.[زندہ ہے بھٹو زندہ ہے | تحریر ؛ سعدیہ دانش[ ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان

12767699_1718305175050033_570702727_n.jpg.[زندہ ہے بھٹو زندہ ہے | تحریر ؛ سعدیہ دانش[ ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان

ایٹمی پاکستان کے بانی ،متفقہ آئین کا خالق ،پہلے وزیراعظم،شہید عوام ،شہید جمہوریت ،قائد عوام ذولفقارعلی بھٹو کی آج برسی ہے ۔بھٹو خاندان کی قربانیوں پر پوری قوم کو فخر ہے ۔ذولفقار علی بھٹو وہ سیاستدان تھے جو آنے والے حالات اور عالمی سیاست کا گہرادراک رکھتے تھے ۔پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی عوام کی امیدوں کا مرکزہے ،1947ء کی طرح آج بھی پارٹی کا منشور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی اہلیت رکھتاہے ،قائد عوام فخر ایشیاء کی بشارت پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ذولفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ایک زندہ جاوید حقیقت ہیں وہ جنوبی ایشیاء ہی نہیں بلکہ اقوام عالم میں تبدیلی پیدا کرنے کی اہلیت رکھنے والے اور دنیا کی تاریخ میں اپنے لازوال نقوش چھوڑکر ہمیشہ کیلئے امرہوجانے والے رہنماء تھے
میں تو احساس ہو،زندہ ہوں سبھی ذہنوں میں
میرے خون کاآج جب بھی چمکے گا
شام ڈھل رہی ہے اور پھر آخررات کی سیاہ نے ہر شے کو ڈھانپ دیاکہ ایک ایسی سیاہ رات جس نے تاریخ کے اوراق پر ایک ایسی دستان رقم کردی جس کا ہر لفظ لہو لہو ہے ،قائد عوام نے ہمیشہ غریبوں کی سرپرستی کی ،قائد عوام کے افکار کی روشنی میں پاکستان جمہوری ملک بنا ئیں گے ۔آج بھی سیاسی وفاداریاں بھٹو شہید کے رشتے سے ہی منسلک ہے بلکہ آج ان کے افکار کی اہمیت اور افادیت ماننے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔ان کے مخالفین پر آمریت ،رجعیت پسند ی اور استعمار کے یر غمالیوں نے جو مصلحت کے پردے ڈال رکھے تھے وہ آٹھ رہے ہیں ۔کم علمی کے اندھیر ے چھٹ رہے ہیں ان کی عزیز ترین عظیم دختر محترمہ بینظیر شہید نے اپنے بے مثال والد کی رشن کی ہوئی شمع کو جس عقیدت اور ذمہ داری سے آگے لے کر بڑھیں اس سے بھٹو شہید کی معروضی سیاسی سوچ کی روشنی اور ذیادہ ذہنوں اور دلوں تک پہنچی ۔یہ ایک عظیم سیاسی فکر کا تسلسل ہے ، ایک دریا کی روانی ہے ،جس میں موجیں آرہی ہیں شامل ہورہی ہیں اور عقیدتوں ،محبتوں ،بیدراریوں ،وفاداریوں کا یہ دھارا اورزیادہ وسیع اور تیز ہوتا ھارہاہے ۔آج 4آپریل ہے ،یہ دن وطن عزیز کی تاریخ میں8 سیاسی اعتبار سے سوگ اورملال کا استعمارہ بن چکا ہے ۔ان کی شہادت سے جہاں سیاسی سطح پر ایک کبھی نہ پر ہونے والاخلاء پیدا ہواہے ،وہاں یہ حقیقت بھی اجاگر ہوئی کہ ظلم کے ضابطے کبھی ذہنی وابستگی کو تبدیل نہیں کرسکیں ،قومی سیاست کے تذکرہ میں آج بھی وہ ایک زندہ کردار کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کوجسمانی موت نے ان کی فکر اور انداز سیاست کو اندگی اور بقاء عطا کی ۔عالمی سیاست میں جو شہر ت اور انفرادیت بھٹوصاحب کو حاصل ہے ،اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی ۔ذولفقارعلی بھٹو نے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ کرنا سیکھا نہ گوارہ کیا اور جب کال کو ٹھری میں انہیں ہر طریقے سے معافی نامہ لکھنے پر مجبور کیا گیا تو انہوں انے تاریخی جملہ کہا’’میں ڈکٹیٹر کے ہاتھوں مرنا پسند کرونگا لیکن تاریخ کے ہاتھوں نہیں‘‘آج تاریخ میں بھٹو تو زندہ ہے ،زندہ رہے گا مگر اسے مارنے والے تایخ کاایند ھن بن چکے ہیں ۔
اصولوں اور عوامی حقوق کیلئے شہادتوں کا سفر رکا نہیں ،ذولفقارعلی بھٹو کی جانشین بے نظیر بھٹو بھی اسی راہ پر چلتے چلتے عوام کے ہاتھوں میں جام شہادت نوش کرکے جمہوریت سیاست اور فلسفہ بھٹوپھر زندہ کر گئیں ۔

کل کو ثر مرے آنگن میں رقص بہاراں تھالیکن
آج ترستے ہیں کاغذ کے پھول کو گلدان مرے

پاکستان پیپلز پارٹی وطن عزیز کی سب سے بڑی سیاسی و عوامی قوت ہے پاکستانی قوم کی خو ش قسمتی ہے اسے قائد عوام کی شہادت کے بعد ورثے میں ملنے والی پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے عوام کیلئے بہت کچھ دیا ،پارٹی کا منشور ،ملک و قوم کی خدمت کرنا ہے۔
آج بے شک یہ عظیم شہادت ہم سے جدا کردی گئی لیکن ان کا مشن ہماری رہنمائی کیلئے مثال ہے کیونکہ ’’کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے ‘‘


پھسو ٹائمز اُردُو کی اشاعت مورخہ 04 اپریل 2016ء ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s