منافقت یا آقا نوازی | تحریر ثاقب عمر گلگتی |PASSUTIMESاُردُو

saqمنافقت یا آقا نوازی | تحریر ثاقب عمر گلگتی |PASSUTIMESاُردُو

جب بھی گلگت بلتستان کے عوام متحد ہو کر اپنے حقوق کی بات کر تے ہیں اور کسی فیصلے کی جانب پیش قدمی کر تے ہیں تو ایک دم نام نہاد کشمیر ی رہنما ؤ کو تکلیف ہو تی ہے ۔ان کا ایک ہی رٹہ سامنے آتا ہے کہ گلگت بلتستان کے معاملات کے ساتھ چھیڑے گئے تو مسئلہ کشمیر خراب ہو گا ۔ آج تک تو گلگت بلتستان کے عوام نے مسئلہ کشمیر کو متا ثر نہ کر نے کے لیئے قر با نیا ں دی ہیں لیکن اب تک ان نام نہاد کشمیر ی رہنماؤں نے گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے حصول کے لیئے کیا قر با نی دی ہے ۔ جب ان کا اپنا ایک سیٹ اپ ہوا تو ان کو گلگت بلتستان کی یاد نہیں آئی یہاں تک کہ گلگت بلتستان کے طلباء اور یوتھ کے لیئے تعلیمی کو ٹہ بھی نہیں دیا ۔ آج گلگت بلتستان تا ریخ کے ایک اہم موڑ پہ کھڑ ی ہے تو اس وقت ایک دم کشمیر ی جاگ جا تے ہیں اور گلگت آکر ڈیر ڈال دیتے ہیں اور اپنے کشمیر رہنما ؤں کی بر سیاں منا تے ہیں اس سے قبل ان کو دور بین میں بھی نہیں دیکھا گیا لیکن آج ان کو گلگت بلتستان کی کیا ایسی یاد آئی جو یہاں آکر دورے کر نا اور ان وفاقی پارٹیوں کے ساتھ الا ئینس کر نا جو کہ سابقہ اور موجودہ حکومت کے لیئے چمچے کے طورپر استعمال ہو ئی اور اب ان کا یہ ڈیما نڈ کر نا کہ گلگت بلتستان اور کشمیر کو ملا کر ایک ہی کو نسل بنا یا جا ئے ۔ جس چلے ہو ئے کارتوس نے اس کا ڈیما نڈ کیا ہے اس کے سامنے پاکستان آزاد ہو ا کشمیر کا سیٹ ہوا اس دوران 28ہزار مر بعہ میل کو چھوڑ کر 4ہزار مر بعہ میل کو اپنی دھر تی سمجھ کر سیاست کی آج کس منہ سے کہا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے ؟گلگت بلتستان کا کلچر کشمیر سے الگ ہے کسی بھی قسم کا اخلا قی تمد نی مما ثلت نہیں ہے اگر گلگت بلتستان مہا را جہ کے دور میں کشمیر کا حصہ رہا ہے تو اس وقت کی تا ریخ یہ بتلا تی ہے کہ گلگت بلتستان کو جنگی حملوں کے ذریعے فتح کیا گیا تھا اور بعد میں خود گلگت بلتستان کے عوام نے بزور بازو فتح کیا اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں ہے کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے گلگت بلتستان کو اب تک زبر دستی مسئلہ کشمیر کا حصہ بنا کر قر با نی کا بکر ہ بنا گیا ہے جس کو گلگت بلتستان کے عوام سمجھ چکے ہیں اور اپنے مفادات کو وفاقی آقا ؤں کے افراد خطر ے میں دیکھ کر کشمیر کاز کا سہا را لیکر ایسے با تیں کر تے ہیں جن کا حقیقت سے کو ئی تعلق نہیں ہے اگر تعلق ہو تا تو آج گلگت بلتستان کے عوام خود میدان میں اتر تے اور کہتے کہ ہم کشمیر کا حصہ ہیں 20لاکھ کی آبا دی میں صر ف بیرو کر یسی کے مہمان اپنے آقاؤں کے بنا ئے ہو ئے پرو گرام کو لیکر گلگت بلتستان کا رخ کر تے ہیں اور یہاں کے عوام کو گمراہ کر نے کی کوشش کر تے ہیں ۔ ان مو سمی پر ندوں کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی ہے کہ گلگت لتستان کے عوام اپنے مفا دات کو سمجھتے ہیں اور اپنے حقوق لینا جا نتے ہیں ۔ جب اقتصا دہ راہداری کا معا ہدہ ہوا تو ایک دم کشمیری وفاق پر ست میدان میں آتے ہیں اور اس اہم مسئلے سے تو جہ ہٹا نے کے لیئے ماضی کی وہ قبر یں کھودتے ہیں جن میں کو ئی بھی ایسا مردہ نہیں ہے جس کا گلگت بلتستان کے حوالے سے تعلق ملتا ہو ان میں صر ف ان وفاق نما کشمیریوں کے مفادات نظر آتے ہیں جو آقا حضوری کو مکمل کر نے کے لیئے ما ضی کی قبر ستا نوں کو کھود کر گلگت بلتستان کے محکوم و محروم عوام کے جذ بات کے ساتھ کھیلتے ہیں ۔موجودہ حکومت کے سامنے ایک اہم چیلنج گلگت بلتستان کی سیاسی سٹیٹس ہے جو کہ سامنے آنے کے بعد ہی کشمیریوں نے بھی ایک ایسا ڈیمانڈ (گلگت بلتستان اور کشمیر کو ملا کر ایک کو نسل بنا کر چلا ئے جا ئے ) ان میں کچھ مذہبی اور قومی جما عتوں کے نما ئندے بھی ہیں جن کے اپنے پارٹی کا منشور اس قسم کے کو نسل بنا نے کی اجا زت نہیں دیتا ہے وہ اس قسم کا ڈیمانڈ پیش کرتے ہیں۔ کبھی کہا جا تا ہے کہ ہم کشمیر کے صدارت اور وزیر اعظم کے سیٹ کی قر با نی دینے کے لیئے تیار ہیں ان تمام با توں کا کیا مطلب ہو سکتا ہے 68سال بعد اس قسم کے ڈیما نڈ اور پیشکش کر نا سے صاف ظا ہر ہو تا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام مزید غلامی نما آزادی میں رہیں جس میں صر ف سانس لی جا سکتی ہے وہ بھی ادھار مانگ کر ایسے میں جب گلگت بلتستان کے عوام اپنے حقوق کے لیئے میدان میں آتے ہیں تو یہ ان کا جمہوری حق ہے جس سے کو ئی بھی نہیں روک سکتا ہے ۔ گلگت بلتستان کی سر زمین اس لیئے نہیں بنی ہے اس کو صر ف وفاق اپنے مفادات کے لیئے استعمال کر ے گلگت بلتستان میں بھی انسان بستے ہیں انکو حقارت کی نظر سے دیکھنا اور ان کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنا اس دور میں اب مشکل ہے ۔گلگت بلتستان کی مو جودہ حکمران جماعت نے بھی اے پی سی بلا کر دیکھ لیا کہ اب گلگت بلتستان کے عوام برا بری چا ہتے ہیں اور پی پی پی نے بھی اے پی سی بلا کر دیکھ لیا کہ گلگت بلتستان کے عوام وفاقی جماعتوں اور کشمیریوں سے کتنے تنگ ہیں عوامی را ئے سا منے آنے کے بعد ایک ایسا مسئلہ زبردستی مسلط کر نا جس کا گلگت بلتستان کے ساتھ کو ئی بھی واسطہ نہیں ہے اگر کشمیر کا گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ کسی بھی قسم کی مما ثلت ہے تو وہ عوام کے سا منے آئیں کشمیر کا کلچر اور گلگت بلتستان کے کلچر ہی اس بات کا گواہ ہے کہ کشمیر کے ساتھ گلگت بلتستان کا کو ئی بھی تعلق نہیں ہے اب ان کشمیر ی رہنما ؤں کو بھی سمجھ جا نا چا ہیئے اور اپنی دکان کو تا لا لگا نا چا ہیئے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے عوام بھی اپنے حقوق کا ادارک کر تے ہو ئے کھل کر سا منے آئیں تا کہ معلوم ہو سکے کہ ایک فیصد طبقہ ننا نوے فیصد پہ اپنا فیصلہ مسلط کر نا چا ہتے ہیں ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s