Dr Zaman 3میاں نواز شریف کا سرور محل

| ڈاکٹر محمد زمان داریلی |PASSUTIMESاُردُو

یہ ان دنوں کی بات ھے جب میاں نواز شریف صاحب دو بار ابا آدم کی طرح اقتدار کی جنت سے ایک دفعہ غلام اسحاق خان کے ہاتھوں اور دوسری بار جنرل مشرف کے ھاتھوں نکلنے کے بعد جیل یاترا کے بعد کنگ واسطہ اور خود پھانسہ کی جلاوطنی گزار رھے تھے. اقتدار کا سورج غروب ھوتے ھی تا قیامت میاں صاحب کا ساتھ نبھانے کی قسمیں کھانے والے دودھ پینے والے مجنون اکثر مشرف کو پیارے ھوگیئے تھے اور مشرف کو قوم کا نجات دھندہ سمجتے تھے اور مشرف کو وردی کے ساتھ دس بار صدر پاکستان بنانے کا کہتے نہیں تھکتے تھے.میان نواز شریف اس وقت ان کی یہ باتیں سن کر بڑے غمگین ھوتے تھے. لیکن سیاست کے بھی رنگ نرالے اس وقت جنرل مشرف کو باوردی صدر بنانے والے مولانا فضل الرحمان صاحب آج نوازشریف کو بھی بغل گیر ھوتے ھیں اس کو کہتے ھیں محبت اور جنگ کی طرح سیاست میں بھی ہر داوُ جائز ھوتا ھے باقی اسلام اور 73 کے آئین کی تناظر میں یہ پلٹ کر اقتدار پر جھپٹنا کتنا جائز ھے مولانا صاحب خود ھی بتا سکتے ہیں انھوں نے بھی کیا کہنا ھوگا وہ یہی کہینگے ملک اور جمہوریت کو بچانے کے لیے یہ پانسا پلٹنا ضروری تھا. بدلتا ھے رنگ آسمان کیسے کیسے. اُن دنوں میں بھی نیا نیا سعودی عرب آیا تھا میاں صاحب مجھ سے پہلے آئے تھے فرق صرف اتنا تھا کہ میں محکمہ صحت کو تین ماہ کی سالانہ چھٹی کی درخواست دے کہ آیا تھا میاں صاحب کو استاد مشرف نے کلاس میں شرارتیں کرنے پر جبراً باہر نکال دیا تھا اور بقول مشرف میاں نواز شریف نے دس سال اور بقول میاں صاحب سات سال تک کلاس میں قدم نہ رکھنے اور ملک میں آکر شرارتیں نہ کرنے کا معاہدہ کر کے سعودی عرب آئے تھے . اس وقت میاں صاحب بمع خاندان سرور پیلس جدہ میں بادشاہ کے مہمان ھوتے تھے اس لیئے میاں صاحب کے لیئے جو ایک وقت کا پکتا تھا وہ شاید ہمارے غریب خانے میں پورے سال کا پکتا ھو گا.

میاں صاحب کا دسترخواں بڑا وسیع ھوتا تھا کچھ ہمارے احباب کی دلچسپی میاں صاحب سے ملاقات سے ذیادہ دلچسپی انوائے اقسام کے کھانوں میں ھوتی تھی میاں صاحب کے دسترخواں قصہ خانی بازار نمک منڈی اور لاھور کی فوڈ سٹریٹس کو مات دیتا تھا. ملاقات کے لیئے جانے والوں کا نام ملاقاتی رجسٹر میں درج کیا ھوا ھوتا تھا ایکدن ہمارا بھی نام ملاقاتیوں میں کچھ مسلم لیگی دوستوں کے ساتھ شامل کیا گیا تھا ہم طائُف سے چل پڑے طائف جدہ سے کوئ دو گھنٹے کی مسافت پر ھے میاں نواز شریف سے میری یہ پہلی باضابطہ زندہ ملاقات تھی اگر مشرف ان کو اٹک جیل سے سوئے مقتل بہجتے تو یہ ملاقات ممکن نہ ھوتی .میرے ذھین میں بھی عجب سوال اُٹھتے تھے کہ پہلی ملاقات ھے کیا بات کروں کیا سوال کروں اس گومگوں میں کیفیت ہم جدہ سرور پیلس میاں نواز شریف کی قیام گاہ پہنچ جاتے ھہیں روٹین کی سکیورٹی چیکنگ کے مراحل سے گزر کر ہم سب اس عالی شان محل کے اندر مہمانوں کے ہال(دربار)میں پہنچ جاتیں ھیں ہم سے پہلے کچھ مہمان ہال میں تشریف فرماں تھے ہم سلام دعا کر کے نشتوں پر بیٹھ جاتے ھیں اتنے میں میاں شہباز شریف اور میاں صاحب کے والد محترم تشریف لاتے ھیں(جاری ھے)۔


پھسو ٹائمز اُردُو کی اشاعت مورخہ 04 فروری، 2016ء ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s