چلاس: بارش کیا برسی دیامر میں قیامت ٹوٹ پڑی۔ہولناک اور تباکن بارشوں کی وجہ سے دیامر کے عوام کو اربوں روپے کا مالی نقصان |PassuTimesاُردُو

851f4a87-1258-4fbd-a8b4-323fa0daea79چلاس: جمعرات، 07 اپریل، 2016ء – پھسو ٹائمز اُردُو (عمرفاروق فاروقی) بارش کیا برسی دیامر میں قیامت ٹوٹ پڑی۔ہولناک اور تباکن بارشوں کی وجہ سے دیامر کے عوام کو اربوں روپے کا مالی نقصان ۔ تفصیلات کے مطابق حالیہ بارشوں کی وجہ سے گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ نقصان ضلع دیامر میں ہوا ۔جہاں 15انسانی جانیں ضائع ہوگئی ،سینکڑوں گھر تباہ ہوگئے ،ہزاروں مال مویشی ہلاک ہوگئی اور ہزاروں کنال اراضی تباہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہزاروں گھرانے متاثر ہو کر رہ گئے ہیں ۔دیامر کی تینوں تحصیلوں چلاس،داریل اور تانگیر میں گزشتہ روز کی بارش نے ہر طرف تباہی مچا کر رکھ دیا ہے ،تھک ،نیاٹ میں گزشتہ روز کی بارش کے وجہ سے برفانی تودہ گرنے سے بابوسر کے مقام پر سینکڑوں کنال قابل کاشت اراضی مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے اور سینکڑوں گھر زمین بوس ہوگئے ہیں ،بارش کی وجہ سے تھک ،لوشی،لیمت،دیورے،کوٹ، شراٹ جل،ڈسر،نیاٹ،گوشر،ملکوش،تھئے،گورمل،شمت،اور دیگر نالہ جات میں لوگوں کی ما ل مویشی اور مویشی خانے گر کر تباہ ہوچکے ہیں اور سینکڑوں گھروں کے دیواریں منہدم ہوچکی ہیں ۔گوہرآباد ،بونر،فارم،گئنی ،کھنر،بٹوگاہ،تھور،مکھلی،تھرلی اور دیگر چھوٹے بڑے نالہ جات میں سینکڑوں مکانات مکمل طور پر گر کر تباہ ہوچکے ہیں اور ایک بہت بڑی تعداد میں مال مویشی ہلاک اور قابل کاشت اراضی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔دیامر کی تحصیل داریل میں گزشتہ روز کی بارشوں نے ہر طرف تباہی مچا کر رکھ دیا ہے،بارش کا پانی داریل کے مختلف دیہاتوں میں داخل ہوکر سیلابی شکل اختیار کرگیا جس سے سینکڑوں گھرانے متاثر ہوکر رہ گئے ہیں ،ڈوڈیشال میں بارش کے باعث 7کلومیٹر تک رابطہ سڑک مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے ،جبکہ درجنوں گھر تباہ ہوچکے ہیں اور سینکڑوں کنال آباد زمین اور درخت تباہ ہوکر رہ گئے ہیں ۔داریل سمیگال،پھنگیچ،گماری،منیکال،یشوٹ اور کھنبری میں میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور سینکڑوں مال مویشی ہلاک ہوگئی ہے اور رابطہ سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہوگئی ہیں ،جس سے داریل کے بالائی علاقوں کا چلاس شہر سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔دیامر کی تحصیل تانگیر میں انسانی جانوں کے ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کی سینکڑوں کنال اراضی،مال مویشی،درخت اور مکانات گر کر تباہ ہوچکی ہیں ۔تانگیر لورک،جگلوٹ،شیخو،دمر،پھپٹ،درکلی،اور ستیل میں بارش اور برف باری کے بعد رابطہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ،او ر ا ان علاقوں میں بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہوچکا ہے ۔اور ذرائع مواصلات کا نظام بھی معطل ہے۔دیامر کی تحصیل چلاس میں عوام کو 30کروڈ سے زائد کا مالی نقصان پہنچا ہے،تحصیل داریل میں بھی لوگوں کے 30 کروڈ سے زائد کا نقصان ہوا ہے ،اور تحصیل تانگیر میں بارشوں کی تباکاریوں سے عوام کو 25کروڈ سے زیادہ مالیت کا مالی نقصان پہنچ چکا ہے ۔مجموعی طور پر دیامر بھر میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں عوام کو ایک ارب سے زائد کا مالی نقصان پہنچا ہے۔صوبائی حکومت نے ۳روز گزر جانے کے باوجود بھی ہزاروں متاثرین کو بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے چھوڑ کر ز ندگی گزارنے پرمجبور کر دیا ہے ،دیامر کے دور افتادہ علاقوں میں سڑکوں کی بندش سے ایشائے خورد و نوش کی قلت پیدا ہوگئی ہے ،ضلعی انتظامیہ نے نالہ جات کو جانے والی رابطہ سڑکوں کو تاحال بحال کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائی ہے۔جس کی وجہ سے عوام ذہنی ازیت میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں ۔دیامر کے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ دیامر کو آفت زدہ قرار دے کر متاثرین کی بحالی کیلئے عملی اقدامات اُٹھایا جائے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s