب آنے والی کل 108کلومیٹرکے علاقے پر متبادل شاہراہ تعمیر ہورہی ہے جس کا کام گزشتہ ۲ ماہ سے بند ہے اور کمپنی کو کروڑوں کا نقصان ہورہا ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ متبادل شاہراہ کی بحالی میں کردار ادا کرتے ہوئے اپنی رٹ قائم رکھیں اور کمپنی کے نقصانات کا ازالہ کریں ۔احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے حکاس کمپنی کے ملازمین نے کہا کہ جب کام پر جاتے ہیں تو قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور کام سے روک دیا جاتا ہے۔کام نہ ہونے کی وجہ سے گھروں کے چولہے ٹھنڈ ے پڑ گئے ہیں ،مگر حکومت اور دیگر حکام بالا خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔مظاہرین نے کہا کہ 2ماہ قبل کوہستان ہربن اور تھور کے عوام نے متنازعہ علاقے پر تعمیر ہونے والی شاہراہ پر کام بند کرادیا ہے ،جس کی وجہ سے سینکڑوں ملازمین فارغ بیٹھے ہوئے ہیں اور دیامر ڈیم اور سی پیک جیسے اہم نوعیت کے منصوبوں میں اس طرز کے تاخیری حربے اور لاپرواہی حیران کن ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومتی رٹ اسی طرح جرگوں کے سہارا لیتی رہے گی تو اہم نوعیت کے منصوبے کامیاب اور بروقت تکمیل تک نہیں پہنچ سکتے ہیں ۔جس سے حکومت اور کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کے کے ایچ کے متبادل شاہراہ کا بند کام کو جلد بحال کیا جائے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s