جہد مُسلسل. میری تعلیمی کہانی |ڈاکٹر محمد زمان داریلی |PASSUTIMESاُردُو

DR ZAMAN 4جہد مُسلسل. میری تعلیمی کہانی |ڈاکٹر محمد زمان داریلی |PASSUTIMESاُردُو

 میری پہلی درسگاہ کھنبری سیر کا پرائمری سکول ھے جہاں 1974 ستمبر کے مہینے میں داخل ھوا تھا اس سکول کا پہلا بیچ میں اور میرے ھم جماعت تھے دو کمروں پر مشتمل یہ عمارت جس کے فرش پر گرمی اور سردی سے بچاوُ کے لیے ریت بچھائ گئ تھی سکول کا کوئ باتھ روم نہیں تھا سردیوں میں طلباء گھروں سے ایک ایک لکڑی لے کر آتے تھے استاد کا تعلق بھی کھنبری سے نہیں بلکہ دوسرے علاقوں سے ھوتا تھا یہ سکول پرئمری تھا اور میری پرائمری پاس کرنے تک جن اساتذہ کرام کی یہاں پوسٹنگ ھوئ وہ سب انڈر میٹرک تھے ان کے لیے اس سکول کی عمارت کے ساتھ رہائش کا کوئ بندوبست نہیں تھا وہ مقامی لوگوں کے ہاں ٹھرتے تھے پھر بھی یہ اساتذہ اپنی ڈیوٹی خوش اسلوبی سے انجام دیتے تھے اپنی ڈیوٹی خود کرتے تھے کسی اور کو ٹھیکے پہ بھی نہیں دیتے تھے اگر چاھتے تو ایسا کر سکتے تھے کیونکہ یہ درسگاہ کے کے ایچ سے 16 کلو میٹر کی مسافت پر واقع تھا اس وقت تعلیم دی جاتی تھی فروخت نہیں ھوتی تھی آج کی موم بتی تعلیم نہیں دی جاتی تھی بلکہ سزا اور جزا مقرر تھی اساتذہ بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر تعلیم دیتے تھے اور بچوں پر استاد کا خوف اور احترام دیدنی ھوتاتھا اس وقت کلکولیٹر ,موبائل ,لیب ٹاپ ,کمپیوٹر , آئ پیڈ نہیں سرکنٹوں کے قلم , لکڑی کی بنی تختی لوھے کی سلیٹ چکنی سفید مٹی کی سیاھی ھوا کرتی تھی ابتدا تلاوت قرآن اور لب پے آتی ھے دعا بن کے تمنا میری سے اختتام پہاڑہ زبانی خوبصورت دھن سے باجماعت پڑھ کے ھوتی تھی درمیان کی بریک جسے تفریح دیسی بنی گیند کے ساتھ کوئ نہ کوئ کھیل کر کے وقت پاس کیا جا تا تھا لنچ کے طور پر دیسی مکئ کی سوکھی روٹی یا پھر بغیر کچھ کھائے پیئے واپس گھر جانا ھوتا تھا اب تو اس کو سنیک کہا جا تا ھے. بچوں کو سزا ہری ٹھنیوں کو ہاتھوں پر برسا کر دی جاتی تھی لیکن اس سزا پر نہ بچے اور نہ والدین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کہلاتے تھے اور نہ اس اصلاحی سزا کو قومیت کا لیبل لگایا جاتا تھا اساتذھ دلجمعی سے پڑھاتے تھے تو شاگرد اسے خوب پڑھتے تھے . امتحان لینے باھر سے آنےوالے ممتہن کا کیا روپ اور دبدبہ ھوتا تھا . پرائمری پاس کرنے کے بعد میں بھی اعلی’ تعلیم کی حصول کے لیےعلامہ اقبال کے نقش قدم پر چلتے ھوے داریل چلا گیا داریل میری جائے پیدائش ھے میرا داخلہ داریل گماری کے ھائ سکول میں ھو جاتا ھے داریل گماری کا سکول میرے گاوُں پھوگچ سے پانچ کلو میٹر دور تھا اس لئے مجھے روزانہ دس کلو میٹر کا سفر پیادل طے کرنا پڑھتا تھا گرمی ھو یا سردی پیادل روز دس کلو میٹر کا سفر لیٹ ھونے پر سردی سے سکڑتے ھا تھوں پر وہی کھنبری کا روٹین چھڑیوں کی بمباری دن کا لنچ دیسی روٹی شالوڑو (دسی نام) کا ادھر ادھر ھونے پر غائب ھونا یہ تین سال میری تعلیمی سفر کے مشکل ترین دن تھے ہمت نہیں ہاری اور مڈل پاس کر کے سائنس ٹیچر نہ ھونے کی وجہ سے رخت سفر باندھ کر گلگت کوچ کرنا پڑھا بہت سے ہمسفر کچھ ہمت ہار کر کچھ مالی مشکلات کے بدولت میرے ساتھ یہ سفر جاری نہ رکھ سکے میں نے گلگت ھائ سکول نمبر1 میں داخلہ لیا داریل گماری کے ھائ سکول کی مٹھائ اور سوکھی روٹی پانی میں بگو کر بھو ک مٹانا فائیو سٹار ھوٹل کے ٹیسٹ سے کم نہیں ھوتا تھا (سفر جاری ھے)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s