چلاس: ہسپتال میں سہولیات کی عدم دستیابی اور ڈاکٹروں کی من مانیوں کے خلاف چلاس کے عوام سڑکوں پر نکل آئے|PassuTimesاُردُو

40fd472b-97b5-457b-8c01-b687b2b6a2e6چلاس: منگل، 05 اپریل، 2016ء – پھسوٹائمز اُردُو (عمر فاروق فارقی) چلاس ہسپتال میں سہولیات کی عدم دستیابی اور ڈاکٹروں کی من مانیوں کے خلاف چلاس کے عوام سڑکوں پر نکل آئے ۔چلاس میں دیامر یوتھ علماء کونسل نے ڈاکٹروں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ڈاکٹروں کی غنڈا گردی نامنظور،ڈاکٹروں کی دکانداری نامنظور کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے چلاس صدیق اکبر چوک میں روڈ بلاک کر کے سخت احتجاجی مظاہرہ کیا،احتجاجی مظاہرے میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کیا ۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محفوظ الحق،مولانا عارف ،مولانا مجید و دیگر نے کہا کہ چلاس ہسپتال کے ڈاکٹروں کا مریضوں کے ساتھ رویہ انتہاہی افسوس ناک اور ناقابل بیان ہے ۔انہوں نے کہا کہ چلاس ہسپتال کے ڈاکٹرز اپنا پورا وقت ہسپتال کی بجائے اپنی کلنکوں میں گزارتے ہیں ،مگر پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ چلاس کے ڈاکٹروں نے دیامر کے عوام کو لُوٹنا شروع کر دیا ہے ،چلاس ہسپتال میں ایک ڈاکٹر روزانہ 20سے زائد مریضوں کو چیک اپ نہیں کرتا ہے ،اور باقی آنے والے مریضوں کو شام ٹائم کلنیک میں بلایا جارہا ہے ،اور وہاں پر غریب مریضوں سے بھاری فیسیں اور مہنگی دوائیاں دے کر ہزاروں روپے بٹورے جارہے ہیں ،چلاس کے ڈاکٹروں نے کلنیکس نہیں پیسو ں کی مشنیں کھول رکھی ہیں ۔چلاس کے ڈاکٹر غنڈا گردی پر اُتر چکے ہیں ،چلاس ہسپتال میں صفائی کا کوئی نظام نہیں ہے باتھ رومز میں گندگی کی ڈھیر ہے ۔ڈاکٹروں کے وقت پر ہسپتال نہ آنے کی وجہ سے مریض رل گئے ہیں ،ڈاکٹرز صبح 11بجے آتے ہیں اور12بجے واپس اپنی کلنکس میں جاکر مریضوں کا راہ تاک رہے ہوتے ہیں ،ہر طرف اندھیر نگری چوپٹ راج ہے ۔چلاس میں ڈاکٹر مریض کے نبض چیک کئے بغیر دوائیاں لکھ کر دے دیتے ہیں ،جس کی وجہ سے مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے ،جعلی دوائیوں کی بھر مار ہے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ چلاس میں بارشوں کی وجہ سے درجنوں اموات ہوئی ہیں اور سینکڑوں لوگ زخمی ہیں ،لیکن چلاس ہسپتال میں ایمرجنسی نافظ ہونے کے بجائے ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں ،اور آپس کی دھڑابندیوں کا شکار ہو کر مریضوں کے جانوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چلاس ہسپتال میں 52ڈاکٹروں کی پوسٹ ہیں ،لیکن اس وقت 18ڈاکٹرز ہیں اور وہ بھی وقت پر ڈیوٹی نہیں دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دیامر میں ضلعی انتظامیہ کا کوئی بھی زمہ دار موجود نہیں ہے ،جس کی وجہ سے ہر طرف آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اور فورس کمانڈر نوٹس لیں اور دکھی انسانیت کی خدمت کے نام پر مریضوں کو لُوٹنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s