گلگت: ریسکیو1122 کو تمام اضلاع تک وسعت دیا جائیگا،ایمرجنسی سروس کو غیر ضرروی ٹیلی فون کرکے ان اداروں کاقیمتی وقت اور وسائل ضائع کرنے والوں کے خلاف کاروائی کیلئے قانون سازی کی جائیگی ،وزیراعلیٰ جی بی|PASSUTIMESاُردُو

1ba1e809-e454-416a-bdfa-923c21746e845c47e254-a449-459d-a8a6-e42dc7072a70fa391fe9-fa3e-4a82-b76e-bd704ebb78baگلگت: جمعہ، ، 04 مارچ، 2016ء – پھسو ٹائمز اُردُو (پ ر) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاہے کہ ریسکیو1122 کو تمام اضلاع تک وسعت دیا جائیگا۔ ریسکیو1122، ہسپتال اور دیگر ایمرجنسی سروس کو غیر ضرروی ٹیلی فون کرکے ان اداروں کاقیمتی وقت اور وسائل ضائع کرنے والوں کے خلاف کاروائی کیلئے قانون سازی کی جائیگی وزیراعلیٰ نے متعلقہ ادارے کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورت کے موقع پر بروقت امدادی کاروائی کو یقینی بنانے کیلئے گلگت شہر کی وست میں تین مقامات پر واٹر ہائیڈرینٹ کی تعمیر کیلئے مناسب جگہے کی نشاندہی کی جائے۔ ریسکیو1122 کے اہلکاروں کو دریا میں غوطہ خوری کی خصوصی تربیت پاک بحریہ اور غوطہ خوری میں مہارت رکھنے والے نجی ادارے سے کرائی جائیگی ۔ وفاقی و جرمن حکومت کے تعاون سے گلگت میں ایک جدید اور تمام سہولیات سے آراستہ ریجنل بلڈ سینٹر قائم کیا گیا ہے جس کا بہت جلد افتتاح کیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ نے ریسکیو1122 کے آفیسران کو ہدایت کی ہے کہ غیر ملکی سیاحوں کو گلگت داخلے کے وقت ریسکیو1122 کے بارے میں تمام معلومات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے ریسکیو1122 کے ادارے کے حوالے سے بریفنگ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے ریسکیو1122 کی کارکردگی سہراتے ہوئے کہا کہ عوام کا اس ادارے پر اعتماد قائم ہوا ہے متعلقہ آفیسران اور اہلکار اس اعتماد کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی کارکردگی مذید بہتر بنائیں۔
بعد ازیں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے ریسکیو1122کو 10نئے جدید ایمبولیسز حوالے کرتے ہوئے کہا کہ ان ایمبولینسز کے ادارے میں شامل ہونے سے ریسکیو1122 کی کاکردگی میں مذید بہتری آئیگی حکومت دور دراز علاقوں کیلئے جدید موبائیل ہسپتال سروس کا آغاز کرنے کیلئے حکمت عملی بنا رہی ہے جس سے دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت سہولیات انکے دہلیز پر میسر آئینگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے نئی پالیسی کے تحت سیلاب اور زلزلے میں شہید ہونے والے کے لواحقین میں اور زخمیوں میں امدادی چیکس فوری طور پر کیے ہیں نقصانات کے معاوضوں کی ادائیگی کو مکمل طور پر شفاف بنایا گیا ہے جن علاقوں سے بے ضابطگی کی شکایات موصول ہوئی تھی ان پر فوری کاروائی کی گئی ہے تمام اضلاع کو مالی نقصان کے معاوضوں کے فنڈز فراہم کیے گیے ہیں بہت جلد تمام متاثرین کو انکے مالی نقصانات کا معاوضہ بھی مل جائیگا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s