چلاس: شاہراہ قراقرم 11روز گزرنے کے بعد بھی کھل نہ سکا گلگت بلتستان سے راولپنڈی جانے والے سینکڑوں مسافر اورمریض شدید پریشانی کے عالم میں مبتلا ہیں|PassuTimesاُردُو

1480491_1153324588031177_6835270765763418069_n

فائل فوٹو سلام گلگت بلتستان فیس بک پیج سے

چلاس: پیر، 11 اپریل، 2016ء – پھسو ٹائمز اُردُو (عمر فاروق فاروقی) شاہراہ قراقرم 11روز گزرنے کے بعد بھی کھل نہ سکا گلگت بلتستان سے راولپنڈی جانے والے سینکڑوں مسافر اورمریض شدید پریشانی کے عالم میں مبتلا ہیں ۔ضلع دیامر سمیت گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں قحط کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے،بازاروں میں ایشیائے خورد ونوش کی قلت کے باعث لوگوں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آچکی ہے۔چلاس بازار میں اشیائے ضروریہ کی تمام چیزیں ختم ہونے سے شہری سنگین مشکلات اور مسائل سے دوچار ہیں ۔شاہراہ قراقرم کی بندش سے گلگت بلتستان میں غذائی بحران نے شدت اختیار کر گیا ہے ،صوبائی حکومت غذائی بحران پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی ہے ،چلاس ،داریل ،تانگیر سمیت ضلع گلگت ،سکردو غذر،استور اور ہنزہ نگرکے عوام کی مشکلات میں روز بروز آضافہ ہوتا جارہا ہے ،مگرصوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہے ۔ متاثرین کا کہنہ ہے کہ دیامر کے بالائی علاقوں میں بروقت گندم کی فراہمی انتہائی ضروری ہے ،بالائی علاقوں میں مقیم عوام کو بروقت اشیائے خورد و نوش پہنچا کر عوام اور متاثرین کے مسائل حل کیا جائے۔ذرائع کے مطابق آئندہ90گھنٹوں کے اندر اندر شاہراہ قراقرم کو گلگت سے راولپنڈی تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دیا جائیگا۔مسافروں کا کہنہ ہے چلاس سے اسلام آباد تک ہنگامی بنیادوں پر ہیلی سروس کا آغاز کیا جائے ،تاکہ مسافروں کے مشکلات میں کمی آسکے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s