گلگت: اسمبلی اجلاس کی کاروائی: کون جزباتی ہوگئے؟ اپوزیشن کو سر پہ کس نے چڑھایا؟ سپیکر اور تابان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ کیوں ہوا؟ جانئے نعیم انور کی اس رپورٹ میں|PASSUTIMESاُردُو

12745494_1983025935256911_3322457316415165538_n

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی فائل فوٹو

گلگت: بدھ، 24 فروری، 2016ء – پھسوٹائمز اُردُو (نعیم انور) اسمبلی اجلاس کے دوران وزیر خوراک حاجی جانباز خان اچانک جذباتی ہو گئے نشست سے کھڑے ہو کر سپیکر قانون ساز اسمبلی حاجی فدا محمد ناشاد کو کھری کھری سنا دی ،تم ہمیشہ اپوزیشن کو ڈیل دیتے ہو جو واک کرکے جانا چاہتے ہیں، انھیں جانیں دو منا نے کی کو ئی ضرورت نہیں ہے، میں بھی انھیں منانا نہیں چاہتا ہوں جانے والوں کو جانے دو مگر اُن تک اپنا پیغام پہنچانا چاہتا ہوں ،سپیکر کے ریمارکس
اسمبلی اجلاس اُس وقت دلچسپ صورتحال اختیار کر گیا جب اپوزیشن کی طرف سے واک آوٹ کا اعلان کر کے اجتماعی طور پرایوان سے باہر نکلے تو سپیکر قانون ساز اسمبلی فدا محمد خان ناشاد نے ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ اور اورنگزیب ایڈوکیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں جاکر اپوزیشن کو میرا پیغام دے دو کہ وہ اجلا س میں دوبارہ تشریف لائیں جس پر حاجی جانبا ز اور طیش میں آگئے اور کہنے لگا آپ نے اپوزیشن کو سر پر چڑھایا ہے وہ ہمیشہ معمولی بات پے واک کردیتے ہیں اور آپ انکوہمیشہ منا کر واپس لاتے ہو یہ رویہ ترک کرو ۔میں اسمبلی کا پانچ مرتبہ ممبر بننا ہوں کسی سپیکر نے اپوزیشن کو اتنا ڈیل نہیں دی جتنا تم دیتے ہو جس پر سپیکر نے کہا میں چھ مرتبہ اسمبلی کا ممبر بننا ہوں آپ کے علم کیلئے مجھے سمجھانے کی کو ئی ضرورت نہیں ہے اپنا کام میں اچھی طرح سمجھتا ہوں۔جانباز خان نے کہا اپوزیشن کا روز اجلاس سے واک آوٹ کرنا غیر اخلاقی ہے اور ایوان کا کورم پورا ہے اجلاس جاری رکھا جائے اسی دوران سپیکر اور سینئر وزیر میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور ایک دوسرے کو سناتے رہے۔ معاملے کو سلجھانے کی کیلئے وزیر بلدیات فرمان علی بھی اپنے نشست سے کھڑے ہوئے اور کہنے لگاہر بات پے اپوزیشن کا واک آوٹ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے ،ٹیکسز ہم نے نہیں لگا یا ہے ،ٹیکس ہمارا ایشو نہیں ہے وفاق کا ایشو ہے ،ٹیکس کا ایشو اسمبلی میں بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جس پرسپیکر اور طیش میں آگئے اور وزیر بلدیات کو سر زنش کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا ہر مسلہ ایوان کا ایشو ہے غلط بات کرنے سے وزراء گر یز کریں، عوام سراپا احتجاج ہیں اور آپ اپنے آپکو مسلہ سے بری الزمہ ٹھرانا چا ہتے ہوجو غلط بات ہے ۔عوامی نمائندے ہیں عوام کو جواب دہ ہیں لہذا اس اہم ایشو پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے کل اجلاس میں اس پر تفصیلی بحث ہو گی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s