قابل تحسین اور قابل تقلید، جن کی خدمات نے پارٹی کو استحکام بخشا|تحریر: شرین کریم |PassuTimesاُردُو

شیرین کریم 2قابل تحسین اور قابل تقلید، جن کی خدمات نے پارٹی کو استحکام بخشا|تحریر: شرین کریم |پھسو ٹائمز اُردُو

محمد شفیق الدین نائب صدر پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان گلگت کے نواحی علاقہ نپورہ بسین میں9اگست1972ء کو پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم چکوال سے حاصل کی ان کے والد ڈاکٹری کے مقدس پیسے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے گریجویشن گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد سے حاصل کی۔ محمد شفیق الدین جوکسی تعریف کے محتاج نہیں پاکستان مسلم لیگ ن کے حقیقی کارکن اور ان کا شمار مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے بانیوں میں ہوتا ہے۔28سال پاکستان مسلم لیگ ن کی پارٹی کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ جنہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کے پرچم کو سرنگوں ہونے نہیں دیا یہ وہی کارکن ہیں جنہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کی مضبوطی ، ترقی اور استحکام کیلئے دن رات کوششیں کیں اور1988ء سے لے کر اب تک پارٹی میں اپنے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ہر مشکل گھڑی میں انہوں نے پارٹی کا ساتھ دیا اور مشکل وقت میں پارٹی کو نہیں چھوڑا بلکہ پارٹی کے استحکام اور ترقی کیلئے گلگت بلتستان میں عملی اقدامات اٹھائیں۔ سیاسی سرگرمیوں میں پیش پیش ہونے کی وجہ سے وہ تعلیم کو جاری رکھ نہ سکے۔1988ء میں پاکستان مسلم لیگ ن میں باقاعدہ شمولیت کے بعد مسلم لیگ ن یوتھ فیڈریشن کی بنیاد رکھی جس کے صدر حاجی جانباز خان اور جنرل سیکریٹری طاہر حسین (موجودہ چیف الیکشن کمیشنر)تھے۔
محمد شفیق اپنی قائد انہ صلاحیتوں کی وجہ سے 1999ء میں ق لیگ کے دو رمیں بلدیاتی الیکشن لڑے اور بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی جنہیں نوعمر وائس چیئرمین کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ مشرف دور میں فنڈزکی کمی نہ تھی بعض ساتھی لالچ میں آگئے اور انہو ں نے پاکستان مسلم لیگ ن کی پارٹی کو خیر باد کہا اور ق لیگ میں شامل ہوگئے۔
وہ بغیر کسی لالچ کے پارٹی میں ڈٹے رہے اور عوامی نوعیت کے خدمات سرانجام دیتے رہے جس کی وجہ سے عوام انہیں ہمیشہ چاہتی ہے بغیر کسی مفاد پرستی اور پیسوں کے انہوں نے پانچ سال عوام کی خدمت کی شفیق الدین گلگت بلتستان سے واحد کارکن تھے جنہوں نے مشرف کے دور اقتدار میں مارشل لاء کے دور میں راولپنڈی میں نواز شریف کے حق میں آواز بلند کیا جس کی وجہ سے انہیں پابند سلاسل کی نوبتیں بھی کانٹی پڑی تمام مشکلات اور پابندیوں کے باوجود بھی ہر مشکل وقت میں اپنے پارٹی کا ساتھ نہ چھوڑا اوروزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا ساتھ دیتے رہے۔
بغیر کسی مفاد کے انہوں نے ایک حقیقی کارکن کی حیثیت سے بھی پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا پارٹی کو استحکام بخشا 2009ء پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں شفیق الدین پر جعفر اللہ خان کو ترجیح دیتے ہوئے اس معاہدے کی بنیاد پر ٹکٹ دیا کہ محمد شفیق الدین کو2015ء میں ہونے والے انتخابات میں ٹکٹ دیا جائے گا لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کی جماعت حکومت نہیں بناسکی اور 2015ء میں ہونے والے انتخابات میں محمد شفیق الدین کو معاہدے کے تحت ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ایک بار پھر ٹکٹ کی بازی جعفر اللہ لے اڑے جس سے محمد شفیق الدین نے بغاوت کے بجائے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور خاموشی سے پارٹی پالیسیوں کا فیصلہ من و عن قبول کیا لہٰذا وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن محمد شفیق الدین کو پارٹی خدمات کو دیکھتے ہوئے کونسل کے انتخابات میں ٹکٹ سے نوازے جس سے دیرینہ اور حقیقی کارکن کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔
حافظ حفیظ الرحمن ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں انہوں نے بھی ہمیشہ پاکستان مسلم لیگ ن کے حقیقی کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی ہے اسی طرح پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی پارٹی کے حقیقی کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اقتدار میں لایا جس سے پارٹی مضبوط ہوتی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کی پارٹی صرف پانچ سال اقتدار کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مستحکم پارٹی ہے جو پارٹی برسراقتدار آتی ہے وہ اپنے حقیقی کارکنوں کو کبھی نظر انداز نہیں کرتی لیکن یہاں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے حقیقی کارکن فٹ پاتھ پر ہوتے ہیں اور پیرا شوٹ کے ذریعے آنے والے کارکن اقتدار کے مزے لیتے ہیں پانچ سالہ دور اقتدار ختم ہوتے ہی ایسی پارٹی کو آئندہ الیکشن میں عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی مثال پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے جس کا نشانبھی صفہ ہستی سے مٹ جاتا ہے۔
جس طرح ثقافت کو بھولنے والے صفہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں اسی طرح پارٹی کے حقیقی کارکنوں کودیوار سے لگانے والی پارٹی کا وجود بھی ختم ہوجاتا ہے اور حقیقی کارکن ہی مشکل وقت میں پارٹی کے پرچم کو گرنے نہیں دیتے ہیں اور مفاد پرست اپنے مقصد پورا ہونے کے بعد پلٹ کردیکھتے بھی نہیں ہیں۔ پارٹی کے حقیقی کارکن ہی ہوتے ہیں جو پارٹی کا ساتھ دیتے ہیں الیکشن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں جوش و خروش سے مہم چلاتے ہیں۔
ضلع ہنزہ حلقہ 6میر غضنفر علی خان کے حلقے میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں حقیقی کارکنوں کو ٹکٹ دینا چاہئے یہاں پر بھی مختلف افواہیں پھیل رہی ہیں کہ ٹکٹ مورثی خاندان کو ملے گا۔
اگر مورثی سیاست قائم رہے گی تو مسلم لیگ ن کا نام بھی دیگر پارٹیوں کی طرح صفہ ہستی سے مٹ جائے گا اقتدار کو غریب تک پہنچا چاہئے نچلی سطح پر اقتدار پہنچے گی تو اس سے علاقے میں ترقی ہوگی علاقہ پھلے پھولے گا جب تک ہم میرٹ کا بول بالا نہیں کریں گے ہم ترقی نہیں کرسکتے ہیں پارٹی کے حقیقی کارکنوں کو آنے والے کونسل کے انتخابات میں ٹکٹ دے کر حقیقی کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی جائے جس سے پاکستان مسلم لیگ ن مزید مضبوط اور مستحکم ہوجائے گا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s