گلگت: اینٹی ٹیکس موومنٹ گلگت بلتستان کا احتجاج کے تیسراے مرحلہ کا اعلان،20 فروری 2015کے بعد نہ ختم ہونے والاشٹرڈون اور پہیہ جام ہڑتال کرنے کا فیصلہ|PASSUTIMESاُردُو

2گلگت (ارسلان علی) اینٹی ٹیکس موومنٹ گلگت بلتستان کا احتجاج کے تیسراے مرحلہ کا اعلان ،20فروری 2015کے بعد نہ ختم ہونے والاشٹرڈون اور پہیہ جام ہڑتال کرنے کا فیصلہ ۔بدھ کے روز اینٹی ٹیکس موومنٹ گلگت بلتستان کے مرکزی ع عہدیدار چیئرمین فردوس احمد ،جنرل سیکریٹر ی مرتضیٰ علی ،چیئر مین کنٹریکٹر ایسوسی ایشن گلگت بلتستان سپریم کونسل بشیر احمد نے گلگت پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت پاکستان اور صوبائی حکومت غیر آئینی ٹیکس کے فیصلہ کو واپس نہیں لیتی کے تب تک گلگت بلتستان بھر میں شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال ہوگا۔انہوں نے کہا اس حوالے تمام مذہبی ،سیاسی ،علاقائی پارٹیوں اور گلگت بلتستان کے علماء کرام اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں لیا جائے گا۔اینٹی ٹیکس موومنٹ کے عہدیداروں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے عہدیداروں کو سٹیج پہ بلانے کے بجائے قاضی نثار اور آغا راحت کو بلایا جائے گا۔انہوں نے کہا اگر گلگت بلتستان میں آئین پاکستان نافذ نہیں ہوسکتاہے تو ٹیکس کیسے لاگو ہوسکتاہے؟جب تک جی کے آئینی حیثیت واضح نہیں ہوتا تب تک ٹیکس دینے کے لئے تیا ر نہیں ہے ۔ATMکے عہدیداروں نے وفاق سے آنے والے سرکاری ملازمین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا وفاقی سے آنے والے ملازمین کو مراعات دوگنے دیئے جاتے ہیں اور وہ یہاں سے جانے کا نام نہیں لیتے ہیں ان ملازمین کے پاس 2دو گاڑیاں ہوتی ہے ایک یہاں اور دسری ان کے گھر پہ ہوتی ہے ۔ان کا کہنا تھا گلگت بلتستان مین ون مین شو ہے اور پاقی کے نمائندے ٹائم پاس کررہے ہیں ۔گلگت بلتستان کے منتخب نمائندے وفاق کے ملازم ہے ہمارے نمائندے نہیں ہیں ،ہم نے جن کو منتخب کیا انہوں نے گلگت بلتستان کے حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھایا ۔انہوں نے کہا گلگت بلتستان ہر سال GSTکی شکل میں 40ارب روپے حکومت پاکستان لیتاہے لیکن ہمیں ان میں سے صروف 6ارب روپے دئے جاتے ہیں ۔اینٹی ٹیکس مومنٹ کے چیئر مین فردوس احمد کا کہنا تھا کہ اگر حکومت پاکستان ہمیں مرعات نہیں دے سکتی ہے تو آزاد چھوڑ دیا جائے ۔ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا حکومت پاکستان سے سیدھی انگلی سے گھی نہیں نکل رہاہے اب ٹیڑی کرکے نکالنے کی ضرورت ہے ۔واضح رہے احتجاج کے تیسرے مرحلہ کا آغاز ضلع غذ رسے کیا جائے گا اور 8فروری کو ضلع غذر میں احتجاج ہوگا اس کے بعد 10فروری کو ضلع ہنزہ نگر میں اور 9فروری کو ضلع سکردو میں احتجاجی جلسہ ہوگا۔یاد رہے اینٹی ٹیکس موومنٹ کے زیر اہتمام 14جنوری 2016کو گلگت بلتستان بھر میں پہیہ جام ہڑتال ہوا تھا اور دوسرے مرحلے میں 28جنوری 2016کو اتحاد چو گلگت میں گلگت بلتستان کے تاریخی احتجاجی جلسہ ہوا تھا جس میں گلگت بلتستان بھر سے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی تھی ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s