چلاس: جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام انکم ٹیکس کے خلاف بعد نماز ظہر چلاس صدیق اکبر چوک میں ایک اہم جلسہ|PASSUTIMESاُردُو

po.jpgگلگت: ہفتہ، 06 فروری، 2016ء – پھسوٹائمز اُردُو (عمر فاروق فاروقی) جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام انکم ٹیکس کے خلاف بعد نماز ظہر چلاس صدیق اکبر چوک میں ایک اہم جلسہ منعقد ہوا ۔جلسہ میں دیامر بھر سے ہزاروں لوگوں نے شرکت کیا،اور ٹیکس کے خلاف شدید نعراہ بازی بھی کیا گیا۔جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام تحصیل چلاس کے صدرمولانا عبدالمحیط،جزل سیکرٹری جے یو آئی دیامر بشیر احمد قریشی،مولانا شریف،مولانا حبیب اللہ مولانا سعد خان و دیگر نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے اس لیئے یہاں کے عوام کو حقوق دیئے بغیر ٹیکس کا نفاظ مکمل طور پر غیر قانونی ہے ،گلگت بلتستان کم آمدنی والا خطہ ہے لحاظہ اس خطے میں ٹیکس لاگو کرنا سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ حفیظ حکومت سے عوام کو بہت سی اُمیدیں وابستہ تھیں لیکن وہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے عوام کے حقوق غصب کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکسس کے ڈراون حملے بند کرے ،ورنہ گلگت بلتستان کے عوام ن لیگ کی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہونگے۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری ضلع دیامر کے بغیر ناممکن ہے اس لیئے حکومت فوائدکا سب سے زیادہ حصہ دیامر کو دے ،اور چلاس کے مقام پر اکنامک زون قائم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو ضلع چترال اور ضلع کوہستان سے ملاکر پاکستان کا پانچواں مستقل صوبہ بنائے۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی وفاقی حکومت تبلیغی جماعتوں پر پابندیاں نہ لگائیں اور علماء کرام کی بے گناہ گرفتاریوں سے باز آئیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت داریل تانگیر کو ملا کر جلد الگ ضلع کا اعلان کرے اور دیامر کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جائے اور چلاس میں قراقرم یونیورسٹی کا کیمپس قائم کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیکل کالج کا قیام بھی عمل میں لایا جایا۔دیامر کی تعلیمی پسماندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے دیامر یونیورسٹی کا اعلان کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ چلاس ہسپتال میں صحت کے سہولیات ناپید ہیں اور ہسپتال میں ایم آر آئی کی مشین نہ ہونے کی وجہ سے مریض پریشان ہیں ،صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے دیامر میں صحت کا نظام درھم برہم ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیامر ڈیم کے متاثرین کو جلد آدائیگیاں کی جائے اور متاثرین کے تحفظات کو دور کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ چلاس میں گندم کا شدید بحران ہے ،من پسند افراد کا گندم فراہم کرکے غریب کا حق مارا جارہا ہے ،حکومت اپنا قبلہ درست کرکے گندم بحران ختم کرے۔حکومت دیامر ڈیم کے نام پر عوامی زمین ہتھیانہ چاہتی ہے ،اور ماڈل کالونیوں کے نام مختلف قبائل کو آپس میں لڑا کر سستے داموں زمینیں خریدنا چاہتی ،ہم اس ظلم کے خلاف جنگ لڑیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ بھی ہے اور اٹوٹ انگ بھی ہم کشمیری بھائیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف ہیں ۔اقوام متحدہ کشمیر کا پرامن حل نکالیں ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s