عوامی ایکشن کمیٹی کو سلام|ڈاکٹر محمد زمان داریلی |پھسو ٹائمز اُردُو

Dr zanan 7عوامی ایکشن کمیٹی کو سلام|ڈاکٹر محمد زمان داریلی |پھسو ٹائمز اُردُو

  سن 2014ء میں وفاق میں پانامہ لیک اور گلگت بلتستان میں سرے لیک کا مک مکا چل رہا تھا عوامی ایکشن کمیٹی نے عوامی حقوق کے لئے پر امن احتجاجی تحریک کا آغاز کیا تھا عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں سب سے پہلی ڈیمانڈ سبسڈی کی بحالی تھی . باقی بے شمار مطالبات تھے اخباری بیانات گزارشات پر حکومت نے کان نہیں دھرے تو ایکشن کمیٹی کے رھنماوُں نے عوام کو سڑکوں پر احتجاج کی کال دی سوائے رائیونڈ کر درباریوں اور نوڈیرو کے مجاوروں کے سیاچن سے داریل تک شندور سے دیو سائ تک منی مرگ سے خنجراب تک عوام نے فرقہ واریت کی دیواروں کو گرا کر یکجا ھو کر احتجاج شروع کیا حکومت وقت نے عوامی احتجاج کو کووُں کا جرگہ سمجھا .جس طرح آج کشیروٹ سرکار چارٹر آف ڈیمانڈ دیکھنا گوارا نہیں کرتی مہدی شاہ سرکار بھی عوامی مطالبات ماننا تو دور کی بات سننا یا دیکھنا بھی اپنی توہین سمجھتی تھی . عوام کا گھڑی باغ میں احتجاجی دھرنا شروع تھا میں مہدی شاہ ناکام اعلی سے ملنے ان کے دفتر چنار باغ میں جا کر سمجھانے کی کوشش کی اور عرض کیا ایکشن کمیٹی کے چند مطالبات مانی جائے جس میں سے گندم سبسڈی پہلے نمبر پر تھا مگر مہدی شاہ نہ مانے . دوران گفتگو مختلف اضلاع سے نوکر شاہی کے فون موصول ھو رھے تھے حاکم وقت کو نوکر شاہی احتجاجیوں کی تعداد اور طاقت کی اطلاع دے رھے تھے مہدی شاہ نوکر شاہی کے فون سن کر خوش ھوتے تھے اور احتجاج دنوں میں ختم ھونے کی پیشنگوئیاں کرتے تھے میں نے کہا آپ کوعوامی طاقت کا صحیی اندازہ نہیں مگر وہ نہ مانا عوام نے گھڑی باغ میں بستر لگا دیا گلگت چلو گلگت بھرو جیل بھرو کی کال دی عوام نے ڈنڈے ہاتھوں میں لے کر گلگت کی طرف مارچ شروع کیا . تب حکمرانوں کی آنکھیں کھلی پر بہت دیر ھو چکی تھی .اب حکمران بات چیت پر آمادہ تھی پر عوام ماننے کو تیار نہ تھی . آخر کار دیامر کی عوام شاہرائے ریشم کو بلاک کر کے دھرنا دے کر بیٹھی تھی میں نے مہدی شاہ کا نمبر ملایا فون اٹھایا تو میں نے کہا عوام سے بات کرو قوم آپ کی آواز سن رہی ھے اسطرح اچانک فون اور عوام سے مخاطب مہدی شاہ حواس باخطہ ھو گئے عوام کو مطمعن نہ کر سکے اور عوام نے گلگت کی طرف لانگ مارچ شروع کیا عوامی تیور دیکھ کر وفاق نے مداخلت کی عوامی کمیٹی کے نمائندوں کو اسلام آباد بلایا گیا گندم سبسڈی کا مطالبہ فوری منظور کیا گیا باقی مطالبات پر غور کا وعدہ کیا گیا سبسڈی مطالبے کی منظوری کے بعد مشاورت کے بعد احتجاج اور دھرنا وقتی طور پر ختم کیا گیا وقت گزرتا گیا حکومت نے باقی مطالبات پر عمل درآمد نہیں کیا اب عوامی ایکشن کمیٹی دوبارہ میدان عمل میں اترنے کے لئے کمر کس چکی ھے کشیروٹ سرکار مطالبات دیکھنے کو تیار نہیں عوامی ایکشن کمیٹی 2014 سے کئ گنا مظبوط ھے پانامہ لیک ایکشن کمیٹی کی بات سن لے اسی میں اس کی بہتری اور عزت ھے ورنا اب کی بار احتجاج صرف گلگت بلتستانسڑکوں تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان اور دنیا بھر میں آواز اٹھے گی . گلگت بلتستان میں ایک سال سے امن بھائ چارہ پیدا کرنے کا سارا کریڈٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو جاتا ھے . پانامہ لیکی درباری عوامی ایکشن کمیٹی کی کار کردگی اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش نہ کرے عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے عوام کی آواز ھے دلوں کی دھڑکن ھے گھڑی باغ میں عوامی عدالت لگے گی تو لگ پتہ جائے گا . اس سے پہلے کے عوامی ایکشن کمیٹی عوامی طاقت سے کٹھ پتلیوں کی بھڑ کوں کو پاوُں تلے کچل دے عوامی کمیٹی کی جائز مطالبات کو مان لے پھر نہ کہنا خبر نہ ھو ۔


لکھار انٹر نیشنل کوارڈینیٹر برائے عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان چئیر مین عوامی مفاہمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و آذاد جموں اینڈ کشمیر رب راکھا

پھسو ٹائمز اُردُو کی اشاعت مورخہ 16 اپریل، 2016ء
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s