دو دھشت گرد |تحریر : ڈاکٹر محمد زمان داریلی |PASSUTIMESاُردُو

Dr Zaman 6دو دھشت گرد |تحریر : ڈاکٹر محمد زمان داریلی |PASSUTIMESاُردُو

دوستو زیر نظر تصویر میں نظر آنے والے افراد وہ ہیں جو نہ تو نیو یارک کے ٹوِن ٹاورز گرانے میں ملوث تھے نہ یہ پیرس بمبنگ میں ملوث تھے نہ ان دونوں نے کوہستان ہربن کے مقام پر مسافروں کو بسوں سے اتار کے بےدردی سے قتل کرنے میں ملوث ہیں نہ یہ لولوسر واقع میں ملوث قرار دیئے گئے ہیں نہ بونر داس واقع میں مطلوب ہیں نہ یہ دونوں نگرل روڈ پر شناختی کارڈ دیکھ کے مارے جانے والے واقع میں نامزد ملزم تھے نہ یہ دونوں 88کے جنگ وجدل میں ملوث تھے ان دونوں کا یہ قصور ھے کہ ان دونوں نے سکول میں لب پہ آتی ھے دعا بن کے تمنا میری پاک سرزمین سائیہ خداائے ذولجلال پڑھا ھے یہ دونوں ہر سال14 اگست کو سبز ہلالی پرچم اُٹھا کر یوم آذادی مناتے آئے ہیں ان کے اباوُ اجداد سے تادم پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے آئے ہیں تو سن لو یہ ایڈوکیٹ شہباز ھے ان کا تعلق ہیرا موش سے ھیے بچے کا نام زوہیب اللہ ھے جن کا تعلقداریل پھوگچ سے ھے ان دونوں میں ایک چیز مشترک ھے وہ یہ کہ دونوں کٹھپتلی حکمرانوں کے زیر اثر پولیس گردی کی فائلوں کے ریکارڈ میں 6/7 انسداد دھشت گردی کے کالے قانون کے زیر عتاب آئے ہیں۔

ایڈوکیٹ شہباز نے مصوم زوھیب کی عدالت میں مفت پیروی کی تھی ایڈوکیٹ شہباز کو ایسے انسانی ہمدردی اور فلاہی کاموں اور حکمرانوں کے ظلم وذیادتیوں کے خلاف آواز اُٹھانے پر دھشت گرد قرار دیا گیا ھے ظلم کی انتہا دیکھو ایڈوکیٹ شہباز مقپون داس سے 50 کلو میٹر دور گلگت شہر میں ھونے کے باوجود مقپون داس فائرنگ کے واقع میں ملوث قرار دے کر ان پر دھشت گردی سمیت مختلف مقدمات میں نامزد کیا گیا اور زوہیب کو پولیس کے ہاتھوں لگنے والی گولی کے خود کے زخموں کا زمہ دار قرار دے کر دھشت گرد قرار دیا گیا واہ رے ظالم سماج ظالمو اتنا ظلم کرو جو کل دیت بھی دے سکو اتنا جھوٹ بولو جس پر دنیا اعتبار بھی کر سکے ان دونوں شہباز اور زوہیب کا ایک اور گناہ بھی ھے جو شاید سب سے بڑا گناہ ہے وہ ھے ان دونوں کا تعلق بےآئین دھرتی گلگت بلتستان سے ھے بے آئین دھرتی کے کٹھ پتلے اور لٹھ پتلے جعلی حکمران یاد رکھنا چیونٹی بھی ہاتھی کی موت کا سبب بن سکتی ھے یہ تو پھر بھی اکیسوی صدی کے جیتے جاگتے انسان ہیں ایڈوکیٹ شہباز اور مصوم بہادر بے آئین دھرتی کے سپوتوں کے نام کسی کے لکھے ھوئے چندانقلابی اشعار کالی راتوں کے سائے ڈھلنے کو ہیں ستم زدوں کے دن اب بدلنے کو ہیں دیوانوں پہ جو گزری سو گزری زخم خوردہ اب پھر مچلنے کو ہیں قتل گاہوں سے پرچم اٹھا لائے ہیں عاشقوں کے قافلے پھر نکلنے کو ہیں نئی بیڑیاں لاو نئے دار سجاو کہ یار یاروں سے بیتاب ملنے کو ہیں صبح نور سے پہلے خوب چھاتی ہے رات اب فجر کی اذاں ہم سننے کو ہیں آخری سانسیں ہیں خزاوں کی ڈٹے رہنا باغبانو۔ چمن میں پھول کھلنے کو ہیں انقلابی اشعار


پھسو ٹائمز اُردُو کی اشاعت مورخہ 10 مارچ،2016ء

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s