دیامر میں حالیہ تباہ کن بارش اور ڈی سی دیامر کا کردار تحریر:عمرفاروق فاروقی|PassuTimesاُردُو

Umoor Farooq Farooqiدیامر میں حالیہ تباہ کن بارش اور ڈی سی دیامر کا کردار
تحریر:عمرفاروق فاروقی|PassuTimesاُردُو

دیامر میں بارش کیا برسی ہر طرف قیامت ٹوٹ پڑی ۔، مسلسل ۳ دنوں تک جم کر قیامت بپا کرنے والی ہولناک اور تباکن بارشوں سے دیامر کے عوام کو اربوں روپے کا مالی نقصان پہنچ گیا ہے ۔ حالیہ بارشوں کی وجہ سے گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ نقصان ضلع دیامر میں ہوا ۔جہاں 16انسانی جانیں ضائع ہوگئی ہیں ،سینکڑوں گھر تباہ ہو چکے ہیں ،ہزاروں مال مویشی ہلاک ہوگئی ہے ، اور ہزاروں کنال اراضی تباہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہزاروں گھرانے متاثر ہو کر رہ گئے ہیں ۔دیامر کی تینوں تحصیلوں چلاس،داریل اور تانگیر میں گزشتہ روز کی بارش نے ہر طرف تباہی مچا کر رکھ دیا ہے ،تھک ،نیاٹ میں گزشتہ روز کی بارش کے وجہ سے برفانی تودہ گرنے سے بابوسر کے مقام پر سینکڑوں کنال قابل کاشت اراضی مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے اور سینکڑوں گھر زمین بوس ہوگئے ہیں ،بارش کی وجہ سے تھک ،لوشی،لیمت،دیورے،کوٹ، شراٹ جل،ڈسر،نیاٹ،گوشر،ملکوش،تھئے،گورمل،شمت،اور دیگر نالہ جات میں لوگوں کی ما ل مویشی اور مویشی خانے گر کر تباہ ہوچکے ہیں اور سینکڑوں گھروں کے دیواریں منہدم ہوچکی ہیں ۔گوہرآباد ،بونر،فارم،گئنی ،کھنر،بٹوگاہ،تھور،مکھلی،تھرلی اور دیگر چھوٹے بڑے نالہ جات میں سینکڑوں مکانات مکمل طور پر گر کر تباہ ہوچکے ہیں اور ایک بہت بڑی تعداد میں مال مویشی ہلاک اور قابل کاشت اراضی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔دیامر کی تحصیل داریل میں گزشتہ روز کی بارشوں نے ہر طرف تباہی مچا کر رکھ دیا ہے،بارش کا پانی داریل کے مختلف دیہاتوں میں داخل ہوکر سیلابی شکل اختیار کرگیا جس سے سینکڑوں گھرانے متاثر ہوکر رہ گئے ہیں ،ڈوڈیشال میں بارش کے باعث 7کلومیٹر تک رابطہ سڑک مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے ،جبکہ درجنوں گھر تباہ ہوچکے ہیں اور سینکڑوں کنال آباد زمین اور درخت تباہ ہوکر رہ گئے ہیں ۔داریل سمیگال،پھنگیچ،گماری،منیکال،یشوٹ اور کھنبری میں میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور سینکڑوں مال مویشی ہلاک ہوگئی ہے اور رابطہ سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہوگئی ہیں ،جس سے داریل کے بالائی علاقوں کا چلاس شہر سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔دیامر کی تحصیل تانگیر میں انسانی جانوں کے ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کی سینکڑوں کنال اراضی،مال مویشی،درخت اور مکانات گر کر تباہ ہوچکی ہیں۔

تانگیر لورک،جگلوٹ،شیخو،دمر،پھپٹ،درکلی،اور ستیل میں بارش اور برف باری کے بعد رابطہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ،او ر ا ان علاقوں میں بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہوچکا ہے ۔اور ذرائع مواصلات کا نظام بھی معطل ہے۔دیامر کی تحصیل چلاس میں عوام کو 30کروڈ سے زائد کا مالی نقصان پہنچا ہے،تحصیل داریل میں بھی لوگوں کے 30 کروڈ سے زائد کا نقصان ہوا ہے ،اور تحصیل تانگیر میں بارشوں کی تباکاریوں سے عوام کو 25کروڈ سے زیادہ مالیت کا مالی نقصان پہنچ چکا ہے ۔مجموعی طور پر دیامر بھر میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں عوام کو ایک ارب سے زائد کا مالی نقصان پہنچا ہے۔صوبائی حکومت نے8 روز گزر جانے کے باوجود بھی ہزاروں متاثرین کو بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے ز ندگی گزارنے پرمجبور کر دیا ہے ،دیامر کے دور افتادہ علاقوں میں سڑکوں کی بندش سے ایشائے خورد و نوش کی قلت پیدا ہوگئی ہے ، دیامر کی ضلعی انتظامیہ نے ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں دیامر کے تمام متاثرہ نالہ جات کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ،ڈی سی دیامر عثمان احمد پیدل دیامر کے گاوں گاوں جاکر متاثرین کی خیریت دریافت کیا اور ہنگامی بنیادوں پر متاثرین کو امدادی سامان اور ریلیف بھی پہنچا دیا ،اور تمام ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو الرٹ رکھ کر بارش سے تباہ شدہ لوگوں کے مسائل اور مشکلات کو دور کرنے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ضلع بھر میں ایمرجنسی نافظ کر دیا اور دن رات ایک کرکے مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کے مسائل اور مشکلات کو حل کر دیا۔حالیہ بارشوں سے تباہ شدہ دیامر کی تمام سڑکیں بری طرح متاثر ہوچکی تھی ،ڈپٹی کمشنر دیامر عثمان احمد نے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے بارش کے اندر پیدل چل کر شاہراہ قراقرم کو چلاس سے گلگت تک اور شتیال سے چلاس تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھلوادے کرمسافروں کے مشکلات آسان کر دیا ہے ۔اس وقت بھی ڈپٹی کمشنر دیامر عثمان احمد دیامر کے نالہ جات کو جانے والی رابطہ سڑکوں کی بحالی میں لگے ہوئے ہیں ۔ڈی سی کی جدو جہد سے بابوسر روڈلیمت تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے ،جبکہ داریل ،تانگیر اور کھنر ویلی کی سڑک کو کھولنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کام میں لگی ہوئی ہے ۔

دیامر میں یقیناًحالیہ بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہوئی ہے درجنوں گھروں میں صف ماتم ہے ،ایسے میں ڈی سی دیامر نے فوری طور پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرنے کے بعدان کو تنہا نہیں چھوڑا ،بلکہ ان متاثرہ خاندانوں کو سر چھپانے کیلئے چھت فراہم کیا ۔دیامر کے عوام عثمان احمد کا تو شکریا ادا کرتے ہیں ،لیکن صوبائی حکومت سے عوام اور متاثرین ہنوز مایوس دیکھائی دے رہے ہیں ۔ ڈپٹی کمشنر دیامر عثمان احمد کی اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کی بحالی کیلئے کام کرتے دیکھ کر گزشتہ روز صوبائی وزراء فرمان علی ،محمد وکیل اور حیدر خان نے چلاس تانگیر کا دورہ کیا اور حالیہ بارشوں میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے گھر جا کر اظہار تعزیت بھی کیا اور فاتحہ بھی پڑھی۔اس موقع پر صوبائی وزراء نے گلگت بلتستان کے متاثرین کیلئے ایک بڑی امدادی پیکیج دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہکہ صوبائی حکومت متاثرین کے مسائل سے غافل نہیں ہے بارشوں سے متاثرہ عوام کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں ،ن لیگ متاثرین کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گی، پیپلز پارٹی متاثرین کے نام پر سیاست کرنا چھوڑ دیں ،ن لیگ عوام کی خدمت کرنا جانتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم عوامی نمائندے ہیں اور عوام کے مسائل سے آگاہ ہیں ،کسی بھی متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،بارشوں سے متاثرہ ہر فرد کے گھر گھر جاکر ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے خصوصی ہدایت پر گلگت بلتستان کے حالیہ بارشوں سے متاثرہ ہر شخص کو مایوس نہیں کیا جائیگا،گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت جاری کر دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے نقصانات کا ایسسمنٹ کریں تاکہ صوبائی حکومت بروقت متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کرسکے گی۔ ماضی میں تانگیر کے عوامی نمائندوں نے تانگیر لورک کے عوام کو تنہا چھوڑ ،لیکن ن لیگ تانگیر کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی صوبائی وزراء کا کہنہ تھاکہ تانگیر لورک واٹر چینل ن لیگ کے دور حکومت میں ہی مکمل ہوگا ۔اس موقع پر وزیر جنگلات الحاج محمد وکیل حالیہ بارشوں سے متاثرہ لورک لور واٹر چینل کی مرمت کیلئے اپنے جیب سے ایک لاکھ روپے کا چیک متاثرین کو دے دیا اور کہا کہ تانگیر لورک کے عوام ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرکے واٹر چینل کو بحال کریں ۔ اس موقع پر صوبائی وزراء نے بھی بارشوں کے بعد ہنگامی صورت حال سے نمٹنے پر ڈی سی دیامر کے کوشیشوں کو سراہا ۔صوبائی وزراء کا دورہ دیامر خوش آئند ضرور ہے ،لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت حالیہ تباہیوں سے نمٹنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور متاثرین کے نقصانات کے ازالے کیلئے کیئے گئے اعلانات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں ۔اور گزشتہ سال کے سیلاب سے متاثرہ لوگ اب بھی امدادی سامان سے محروم ہیں ،اُن متاثرین کے نقصانات کا بھی ازالہ انتہائی ضروری ہے۔حالیہ بارشوں سے شاہراہ قراقرم بھی متعدد مقامات پر ایک ہفتے سے بلاک ہے ،جس کی وجہ سے گلگت بلتستان میں غذائی قلت اور قحط کی سی صوت حال پیدا ہوگئی۔گلگت بلتستان حکومت کو چاہے کہ وہ خطے میں پیدا ہونے والی صورت حال پر بروقت قابو پانے کیلئے اقدامات اُٹھائیں ۔صوبائی حکومت اب تک عملی طور پر متحرک دیکھائی نہیں دے رہی ہے ۔گلگت،سکردو،چلاس ،غذر اور استور میں غذائی قلت کی وجہ سے عوام سراپا احتجاج ہیں ۔دیامر میں 13سو بوریاں گندم کی سٹاک رہ گئی ۔صوبائی حکومت شاہراہ قراقرم کھلنے کا انتظار کئے بغیر بذریعہ ہیلی گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں ایشیائے خوردو نوش اور گندم پہنچا کر عوام کے مشکلات کو دور کیا جائے۔


پھسو ٹائمز اُردُو کی اشاعت مورخہ 11 اپریل، 2016ء
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s